خبریں/تبصرے

پاکستان میں سیاسی مخالفین کو غدار قرار دینے کا رجحان بڑھ گیا ہے: ہیومن رائٹس واچ

لاہور (جدوجہد رپورٹ) انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ہیومن رائٹس واچ (ایچ آر ڈبلیو) کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں اختلاف رائے کو دبانے کیلئے سنگین غداری اور انسداد دہشت گردی سمیت دیگر سخت قوانین کا استعمال کیا جا رہا ہے، جبکہ بھارت میں حکومت مذہبی اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔

’ڈان‘ میں شائع ہونے والی رپورٹ میں 2021ء میں پیش آنے والے واقعات کا احاطہ کیا گیا ہے۔ پاکستان سے متعلق ایک الگ باب لکھا گیا ہے، رپورٹ کے مطابق پاکستانی حکام نے اختلاف رائے کو دبانے کیلئے سنگین غداری اور انسداد دہشت گردی کے قوانین کے استعمال کو بڑھایا اور حکومتی اقدامات اور پالیسیوں پر تنقید کرنے والے سول سوسائٹی گروپوں کو سختی سے کنٹرول کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق سال 2021ء کے دوران پاکستانی حکام نے میڈیا اراکین اور مخالف سیاسی جماعتوں کے حامیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا۔

رپورٹ میں بھارت سے متعلق بھی کہا گیا ہے کہ بھارتی حکومت ایسے قوانین اور پالیسیاں اپنا رہی ہے جو مذہبی اقلیتوں، خاص طور پر مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کے مترادف ہے۔

بھارتی حکومت کے اپنائے گئے قوانین اور پالیسیوں کی وجہ سے مسلمانوں کی توہین اور تشدد کرنے والوں کے خلاف کارروائی میں پولیس کی ناکامی کے علاوہ ہندو قوم پرست گروہوں اور بی جے پی رہنماؤں کو مسلمانوں اور حکومتی ناقدین پر بے رحمی کے ساتھ حملہ کرنے کی ہمت ملی۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال کے دوران آمریت کو عروج اور جمہوریت کو زوال کا سامنا رہا، تاہم اس سال نے پوری دنیا میں جمہوری قوتوں کو بھی متحرک کیا۔

رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ چین، روس، بیلا روس، میانمار، ترکی، تھائی لینڈ، مصر، یوگینڈا، سری لنکا، بنگلہ دیش، وینزویلا اور نکاراگوا میں اپوزیشن کی آوازوں کے خلاف کریک ڈاؤن میں تیزی آئی اور آمرانہ اقدامات میں اضافہ کیا گیا۔

میانمار، سوڈان، مالی اور گنی میں فوجی قبضے اور تیونس اور چاڈ میں اقتدار کی غیر جمہوری منتقلی بھی اس نظریے کی تائید کرتی ہے۔