دنیا

لیفٹ کو بیجنگ ونٹر اولمپکس کی مخالفت کیوں کرنی چاہئے

شی جن

ترجمہ: فاروق سلہریا

عام طور پر لوگ سرمائی اولمپکس میں زیادہ دلچسپی نہیں لیتے۔ دنیا کی اکثریت ایسے ممالک میں رہتی ہے جہاں اتنی برف ہی نہیں پڑتی کہ سکینگ کی جا سکے یا یہ کہ جھیلیں منجمد ہو جائیں اور آئس سکیٹنگ کی جا سکے۔

میں شمالی چین میں پلا بڑھا جہاں کافی سردی پڑتی ہے اور کچھ دن برف باری بھی ہوتی ہے۔ میرے بچپن میں برفباری کے دنوں میں مقبول ترین کھیل ایک دوسرے کو برف کے گولے مارنا ہوتا تھا یا برفیلے راستوں پر سائیکل چلا کر سکول جانا اور پھسل کر سائیکل سے گرنا ایک دلچسپ سرمائی مہم ہوتی تھی۔

2022ء میں ہونے والے سرمائی بیجنگ اولمپکس البتہ اس وقت ایک عالمی موضوع بحث ہیں۔ ایک طرف تو میزبان ملک نے بھرپور کوشش کی ہے کہ ان اولمپکس کو ایک تاریخی واقعہ بنا دیں۔ دوسری طرف چین کے حریف، جن میں سر فہرست امریکہ ہے، اس تقریب کا بائیکاٹ کر کے چین کی کوششوں کو ناکام بنانے پر تلے ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ’سفارتی بائیکاٹ‘ سامراجی سوپ اوپرا کی نئی قسط ہے۔ اس میں بھی شک نہیں کہ بائیں بازو کو بھی ان دونوں میں سے کسی کا بھی ساتھ نہیں دینا چاہئے۔

ہاں مگر بائیں بازو کو کچھ تو کہنا چاہئے کیونکہ اگر ایسے وقت میں کہ جب رائٹ ونگ انسانی حقوق کا بہت شور مچا رہے ہیں بایاں بازو چپ رہا تو یوں لگے گا گویا ہم چینی کیمونسٹ پارٹی (سی سی پی) کے بیانئے کی حمایت کر رہے ہیں۔ بائیں بازو کو ان اولمپکس کی اپنی منطق کے ساتھ مخالفت کرنی چاہئے۔

بائیں بازو کا روایتی موقف

اولمپکس کے خلاف بائیں بازو کی طرف سے منظم احتجاج کی تاریخ کافی پرانی ہے۔ 1936ء اولمپکس کے خلاف احتجاج سے اس تاریخ کا آغاز ہوتا ہے کہ جب برلن میں نازی حکومت کے تحت ہونے والے اولمپکس کے خلاف ٹریڈ یونینز، مزدور تنظیموں، یہودی گروہوں اور بائیں بازو کی جماعتوں نے بارسلونا میں بارسلونا پیپلز اولمپکس منعقد کرنے کا اعلان کیا (بد قسمتی سے یہ اولمپکس منعقد نہ ہو سکے۔ مقررہ تاریخ سے دو دن قبل انہیں منسوخ کرنا پرا کیونکہ سپین میں فرانکو کی بغاوت کی وجہ سے یہ ممکن نہ رہا)۔

اکیسویں صدی میں کھیلوں کے تمام عالمی مقابلے اربوں روپے کا کاروبار بن گئے ہیں۔ یہ مقابلے سرمایہ داری نظام کے بدترین کرتوتوں کا نمونہ ہیں۔ ان کھیلوں کا مطلب ہے کہ یہ مقابلے اربوں روپے برباد کرنے والے منصوبے ہیں۔ ان مقابلوں کے نام پر اربوں کی کرپشن ہوتی ہے۔ بجٹ پر بوجھ پڑتا ہے۔ قیمتی وسائل برباد ہوتے ہیں۔ لیبر حقوق کی خلاف ورزیاں ہوتی ہیں۔ غریب محلے زبردستی اجاڑ دئے جاتے ہیں۔ ماحولیات کی تباہی ہوتی ہے۔ غیر جمہوری فیصلے لئے جاتے ہیں۔ قومی بنیادوں پر نفرت اور جنون پھیلایا جاتا ہے۔ نشے کے استعمال میں اضافہ ہوتا ہے۔ عام لوگوں کی زندگیاں درہم برہم ہو جاتی ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ ایتھنز سے لندن تک، رئیو ڈی جنیرو سے ٹوکیو تک، جہاں بھی اولمپکس کا انعقاد ہوا، وہاں شہریوں نے ان کے خلاف احتجاج کیا۔ ہاں بیجنگ 2008ء کے اولمپکس میں احتجاج دیکھنے میں نہیں آیا تھا۔ چین کے لوگوں کے پاس بھی ان اولمپکس کے خلاف احتجاج کرنے کی کئی وجوہات تھیں مگر کوئی قابل ذکر مظاہرہ نہیں ہوا۔ وجہ اس کی یہ تھی کہ چینی ریاست نہ تو کسی قسم کا احتجاج برداشت کرنے پر تیار تھی نہ ہی احتجاج کو کچلنے کے لئے طاقت کے استعمال سے کسی قسم کا گریز کیا گیا۔

2022ء میں تو لوگوں کی بے چینی اور غصے میں اور بھی اضافہ ہو چکا ہے۔ سرمائی اولپکس پر اربوں خرچ ہو گئے (۱) مگر ساٹھ کروڑ چینیوں کی ماہانہ آمدن 140 ڈالر ہے، بمشکل (۲) بیجنگ اولمپک ویلج نامی بلبلے کے اندر روبوٹ کھانا (۳) مہمانوں کو پیش کر رہے ہیں تا کہ کرونا نہ پھیلے۔ ادہر چند ہزار کلومیٹر دور عورت کے گلے میں زنجیر ڈال کر باندھ دیا گیا ہے تا کہ وہ بچہ پیدا کرنے والی مشین کے طور پر کام کر سکے(۴)۔

افتتاحی تقریب میں چینی صدر شی جن پنگ کو ایک شہنشاہ کی طرح پوجا گیا جبکہ عام شہریوں کو اولمپکس بارے بات کرنے پر سوشل میڈیا پر بھی سنسر شپ کا سامنا کرنا پڑا (جی ہاں! آپ چینی زبان میں ونٹر اولمپکس کا لفظ ہی پوسٹ نہیں کر سکتے)۔

اس لئے بائیں بازو کا روایتی موقف صرف بائیکاٹ تک محدود نہیں ہونا چاہئے (عام لوگ تو ان بیجنگ اولپکس کو دیکھنے بھی نہیں جا سکتے)۔ ہمیں بیجنگ اولمپکس کے انعقاد ہی کی مخالفت کرنی چاہئے اور مطالبہ کرنا چاہئے کہ موجودہ اولمپک ایمپائر ہی ختم کی جائے۔ دنیا کو ایک نئی طرز کے عالمی کھیلوں کے مقابلے درکار ہیں۔ ایسے مقابلے جن کا انعقاد جمہوری طور پرکیا جائے، جن سے ماحولیات کی تباہی نہ ہو، جن سے عام شہری مستفید ہوں اور جن کے نتیجے میں امیر مزید امیر نہ ہوں۔

سیاسی کھیل

سی سی پی نے مغرب کے ’سفارتی بائیکاٹ‘ کی مذمت کرتے ہوئے اسے کھیلوں کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش قرار دیا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ سی سی پی نے اندرونی طور پر سرمائی اولمپکس کو سیاسی رنگ خود ہی لمبا عرصہ قبل دینا شروع کیا تھا۔ موجودہ اولمپکس کے کچھ کھیل ہیبائی صوبے کے شہر ژیانگ ژیا کو میں منعقد ہو رہے ہیں۔ ’ہیبائی ڈیلی‘میں شائع ہونے والے ایک مضمون کے مطابق:

’2022ء بیجنگ ونٹر اولمپکس اور پیرا اولمپکس ایک قومی تقریب ہے جسے جنرل سیکرٹری ژی شن پنگ ذاتی طور پر منعقد کروا رہے ہیں، یہ مشن ایک سیاسی مشن کے طور پر پارٹی کی سنٹرل کمیٹی کی جانب سے ہیبائی کو سونپا گیا ہے‘۔

سچ تو یہ ہے کہ ساری نوکر شاہی کو اس اولمپکس کی سیاسی اہمیت بارے ذہنی تربیت دی گئی ہے۔ 2020ء میں ان اولمپکس کی تیاری کے سلسلے میں ہونے والے ایک ابتدائی اجلاس میں چین کی سول ایوی ایشن انتظامیہ کے انڈمنسٹریٹر نے کہا تھا:

’بیجنگ ونٹر اولمپکس کے دوران سول ایوی ایشن کا نظام ائر پورٹ پر دی جانے والی خدمات کی سیاسی اہمیت کو سمجھے۔ یہ کام محض پیشہ وارانہ نہیں ہے بلکہ پارٹی کی سنٹرل کمیٹی کی جانب سے سونپا گیا اہم ترین سیاسی کام ہے۔ اگلے دو سالوں میں اولمپکس کا انعقاد سول ایوی ایشن کا یہ اہم ترین سیاسی کام ہو گا‘۔

ایک اور موقع پر ’سٹیٹ اُونڈ ایسٹس پر ویژن اینڈ ایڈمنسٹریشن کمیشن آف دی سٹیٹ کونسل‘کے پارٹی سیکرٹری نے کہا:

’پارٹی کی سنٹرل کمیٹی،جس میں صدر ژی جن پنگ کو مرکزی اہمیت حاصل ہے، سرمائی اولمپکس کی تیاری کو ازحد اہمیت دیتی ہے۔ مرکزی حکومت کے زیر اہتمام چلنے والے اداروں نے ان اولمپکس کے لئے بننے والی عمارتوں اور سہولتوں کو ہمیشہ بہت زیادہ سیاسی اہمیت دی ہے اور اس ضمن میں کئی کامیابیاں حاصل کی ہیں‘۔

اگر کھیلوں کو سیاسی رنگ دینا بری بات ہے تو مندرجہ بالا بیانات بارے کیا رائے ہے؟ آئیے تسلیم کیجئے کہ بیجنگ اولمپکس شروع سے ہی سیاسی کھیل ہے۔ اس لئے لوگوں کو سیاسی بنیادوں پر ان کھیلوں کی مخالفت کرنے کا حق حاصل ہے۔

مزید براں: سی سی پی چونکہ اپنے پراپیگنڈے میں بائیں بازو کی زبان استعمال کرتی ہے۔ قدرتی سی بات ہے یہ پراپیگنڈہ لیفٹ کے خلاف استعمال ہو گا۔ اس لئے ان اولمپکس کی مخالفت کا مطلب ہے کہ حقیقی سوشلسٹ نظریات اور چین کے دھوکہ باز سوشلزم کے مابین لکیر کھینچی جائے۔

دنیا دیکھ رہی ہے

حقیقت یہ ہے کہ بایاں بازو عمومی طور پر کسی کو بھی قائل نہیں کر سکتا ہے (انٹرپرائزز، اولمپک اہلکار، کھلاڑی، تماشائی، رضاکارانہ طور پر کام کرنے والے وغیرہ) کہ وہ ان اولمپکس میں حصہ نہ لیں۔ بطور بایاں بازو اگر کوئی ’بائیکاٹ‘ہم کر سکتے ہیں تو یہ ہے کہ ٹی وی پر ان کھیلوں کو نہ دیکھیں یا سوشل میڈیا پر ان اولمپکس کے لئے ’لائک‘ کا بٹن نہ دبائیں (سی سی پی کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا)۔

بہرحال ہم یہ پہل تو کر سکتے ہیں کہ ان اولمپکس کی منافقت اور اس کے تضادات کو آشکار کریں، جو خوشی منائی جا رہی اس کے پردے میں چھپے غصے کو بے نقاب کریں، اس عرصے میں جو سنسر شپ ہو رہی ہے اس کا تذکرہ کریں، قوم پرستی کا جو بخار چڑھا ہوا ہے اس کا مذاق اڑائیں…

پر زور انداز میں ان کھیلوں کی مخالفت کر کے ان لوگوں کی توجہ، جو ان اولمپکس کو دیکھنے میں مشغول ہیں، اس جانب بھی دلائی جائے کہ چین میں کتنے ہی المئے پنپ رہے ہیں جن سے سی سی پی آپ کی توجہ ہٹانا چاہتی ہے۔ ان میں لسانی اقلیتوں کے ساتھ ہونے والا سلوک ہے، پنگ شوائی، ہانگ کانگ، عورتوں کی زبوں حالی، کرونا لاکڈاونز کی وجہ سے پھیلنے والے بھوک اور مصائب، انسانوں کی سمگلنگ، طویل اوقات کار، مزدوروں کی بے دخلیاں، تنخواہوں میں کٹوتیاں، مہنگائی…

بیجنگ اولمپکس کی مخالفت سامراج کی حمایت ہے؟

چین کی حکومت امریکہ میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر سالانہ رپورٹ شائع کرتی ہے جبکہ چین کا ریاستی میڈیا بلیک لائیوز میٹر کی بر وقت کوریج کرتا ہے۔ کیا ہم انسانی حقوق کی ان خلاف ورزیوں پر اس لئے خاموش رہیں کہ ان کی مذمت کرنے سے ہم سی سی پی کے آمرانہ اقتدار کے حامی قرار پائیں گے؟

مغرب کی نیت جو بھی ہو، جب مغرب چین میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بات کرتا ہے تو اس کی وجہ سے پوری دنیا کی توجہ مبذول ہوتی ہے۔ یہی بات اولمپکس بارے بھی کی جا سکتی ہے۔ ہمیں اولمپک کے موقع پر چین بارے اپنے نقطہ نظر کو کھل کر بیان کرنا چاہئے تا کہ ہماری بات زیادہ لوگوں تک پہنچ سکے۔

حوالہ جات
۱۔https://www.smithsonianmag.com/history/protest-olympics-never-came-be-180978179/

۲۔https://www.caixinglobal.com/2020-06-06/opinion-china-has-600-million-people-with-monthly-income-less-than-141-is-that-true-101564071.html

۳۔https://www.today.com/food/news/robot-servers-beijing-olympics-rcna14008
۴۔https://www.bbc.com/news/uk-60194080

بشکریہ: انٹرنیشنل وئیو پوائنٹ (انٹرنیشنل وئیو پوائنٹ چوتھی انٹرنیشنل کا ترجمان ہے)