پاکستان

سیاحت پر قبضے کا منصوبہ: ٹورازم ڈویلپمنٹ اتھارٹی کیلئے مجوزہ بل کا مکمل مسودہ منظر عام پر آ گیا

مظفر آباد (حارث قدیر) پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر کی حکومت کی جانب سے سیاحتی مقامات کو نجی سرمایہ کاروں اور مبینہ طور پر عسکری اداروں کے حوالے کئے جانے کے منصوبے کیلئے تیار کئے گئے مجوزہ ترمیمی ایکٹ کا مکمل مسودہ منظر عام پر آ گیا ہے۔

مسودہ کے مطابق اس ایکٹ کو ’ٹورازم پروموشن ترمیمی ایکٹ 2022ء قرار دیا جائے گا، اس بل کے تحت ٹورازم پروموشن ایکٹ 2019ء میں ترامیم تجویز کی گئی ہیں۔

مسودہ کے مطابق سپیشل ٹورازم زون میں سرمایہ کاروں کی پروجیکٹ ڈویلپمنٹ ایکٹیوٹیز کیلئے یقینی بنایا جائے گا کہ وہ بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہیں۔

حکومتی ایجنسی ٹورازم پروموشن کیلئے جگہ کی شناخت، منصوبہ وضع کرے گی اور پبلک ٹینڈرنگ کے ذریعے سرمایہ کاری کے پروپوزل حاصل کئے جائیں گے۔

نجی سرمایہ کار ’غیر مطلوب‘سرمایہ کاری کے پروپوزل بھی دے سکیں گے، یعنی جو منصوبہ حکومتی ایجنسی نے وضع نہ کیا ہو، اس سے متعلق بھی پروپوزل بنا کر دیا جا سکے گا۔ اگر کوئی غیر مطلوب پروپوزل جمع کروایا جائے گا، تو اس کیلئے اتھارٹی پراجیکٹ پلاننگ یونٹ کے طور پر کام کرے گی۔

ترمیمی ایکٹ میں سیکشن 10 کے بعد 10 اے سے 10 جی تک نئے سیکشن شامل کئے گئے ہیں۔

ایکٹ کے تحت ’سپیشل ٹورازم زون ڈویلپمنٹ اتھارٹی‘قائم کی جائیگی۔ حکومت اس ایکٹ کے تحت ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے اس اتھارٹی کو قائم کرے گی۔ یہ اتھارٹی حکومت کی طرف سے سپیشل ٹورازم زون قرار دیئے گئے علاقوں میں سرگرمیوں کی پلاننگ، انتظام، انصرام اور سپرویژن کے علاوہ مانیٹرنگ بھی کرے گی۔

سپیشل ٹورازم زون ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے 10 اراکین اور ایک چیئرمین ہونگے۔ ان 10 اراکین میں فوج کے دو نمائندے (جنہیں 12 ڈویژن نامزد کرے گی)، ڈائریکٹر جنرل ٹورازم، متعلقہ ڈویژن کے کمشنر، چیف کنزرویٹر فاریسٹ، چیف انجینئر سی اینڈ ڈبلیو، ڈائریکٹر جنرل انوائرنمنٹ، ڈائریکٹر جنرل معدنی وسائل، ایڈیشنل سیکرٹری لا، ڈپٹی سیکرٹری ٹورازم شامل ہونگے۔ چیئرمین کی تقرری حکومت وقت کرے گی۔ اتھارٹی ماہر یا ٹیکنیکل ممبر کا تقرر حکومت کی پیشگی منظوری کے ذریعے سے کر سکے گی۔

یہ اتھارٹی ایک کارپوریٹ باڈی ہو گی، جس کی دائمی جانشینی اور مشترکہ مہر ہو گی۔ اس کے نام پر منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد حاصل کرنے، رکھنے اور تصرف کرنے کا اختیار ہو گا، اس کے نام سے اور اس کے خلاف مقدمہ چلایا جا سکے گا۔

اتھارٹی کے تمام فیصلہ جات رکنیت کی اکثریتی رائے دہی کے ذریعے سے ہونگے۔ اتھارٹی سہ ماہی بنیادوں پر میٹنگ کرے گی۔

سپیشل ٹورازم زون سے متعلق تمام معاملات اور پراجیکٹ ڈویلپمنٹ ایکٹویٹیز کو بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رکھنے کیلئے ’ون ونڈو آپریشن‘ کیا جائے گا۔ کوئی بھی بڑا فیصلہ حکومتی منظوری یا متعلقہ ذمہ داران کی جانب سے 21 دن کے اندر لیا جائے گا۔ سٹیٹ ٹورازم ایگزیکٹو کمیٹی ’اتھارٹی‘کے پراجیکٹ سے متعلق تمام معاملات میں سہولت کار ہو گی۔

اتھارٹی اپنی حدود میں سیاحت، ثقافت، ورثے، ثقافتی روایت، اقدار، تہواروں اور بولیوں کو فروغ دے گی، محفوظ کرے گی اور احیا کرے گی۔ سپیشل ٹورازم زون کی شناخت و تعین کریگی۔ اتھارٹی سپیشل ٹورازم زون کے اندر سروے پلان، باؤنڈری مارکنگ اور ٹورازم انٹرپرائزز کیلئے موقع کی صلاحیت کی شناخت کرے گی۔ ہائی کوالٹی ٹورازم سیکٹر کی ڈویلپمنٹ کو یقینی بنائے گی۔

سٹیٹ ٹورازم ایگزیکٹو کمیٹی کو پراجیکٹ ڈیزائن، منظوری اور مانیٹرنگ کیلئے تکنیکی مدد فراہم کرے گی۔ سپیشل ٹورازم زونز میں سرمایہ کاروں کو راغب کرنے اور ٹورازم کے بزنس کیلئے ضروری انفراسٹرکچر تعمیرکرنے کیلئے تجاویز مرتب کرے گی۔ پراجیکٹ پر عملدرآمد کیلئے مانیٹرنگ میکنزم میں شامل رہے گی۔

اتھارٹی کے پاس سپیشل ٹورازم زون کی اراضی کی منصوبہ بندی کے سلسلہ میں ضوابط تیار کرنے، ان کو منظم کرنے، عملدرآمد کرنے کا خصوصی دائرہ اختیار ہو گا۔ زمین کے استعمال کو ریگولیٹ کرنے کیلئے ماسٹر پلان، تعمیرات کو ریگولیٹ کرنے کیلئے بلڈنگ کوڈ، جنگلات اور درختوں کے تحفظ کیلئے جنگلات کا کوڈ، جنگلی حیات، حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کیلئے ضابطہ، خصوصی سیاحتی زون میں نباتات اور حیوانات اور اس کے نفاذ کیلئے یہ اتھارٹی ایک ریگولیٹری ادارے کے طور پر کام کریگی۔ تاہم اس کیلئے شرط یہ ہو گی کہ حکومت کی طرف سے اس سلسلہ میں جاری کردہ ضابطے کا اطلاق سپیشل ٹورازم زون میں تعمیراتی اور اس سے منسلک سرگرمیوں پر کیا جائے۔

اتھارٹی کے پاس اختیار ہو گا کہ سیاحوں کو متوجہ کرنے والے منصوبے بشمول چیئر لفٹ، جھیلیں، آبشاریں یا دیگر ایسے منصوبے، جو سیاحت کے فروغ کیلئے بہتر ہوں، اپنے دائرہ اختیار کے علاقوں میں شروع کر سکے گی۔

اتھارٹی اپنی آمدن سے منصوبہ جات تجویز کرنے کے علاوہ ڈویلپمنٹ بھی کر سکے گی اور اپنا فنڈ قائم کر سکے گی۔

مقامی حکومت یا حکومت پاکستان کا کوئی بھی محکمہ یا تنظیم سوشل اور اکنامک ڈویلپمنٹ کیلئے کوئی بھی منصوبہ حاصل کر سکے گی۔ اتھارٹی اپنی آمدن اور بجٹ سے افسران، ملازمین، کنسلٹنٹس اور ماہرین کی تقرری کر سکے گی۔

حکومت نوٹیفکیشن کے ذریعے اتھارٹی کے ضوابط، بزنس اور فنکشنز وضع کر ے گی۔ زون میں کوئی بھی منصوبہ شروع کرنے سے پہلے تمام ایجنسیوں بشمول وفاقی، ریاستی یا مقامی حکومت کے محکموں، این جی اوز یا کسی دوسرے ترقیاتی پروگرام کیلئے اتھارٹی کا پیشگی این او سی لازمی ہو گا۔

سپیشل ٹورازم زون کا انتظام و انصرام اتھارٹی کے پاس ہو گا اور تمام تر فیصلہ جات اراکین کی اکثریتی رائے سے کئے جائیں گی۔ بیرونی آڈیٹرز کی تقرری یا فراغت کا فیصلہ بھی ووٹنگ سے ہو گا، اکاؤنٹس کے سالانہ آڈٹ کی منظوری بھی اکثریتی رائے سے ہوگی اور حکومت کو ’ٹی او آرز‘میں تبدیلی کیلئے تجاویز بھی اسی طریقہ سے دی جا سکیں گی۔

اتھارٹی کا ہیڈ کوارٹر مظفرآباد میں ہو گا، جبکہ اتھارٹی حکومتی منظوری سے پراجیکٹ ایریا میں سب آفس قائم کر سکے گی۔

سٹیٹ ٹورازم ایگزیکٹو کمیٹی کی تجویز پر حکومت ایک نوٹیفکیشن کے تحت پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کے کسی بھی علاقے کو سپیشل ٹورازم زون قرار دے سکے گی۔

جب بھی حکومت کسی علاقے کو خصوصی سیاحتی زون قرار دے گی، تو اس کی صورتحال اور حدود کو سڑکوں، ندیوں، نالوں، پلوں یا کسی دوسری آسانی سے قابل فہم حدود کے ذریعے جتنا ممکن ہو بیان کرے گی۔ تاہم جب کوئی علاقہ نوٹیفائی کر دیا جائے گا، تو اس علاقے کو اس ایکٹ کی دفعات کے مطابق ڈیل کیا جائے گا۔ اس علاقے میں جموں و کشمیر فاریسٹ ریگولیشن 1930ء، وائلڈ لائف ایکٹ2014ء، انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایکٹ2000ء منرل اینڈ انڈسٹریل ڈویلپمنٹ کارپوریشن ایکٹ 1971ء، لوکل گورنمنٹ ایکٹ 1990ء کے تحت بنائے گئے قوانین کا دائرہ اختیار نہیں ہو گا۔

گورنمنٹ ایجنسی دیگر متعلقہ محکمہ جات سے سپیشل ٹورازم زون کیلئے رولز مرتب کرنے کیلئے مشاورت کر سکتی ہے۔

اگر کوئی علاقہ فاریسٹ ریگولیشن ایکٹ کے تحت بند جنگل یا محفوظ جنگل قرار دیا گیا ہے، تو وہ ٹورازم زون قرار دیئے جانے کے بعد بند جنگل نہیں رہے گا۔ اسی طرح اگر کوئی علاقہ وائلڈ لائف پروٹیکشن ایکٹ کے تحت نیشنل پارک قرار دیا گیا ہے، تو وہ بھی ٹورازم زون کیلئے نوٹیفائی ہونے کے بعد نیشنل پارک نہیں رہے گا اور وہاں وائلڈ لائف پروٹیکشن ایکٹ لاگو نہیں ہو گا۔

اس بات کو یقینی بنانے کیلئے کہ کسی سپیشل ٹورازم زون میں آنے والے علاقے یا علاقے کے انتظام میں کوئی قانونی یا انتظامی خلاء پیدا نہ ہو، کسی بھی علاقے کو زون ڈکلیئر کرنے کی تاریخ سے 6 ماہ سے زائد کی عبوری مدت نہیں ہو گی۔ حکومتی ایجنسی کی جانب سے اس طرح کی عبوری مدت کواس وقت کم کیا جا سکتا ہے، جب وہ ایجنسی مطمئن ہو جائے کہ اس کے پاس ماحولیات، لوکل گورنمنٹ، معدنی وسائل، جنگلات کے محکموں کو ان کی فیلڈ صلاحیت کے مطابق کام کو سنبھالنے کیلئے ضروری فیلڈ کی موجودگی ہے اور سرکاری ایجنسی مذکورہ محکموں کو مطلع بھی کرے گی۔

سپیشل ٹورازم زون میں حکومتی ایجنسی ٹورازم کو فروغ دیتے ہوئے یہ یقینی بنائے گی کہ جنگلات، جنگلی حیات، حیاتیاتی تنوع اور مقامی ثقافتی ورثے کو محفوظ کیا جائے گا۔

سپیشل ٹورازم زون میں سرمایہ کاری کی ترغیب دینے کیلئے حکومت ایک نوٹیفکیشن کے تحت کسی بھی کاروبار یا کاروباری طبقے کو ریاستی ٹیکسوں اور محصولات کے لئے مخصوص مدت اور حکومت کی طرف سے مقرر کردہ شرائط کے تحت مستثنیٰ کر سکتی ہے۔

سپیشل ٹورازم زون میں روڈ نیٹ ورک، سیوریج اور واٹر سپلائی کی تعمیرات حکومت کرے گی۔

واضح رہے کہ پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کی تمام روایتی، ترقی پسند اور قوم پرست سیاسی جماعتوں نے اس ترمیمی بل کی مخالفت کی ہے اور اسے سیاحتی مراکز، جنگلات اور پہاڑوں پر قبضے کا ایک سوچا سمجھا منصوبہ قرار دیا ہے۔

اپوزیشن لیڈر چوہدری لطیف اکبر نے اس منصوبے کو اس خطے کے ماحول کو برباد کرنے، حیاتیاتی تنوع کو تباہ کرنے اورسیاحتی مقامات پر قبضہ کرنے کا منصوبہ قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے اور اس بل کو واپس لئے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔

مسلم لیگ ن کے صدر شاہ غلام قادر نے بھی اس منصوبے کی مخالفت کرتے ہوئے اس بل کو فوری واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے اور ہر سطح پر اس کی مخالفت کا اعلان کیا ہے۔

سابق وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان نے بھی اس بل کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ جموں کشمیر پیپلز پارٹی نے بھی اس بل کی ہر سطح پر مخالفت کرنے کا اعلان کیا ہے۔

قوم پرست اور ترقی پسند جماعتوں کے رہنماؤں نے بھی اس بل کو اس خطے کے وسائل پر قبضے کا ایک راستہ قرار دیا ہے۔ چیئرمین جموں کشمیر لبریشن فرنٹ نے عسکری اداروں کے اراکین پر مشتمل ٹورازم ڈویلپمنٹ اتھارٹی بنائے جانے کے اقدام کو اس خطے کے سیاحتی مقامات، پہاڑوں، جنگلوں اور وادیوں کو عسکری اداروں کے حوالے کرنے کا منصوبہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے ہر سطح پر اس منصوبے کے راستے میں رکاوٹ بننے کااعلان بھی کیا ہے۔

جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن نے بھی اس منصوبے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر حکومت سیاحت کو فروغ دینا چاہتی ہے تو مقامی آبادیوں کے ساتھ سرکاری اشتراک کرتے ہوئے سیاحتی مقامات تک رسائی اور سہولیات کو یقینی بناتے ہوئے غیر ملکی سیاحوں کو اس جانب راغب کرنے کی کوشش کی جائے تاکہ مقامی آبادیاں اپنے وسائل اور قدرتی ماحول کو محفوظ رکھتے ہوئے اس خطے کی سیاحتی صلاحیت سے استفادہ حاصل کر سکیں۔

نجی سرمایہ کاروں اور عسکری اداروں و سیاحتی مقامات کا مختار کل بنانے کا حکومتی منصوبہ وسائل کی لوٹ مار کے علاوہ مقامی آبادیوں کو بے یار و مدد گار کرنے اور مزید پسماندگی اور غربت میں دھکیلنے کا موجب بننے کے علاوہ اس خطے کے ماحول اور ایکو سسٹم کیلئے تباہ کن اثرات مرتب کرے گا۔ اگر یہ بل واپس نہ لیا گیا تو ریاست گیر احتجاج کیا جائے گا اور ہر سطح پر اس منصوبے کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کی جائیں گی۔