خبریں/تبصرے

تصویر میں شامل خواتین جنگ آزادی کی جنگجو نہیں، مذہب کی تبدیلی کا دعویٰ بھی غلط

لاہور (جدوجہد رپورٹ) وشوا ہندو کے ترجمان شری راج نائر نے حال ہی میں دو تصاویر کو سوشل میڈیا پرشیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ ایک تصویر 1971ء میں بنگلہ دیش کی آزادی کی جنگ میں شریک 4 آزادی کی جنگجو خواتین کی ہے اور دوسری 50 سال بعد حال ہی میں لی گئی ہے جب وہی خواتین ایک مرتبہ پھر رائفلیں لیکر حجاب میں ایک گاڑی میں سوار ہیں۔ ان 2 تصاویر میں سے پہلی تصویر بلیک اینڈ وائٹ تھی جس میں چار نوجوان خواتین ایک جیپ میں رائفلیں اٹھائے بیٹھی نظر آتی ہیں، دوسری تصویر رنگین تھی جس میں معمر خواتین اسی جیپ میں انہی رائفلوں کے ہمراہ بیٹھی نظر آتی ہیں، دونوں تصویروں میں عمر کے فرق کے علاوہ ایک فرق یہ بھی ہے کہ ایک تصویر میں خواتین کے سروں پر دوپٹہ بھی نہیں ہے جبکہ دوسری تصویر میں خواتین نے حجاب پہنے ہوئے ہیں۔

شری راج نائر کی شیئر کردہ تصاویر دیکھتے ہی دیکھتے سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئیں اور بھارت بھر میں ان تصاویر سے متعلق سوشل میڈیا صارفین نے دعویٰ کرنا شروع کر دیا کہ یہ عورتیں دراصل ہندو تھیں اور بنگلہ دیش کی آزادی کے بعد انہیں جبری طور پر مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کیا گیا۔ ایک سوشل میڈیا صارف نے لکھا کہ ”بنگلہ دیش میں ہندوؤں پر مظالم کی تصویر…مذکورہ تصویر 1971ء کی بنگلہ دیش کی تحریک آزادی کے دوران لی گئی تھی جب یہ خواتین ہندو تھیں لیکن جب ان خواتین نے آج دوبارہ تصویر بنائی تو تب وہ اسلام قبول کر چکی تھیں۔“

اے ایل ٹی نیوز کے مطابق تحقیق پر معلوم ہوا کہ یہ تصویر بنگلہ دیش اولڈ فوٹو آرکائیو نامی پیج پر رینن احمد نے اپلوڈ کی تھی۔ رینن احمد نے اپنی پروفائل پر بھی بلیک اینڈ وائٹ تصویر کو اگست 2020ء میں 1961ء کے عنوان سے شیئر کیا تھا۔ رینن احمد کی فیس بک ٹائم لائن پر دیگر خواتین کی بھی متعدد تصاویر موجود ہیں۔

رینن احمد سے تصاویر کی معلومات حاصل کرنے پرانہوں نے بتایا کہ ”تصویرمیں ڈرائیور کی سیٹ پر بیٹھی خاتون میری دادی رکیہ احمد ہیں، دیگر 3 خواتین عائشہ، رشیدہ احمد اور شاہانہ احمد ہیں۔ یہ تصویر میرے دادا نے 1961ء میں لی تھی، گزشتہ سال میرے دادا فوت ہو گئے۔“

انہوں نے واضح کیا کہ ”زیر بحث تصویر کا 1971ء کی جنگ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ میرے پاس اب بھی یہ جیپ گھر میں ہے، ہم ایسی کلاسک کاریں اکٹھی کرنا چاہتے ہیں۔ یہ رائفلیں ہمارے دادا دادی کے وقت کے دوران شکار کیلئے استعمال کی جاتی تھیں۔ اس پرانی تصویر کو میری دادی اور دیگر خواتین نے 2017ء میں اسی طرح سے دوبارہ بنوایا تھا۔“

رینن احمد نے اس دعوے کی بھی تردید کی کہ یہ خواتین ہندو تھیں جنہوں نے اسلام قبول کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ”تمام خواتین پیدائشی طو رپر مسلمان تھیں۔ تصویرمیں موجود میری دادی کے علاوہ دیگر خواتین بھی ہماری رشتے دار ہیں، جن میں سے صرف ایک ہی ابھی زندہ ہیں۔ ہمارے دادا دہلی میں رہتے تھے اوراپنا کاروبار کرتے تھے، ہمارا خاندان 1947ء میں ہندوستان کی تقسیم کے بعد بنگلہ دیش میں آباد ہو گیا تھا۔“