پاکستان

جامعہ پونچھ: طلبہ مسائل اور ناقابل مصالحت جدوجہد

علیزہ اسلم

اگر انسانی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ جس حالت میں انسان آج ہے وہ اس میں ہمیشہ سے موجود نہیں تھا۔ بلکہ انسان نے اپنے اس ارتقا کے سفر میں مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے محنت کے ذریعے تکنیک، فن، علم وادب کو اپنے ساتھ ساتھ تعمیر کیا۔ علم کی ہی بدولت بہت سی ایجادات کیں اور ٹیکنالوجی میں ترقی کرتے ہوئے فطرت کی طاقتوں پر عبور حاصل کیا اور یوں انسان آج چاند تک بھی پہنچ گیاہے اور کائنات کے دیگر حصوں پر کمند ڈالنے کی تیکنیکی صلاحیت حاصل کر چکا ہے۔

پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر میں آج بھی جہاں سڑکیں، عمارتیں اور دیگر بنیادی ڈھانچہ بوسیدہ ہے تو وہیں دوسری طرف تعلیم بھی اپنا معیار کھو چکی ہے۔ تعلیمی اداروں میں سب سے بڑا ادارہ یونیورسٹی یا جامعہ کہلاتا ہے جبکہ یہاں پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر دیگر تعلیمی اداروں کے ساتھ جامعات بھی بنیادی ڈھانچوں سے ہی محروم نظر آتی ہیں۔ تمام تر جامعات کے طلبہ جامعات کی اپنی عمارات، سرکاری ہاسٹلز، بسوں، انٹرنیٹ، کھیل کے میدانوں سمیت دیگر بنیادی ڈھانچے کی عدم دستیابی، خستہ حالی یا ناکافی پن کا شکار نظر آتے ہیں۔ حتیٰ کہ کچھ جامعات اور بالخصوص ان کے بھی کچھ کیمپسوں کے علاوہ ہر جگہ طلبہ کرائے کی عمارات میں پینے کے صاف پانی، واش رومز جیسی بنیادی انسانی سہولیات سے ہی محروم نظر آتے ہیں۔ دکان سائز کلاس رومز میں 50 سے زائد طلبہ کا غیر معیاری کرسیوں پر بیٹھ کر جیل جیسی پابندیوں کا سا منا کرتے ہوئے غیر معیاری تعلیمی نصاب کا لیکچر حاصل کرنا، طلبہ میں شعور کی بجائے ذہنی امراض کا باعث بن رہا ہے۔ اس کے علاوہ کئی ماہ سے انتظامیہ کی طرف سے احساس سکالر شپ وصول کر لینے کے باوجود طلبہ کو سکالر شپ کی رقوم تاحال ٹرانسفر نہیں کی جا سکیں، بہت سے طلبہ سکالر شپ کی آس میں ادھار لے کر فیسیں بھر چکے ہیں اور اب انتظامیہ کی طرف سے تاخیر حربے انہیں مزید ذہنی دباؤ کا شکار کر رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں ہمیں متعدد طلبا و طالبات میں خود کشیوں کا رجحان بڑھتے ہوئے نظر آ رہا ہے۔ آج کے اس سماج میں جس طرح ہر ایک ضرورت کو سرمائے کی ہوس کا شکار بنا دیا گیا ہے اسی طرح اس تعلیم کو بھی ایک کاربار بنا دیا گیا ہے۔ حالانکہ ہر شہری کو مفت تعلیم فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے۔

راولاکوٹ کے اندر قائم ہونے والی جامعہ پونچھ میں نا صرف پونچھ ڈویژن بلکہ پورے زیر انتظام جموں کشمیر، گلگت بلتستان سمیت پورے پاکستان سے طلبا و طالبات تعلیم حاصل کرنے آتے ہیں۔ اس جامعہ کے طلبا و طالبات کے محض روز مرہ کے مسائل کسی ایک تحریر کے بس کی بات نہیں۔ جامعہ پونچھ کے کل سات کیمپس قائم کئے گئے ہیں جن میں ہزاروں طلبا و طالبات زیر تعلیم ہیں۔ مین کیمپس سمیت پانچ کیمپس راولاکوٹ میں قائم کئے گئے ہیں جبکہ ایک کیمپس حویلی کہوٹہ اور ایک منگ میں قائم کیا گیا ہے۔

منگ کیمپس کی تو یہ حالت ہے کہ وہاں تک پہنچنے کے لیے طلبہ کو اپنے اعصاب پر اچھا خاصا تشدد برداشت کرنا پڑتا ہے اور اسی طرح کہوٹہ کمپس کو بھی جامعہ کے مین کمپس سے کافی دور رکھا گیاہے۔ اس کے علاوہ ایک ہی ایک ہی کیمپس کی مختلف کلاسوں کی بریک ٹائمنگ کو بھی الگ الگ رکھا گیا ہے اور اس طرح طلبہ کو بھی ایک دوسرے سے دور رکھا جا رہا ہے۔

سپلائی کمپس کو دیکھا جائے تو ایک طرف طلبہ کو دوکانوں جیسی کلاسسز میں علم کے حصول کے لیے ٹھونسا جاتاہے تو وہیں دوسری طرف کمپس کے گیٹ کے سامنے ہی بھینسوں کا باڑاچلایا جا رہا ہے۔

سٹی کیمپس جسے شیل کیمپس کے نام سے کافی مقبولیت حاصل ہے (اس مقبولیت کے پیچھے شیل پیٹرول پمپ کا اہم کردار ہے)۔ شیل اور سٹی میں محض اتنا سا فرق ہے کہ باہر مہنگے داموں پیٹرول بک رہا ہے اور اندر تعلیم بیچی جا رہی ہے۔

سٹی کیمپس (جہاں سائنسز کے طلبا اور طالبات زیر تعلیم ہیں) کے انفراسٹرکچر پر نظر ڈالی جائے تو جامعہ کی اپنی عمارت نہ ہونے کی وجہ سے طلبہ بہت سے مسائل کا شکار ہیں۔ جن سے تنگ آکر طلبہ نے کئی مرتبہ انتظامیہ کو مختلف طریقوں سے آگاہ کیا۔ درخواستیں دی گئیں، ذمہ داران سے ملنے کی کوششیں کی گئیں مگر ایک مسئلہ بھی حل نا ہوسکا۔ اگر سٹی کیمپس کی اپنی عمارت ہو تو کم از کم روز مرہ کے 80 فیصد ایسے مسائل ہیں جو حل ہو جائیں گے۔ لیکن پچھلے 14 سالوں سے ایک کمپس بنانا شروع کیا گیا تھا جو آج تک نہ بن سکا۔ چودہ سال قبل ہی مظفرآباد میں کنگ عبداللہ کیمپس اور چھوٹا گلہ کیمپس کا ایک ساتھ ہی بجٹ منظور ہوا تھا، کنگ عبداللہ کیمپس مکمل طور پر تیار ہو گیا ہے اور سٹوڈنٹس کے لیے دستیاب ہے۔ مگر وہیں دوسری طرف چھوٹا گلہ کیمپس کے لئے کئی مرتبہ طلبہ کی طرف سے احتجاج، عوامی محاذ کی طرف سے بھوک ہڑتالوں سمیت ہر طرح کی کوشش کی گئی مگر آج تک اس کیمپس کا بنیادی ڈھانچہ تک تعمیر نہیں ہو سکا۔ ایک ارب سے زائد کے اخراجات، ایک دہائی سے زائد عرصہ گزرنے اور مختلف احتجاجات کے باوجود اس کیمپس کی تعمیر نہیں ہو سکی۔

2018ء میں تراڑ کیمپس کی تعمیر شروع کی گئی اور پانچ سال گزرنے بعد بھی اس کی تعمیر مکمل نہ ہو سکی۔ اس تعمیر کے مکمل نہ ہونے کی وجہ آخر کیا ہے؟ اس کی تعمیر میں حیلے بہانے کیوں ہیں؟

2 ہزار سے زائد طلبہ (جن میں 80 فیصد طالبات شامل ہیں) پر مشتمل سٹی کیمپس میں طلبہ کے لئے پینے کا پانی تک میسر نہیں اور محض دو واش رومز موجود ہیں جو نا قابل استعمال ہیں۔

اس کرائے کی بلڈنگ میں کلاسسز کی کمی ہے اور جو کلاسسز ہیں بھی وہ غاروں کی مانند ہیں۔ لاسٹ فلور میں تو پھر بھی روشنی ہوتی ہے لیکن گراؤنڈ فلور میں بیٹھنے والاطلبہ غار نما کلاس میں یہ اندازہ بھی نہیں لگا سکتے کے باہر دن ہے یا رات ہے۔

یہاں طلبہ کو پینے کا صاف پانی،صفائی، روشنی، واش رومز اور دیگر مسائل کے لیے روڈ پر آنا پڑتا ہے تو ہی مسائل کو حل کیا جاتا ہے۔ ان مسائل کے ساتھ ساتھ سائنسزز کی ترقی کے اس دور میں تعلیمی نصاب بھی انتہائی پسماندہ اور متروک ہو چکا ہے۔

سائنسز کا شعبہ ایسا ہے جہاں عملی تجربات ہی تعلیم کی بنیاد ہوتے ہیں مگر المیہ یہ ہے کہ اس جامعہ میں سائنس کے طلبہ کے لئے محض دو لیبز موجود ہیں جن میں آج تک پریکٹیکل کے لئے ضروری آلات فراہم نہیں کئے جا سکے۔

ترقی کے اس دور میں کیمپس کے اندر بجلی تک نہیں ہوتی اور اکثر سٹوڈنٹس کو موبائل کی روشنی میں پڑھنا پڑتا ہے۔ تو اس کے بعد ملٹی میڈیا جو وقت کی ضرورت ہے کی کیا بات کی جائے؟

یہاں طالب علم محض کیمپس سے ہی محروم نہیں بلکہ بنیادی حق جیسے انٹرنیٹ، ٹرانسپورٹ، سکالر شپ کی ادائیگی، نصابی اور ہم نصابی سرگرمیاں، مطالعاتی اور تفریحی دورں اور ذہنی و جسمانی ہراسگی کے شکار طلبہ خودکشی نہ کریں تو کریں بھی کیا؟ ایک طالب علم جو کہ اپنی فیس میں ڈیولپمنٹل چارجزز، ٹرانسپورٹ، انٹرنیٹ اور ٹیوشن فیس کے ساتھ دیگر تمام چارجز یونیورسٹی کو ادا کرتا ہے لیکن اس کے بدلے میں اسے ایک بھی سہولت میسر نہیں، آخر کیوں؟

تاریخ گواہ ہے کہ یہاں خواہ طلبہ ہوں، ڈاکٹرز ہوں، ٹیچرز ہوں یا ریاست کے دیگر باشندے انہیں اپنے حقوق کی بازیابی کے لیے سڑکوں کا رُخ کرنا پڑتا رہا ہے اور حقوق ہمیشہ جدوجہد کے ذریعے ہی حاصل ہوئے ہیں۔ طلبہ کو ہمیشہ اپنے احتجاج اور تحریک کے ذریعے ہی تعلیمی ادارے، ان کے ڈھانچے، اپ گریڈیشن سمیت دیگر حقوق ملے۔ طلبہ اپنے حقوق کی بازیابی کے لیے ہمیشہ کھڑے رہے ہیں اور اس کے لیے جدوجہد کرتے رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں سٹی کیمپس کے طلبہ نے ایسی ہی ایک جدوجہد کی مثال قائم کرتے ہوئے اپنے حقوق کو حاصل کرنے کے لیے ایک تحریک کا آغاز کیا ہے۔

7 ستمبر کو سٹی کیمپس کے طلبہ نے کیمپس کے نزدیک شاہراہ غازی ملت پر موجود رائے چوک کو تین گھنٹے ہر طرح کی ٹریفک کے لئے بند کرتے ہوئے اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا۔ اس احتجاج سے چندماہ قبل طلبہ ایک وفد کی صورت میں یونیورسٹی انتظامیہ کے پاس اپنے مسائل لے کر گئے لیکن وہاں دو ماہ کا وقت تعین کیا گیا۔ جب متعین کردہ وقت کے بعد بھی کوئی مسئلہ حل نہ ہو سکا تو طلبہ کے وفد نے انتظامیہ کے ذمہ داران سے ملنے کی کوشش کی تاکہ وہ سکوت توڑیں اور شائد کوئی حل نکالیں لیکن اس دوران کافی مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔ یہاں تک کہ یونیورسٹی انتظامیہ کے سنیئر لوگ آفس میں موجود ہونے کے باوجود طلبہ کو وقت نہ دے سکے۔ اس کے بعد کیمپس کے طلبہ کی طرف سے ایک درخواست احتجاج کے نوٹس کے ساتھ وائس چانسلر کو بھیج دی گئی اور چارٹرڈ آف ڈیمانڈ بھی سٹی کیمپس کی انتظامیہ کو بھیجوا دیا گیا۔ چارٹرڈ آف ڈیمانڈکل انیس مطالبات پر مشتمل تھا جس میں ایسے مطالبات بھی شامل تھے جن کا حل چند گھنٹوں میں بھی ہو سکتا تھا۔ جیسے پانی، بجلی، صفائی اور کچھ دیگر مسائل تھے لیکن اس دوران بھی ان پر کوئی نوٹس عمل میں نہیں لایا گیا۔

اس سلسلے میں کیمپس کے طلبہ کی طرف سے احتجاجاً 7 ستمبر، بروزبدھ، صبح 9بجے کے قریب رائے چوک کو مکمل طور پر بند کر دیا گیا۔

انتظامیہ اور کمیٹی کے درمیان احتجاج شروع ہونے کے کچھ ہی دیر بعد مذاکرات شروع ہو گئے جس میں ضلعی انتظامیہ کی طرف سے ایس ایچ او، اے ایس پی، اے سی، تحصیل دار اور دیگر لوگ موجود تھے اور یونیورسٹی کی انتظامیہ کی طرف سے ڈین آف فیکلٹی،ڈی ایس اے اور دیگر عہدیداران تھے۔ سٹوڈنٹس کی طرف سے دس طلبہ پر مشتمل وفد نے نمائندگی کی۔ ضلعی انتظامیہ کی تو کوشش تھی پہلے احتجاج ختم کریں اور پھر مذاکرات ہوں۔ ایک طویل بحث کے بعد مذاکرات کامیاب ہوئے اور احتجاج کو موخر کرتے ہوئے چوک کو کھول دیا گیا۔

جن مسائل پر اتفاق ہوا مختصراً درج ذیل ہیں:

1۔ ہراسمنٹ کمیٹی تشکیل دی جائے گی جس میں طالبات بھی کمیٹی کا حصہ ہوں گی۔
2۔ پانی، صفائی اور واشرومز کا مسئلہ ہفتے میں ہی حل کر لیا جائے گا اور صفائی کے لئے ڈین خود نگرانی کریں گے۔
3۔ کلاسسز میں روشنی وغیرہ کا انتظام بھی فوراً کیا جائے گا۔
4۔ ہوسٹل، ریفریشمنٹ اور فوٹو سٹیٹ وغیرہ کا انتظام بھی اندر ایک ماہ کر دیا جائے گا۔
5۔ سٹاف اور ایڈمنسٹریشن طلبہ کے ساتھ بہترین رویہ رکھیں گے۔
6۔ چالان پر موجود تمام کوڈز کے بارے میں آگاہ کیا جائے گا اور تمام چارجز کو واضح کر دیا جائے گا۔
7۔ ٹرانسپورٹ کے مسئلہ کو حل کرتے ہوئے فوری طور پر بسوں کو چلایا جائے گا اور ساتھ ہی نئی بسوں کے ڈرائیورز کے لیے اشتہار دیا جائے گا۔
8۔ نصاب تعلیم کو بھی کو اپڈیٹ کیا جائے گا۔
9۔ تمام طلبہ کو آسانی سے ڈین اور وی سی تک رسائی حاصل ہو گی اور پرسنل سیکرٹری پر انکوائری بیٹھائی جائے گی۔
10۔ ستمبر کے آخرتک بجٹ مل جا ئے گا جس میں طلبہ نمائندگان کی موجودگی میں لائبریری میں کتابیں اور لیبارٹریز میں آلات دئیے جائیں گے۔
11۔ ستمبر کے مہینے میں ہی تفریحی دوروں کی اجازت تمام طلبہ کو ملے گی اور ہم نصابی سرگرمیوں کو بھی فروغ دیا جائے گا۔
12۔ کسی بھی طالب علم پر اس احتجاج کی مد میں انکوائری نہیں لگائی جائے گی۔
13۔ یونیورسٹی کا کیمپس 6 ماہ کے اندر اندر دیا جائے گا اور اس سلسلے میں ان دنوں سٹوڈنٹس خود وی سی سے ملیں گے جس میں وہ تمام تر لائحہ عمل سے آگاہ کریں گے۔

اس کے بعد اس بات کی گارنٹی لیتے ہوئے کہ سٹوڈنٹس کو سٹرائیک کی آڑ میں تنگ نہیں کیا جائے گا، ضلعی انتظامیہ اور یونیورسٹی انتظامیہ سے دستخط لئے گئے۔

اس طرح ساڑھے 12 احتجاج کو ختم کرتے ہوئے رائے چوک اور شاہراہ غازی ملت کو ٹریفک کے لئے کو کھول دیا گیا۔

ان مذاکرات میں طلبہ کی طرف سے واضح طور پر یہ بھی بتا دیا گیاکہ اگر اس کے بعد بھی مسائل کے حل میں بہانوں سے کام لیا گیا تو تمام کیمپسز کے طلبہ مل کر ایک بہت بڑے پروٹسٹ کی طرف جائیں گے جو کہ نقصان دہ ہو گا اور اس پروٹسٹ کے زمہ دار ضلعی انتظامیہ اور یونیورسٹی انتظامیہ ہو گی۔ یہ تحریک کا پہلا قدم تھا اور اب اگر طلبہ کو ان کا حق نہیں دیا گیا تو وہ یونہی اپنی بات منوانے کے لیے اس سے بھی بڑے پیمانے پر مشترکہ احتجاج کی طرف جائیں گے۔

ہماری ریاست اور انتظامیہ یہ تمام مسائل سٹوڈنٹس کے شور مچائے بغیر بھی حل کر سکتی تھی۔ جو مسائل احتجاج کے فورآ بعد حل ہو گئے تو وہی مسائل پہلے کیوں نہیں حل ہو پا رہے تھے؟

جہاں طالب علم کیمپس سے محروم ہیں، جہاں یہ مستقبل کے معمار جبر کا شکار ہیں اور مطالبات کی لمبی فہرست لئے احتجاج پر بیٹھے ہیں۔ وہیں اساتذہ بھی ہمیں کسی صورت آسودہ حال نظر نہیں آ رہے بلکہ اساتذہ جو کہ ایک پھل دار پیڑہ کی مانند ہیں وہ بھی کیمپس کی عدم موجودگی کی وجہ سے مسائل سے دو چار ہیں۔ ایک آفس میں تین یا چار اساتذہ کو بیٹھنا پڑتا ہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ طلبہ ٹیچرز تناسب کچھ اس طرح ہے کہ زولوجی ڈیپارٹمنٹ میں 82 طلبہ کے لئے ایک ٹیچر، اسی طرح کیمسٹری میں 1:62 اور باقی تمام شعبوں میں بھی 1:60 کا انتہائی نا مناسب توازن نظر آتا ہے۔ جس کے باعث ایک مستقل ٹیچر کو 60 طلبہ کو پڑھانا پڑتا ہے جو اساتذہ کو بھی ذہنی دباؤ میں مبتلا کرتے ہوئے نظر آ رہا ہے۔

آئے روز دیکھا جاتا ہے کہ ہر بڑی سیاسی جماعت طلبہ حقوق کے نعرے لگاتے ہوئے اقتدار میں آتی ہے اور اقتدار کی ہوس کی وجہ سے طلبہ کو حقوق دینا ہی بھول جاتی ہے بلکہ ان کو جبر کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اقتدار کی سیاست کرنے والی تمام سیاسی جماعتیں اپوزیشن میں رہتے ہوئے طلبہ حقوق کے نام پر سیاست بھی کرتی ہیں، طلبہ یونین کی بحالی کا مطالبہ بھی کرتی نظر آتی ہیں۔ مگر اقتدار کے اندر آتے ہی وہ ان تمام تر مطالبات اور دعووں کو بھول جاتی ہیں۔ نام نہاد ترقی پسند جماعتیں بھی طلبہ یونین کے الیکشن شیڈول کو جاری کرنے میں ناکام رہی ہیں اور آئندہ بھی طلبہ کی تحریک کے بغیر کوئی جماعت اس طرف جاتے ہوئے نظر نہیں آ رہی۔

آج وہ نصاب پڑھایا جا رہا ہے جو حکمرانوں کی طرف سے ٹھونسا گیا ہے جو صرف جھوٹ ہے۔ یہ نصاب صرف حسد اور نفرت جیسی غیر اخلاقی بیماریوں کو جنم دیتا ہے جبکہ انسان کی فطرت میں صرف محبت شامل ہے۔ لیکن اس سرمایہ دارانہ نظام کے اندر طبقاتی نظام تعلیم ہے جس کے باعث تعلیم بھی صرف ایک فیصد حکمران طبقے کی ہی میسر ہے۔