دنیا

اصلاحی حکمت عملی: چلی کے نئے آئین کی شکست کی وجہ

کلارا دا کوسٹا ریڈیل/ٹوم سولیوان

ترجمعہ: شفا

چلی کی عوام نے موجودہ دستاویز جو کہ جنرل آگسٹو پنوشے کی آمریت میں لکھا گیا تھا، کو تبدیل کرنے کے لیے نئے آئین کی تجویز کو بھاری اکثریت میں ووٹ دے کر مسترد کر دیا ہے۔ 62 فیصد کا حیران کن ’مسترد‘ ووٹ اس واقع کے صرف دو سال بعد سامنے آیا جب سڑکوں پر ہونے والے مظاہروں اور ہڑتالوں کے طوفان نے قدامت پرست صدر سیباسٹین پینیرا کو ایک نئے آئین کا مسودہ تیار کرنے کا وعدہ کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔ نومبر 2019ء میں منعقد ہونے والی رائے شماری میں 80 فیصد آبادی نے مسودہ دوبارہ تیار کرنے کے لیے، جو چلی کے بائیں بازو کا دیرینہ مطالبہ تھا، مقبولیت سے منتخب ہوئے کنونشن کے حق میں ووٹ دیا تھا۔

اتنے کم وقت میں خیالات میں اس قدر بڑی تبدیلی کیسے ممکن ہے؟

2019ء کی بغاوت نے چلی کی سیاسی اسٹیبلشمنٹ کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ جب حکومت نے میٹرو کے کرائے کی قیمتوں میں 30 پیسو تک اضافہ کرنے کی کوشش کی تو اسکول کے طلبہ نے ہنگامہ آرائی شروع کر دی، سب وے سٹیشن کھول دیے اور ایک بڑے پیمانے پر سڑکوں پر مظاہروں کی لہر کو جنم دیا جو کہ مہینوں تک جاری رہے۔ اگرچہ کرایوں میں اضافے نے مظاہروں کو جنم دیا تھا لیکن بہت سی سماجی اور معاشی مشکلات، مفت تعلیم سے لے کر پرائیویٹائزڈ پنشن کے نظام کی بحالی اور معیشت کے اہم شعبوں جیسے کان کنی کو قومی تحویل میں لینے جیسے مطالبات تیزی سے ابھر کر سامنے آئے۔ تحریک 13 نومبر کو ایک کامیاب عام ہڑتال کے ساتھ اپنے عروج پر پہنچ گئی جس نے ملک کا بیشتر حصہ مفلوج کر کے رکھ دیا۔ بغاوت کے مطالبات کو اس نعرے ’یہ 30 پیسو نہیں ہے، یہ 30 سال ہیں!‘ کے ذریعہ جیتا گیا تھا جو کہ آمریت کی معاشی میراث پر غم و غصے کا واضح اظہار تھا۔

یہ بغاوت اس بات کا مظہر تھا کہ مزدور سرمایہ دار طبقے کی طاقت کو چیلنج کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ابتدائی مظاہروں کے جواب میں پرتشدد جبر کا سہارا لینے اور آمریت کے بعد پہلی بار فوج کو سڑکوں پر بلانے کے باوجود، پینیرا کو ملک بھر میں سڑکوں پر ہونے والے مظاہروں اور ہڑتالوں میں حصہ لینے والے لاکھوں لوگوں کو رعایت دینے پر مجبور کر دیا گیا تھا۔ ابتدا ہی میں اس نے میٹرو کے کرایوں میں اضافے کو واپس لے لیا تھا لیکن پینیرا کے استعفیٰ کے مطالبات بڑھنے لگے اور اس سے لوگوں میں مزید جدو جہد کرنے کا اعتماد پیدا ہوا۔

اس مشکل سے نکلنے کی کوشش میں پینیرا نے سڑکوں پر ہونے والے مظاہروں اور ہڑتالوں کے خاتمے کے بدلے میں ’امن اور نئے آئین کے لیے معاہدہ‘ کی حمایت کرنے کے لیے سوشل ڈیموکریٹک پارٹیوں سے مدد مانگی۔ معاہدے کے تحت ملک میں، آیا نئے آئین کا مسودہ بنانا ہے یا نہیں، نئے مسودے کو تیار کرنے کا عمل، آئینی کنونشن اور آخر میں تجویز کیے گئے نئے متن کو منظور یا مسترد کرنے کے حوالے سے ووٹوں کا ایک سلسلہ منعقد کیا جانا تھا۔

اس معاہدے کا مقصد عوامی تحریک کو ایک محفوظ انتخابی راستے میں منتقل کر کے چلی کے نیو لبرل ازم کے خاتمے کا مطالبہ کرنے والے لاکھوں مظاہرین کو غیر متحرک کرنا تھا۔ نئے تشکیل شدہ بائیں بازو اتحاد کے براڈ فرنٹ کے ساتھ ساتھ مرکز اور مرکزی بائیں بازو کی جماعتیں جیسے کہ سوشلسٹ پارٹی اور کرسچین ڈیموکریٹس جنہوں نے اپنی کئی برسوں کی حکومت کے دوران کبھی بھی نیو لبرل معاشی قدامت پرستی کو چیلنج نہیں کیا، نے پیٹھ پیچھے خفیہ طور پر اس معاہدے پر اتفاق کیا۔ ایسا کر کے انہوں نے ایک حقیر دائیں بازو کی حکومت کو گرنے سے بچایا اور اس سے چلی کے حکمران طبقے کو ملک کو اپنے لیے مستحکم کرنے کے لیے وقت مل گیا۔

نئے آئین کا مطالبہ چلی کے عوام کا ایک تاریخی مطالبہ ہے، جن میں سے بہت سے لوگ آمریت کے تحت لکھے گئے اس آئین کو غیر قانونی سمجھتے ہیں جس نے معیشت کے زیادہ تر حصے کی نجکاری کی تھی۔ تاہم یہ وہ کلیدی مطالبہ نہیں تھا جس نے لاکھوں لوگوں کو سڑکوں پر نکلنے پر مجبور کر دیا تھا۔ اس کے بر عکس یہ وہ مطالبہ تھا جو تحریک کے ساتھ ابھرا۔ زیادہ تر مطالبات معاشی اور سماجی شکایات کے گرد تھے لیکن پھر بھی اصلاح پسند قوتوں نے نئے آئین کے دوبارہ لکھنے کو تمام شکایات دور کرنے کا ایک اہم طریقہ بتا کر فروغ دیا۔ انہوں نے بڑے پیمانے کی عوامی تحریک اور ہڑتال کی کارروائی کو ترجیح نہیں دی، اس کے بر عکس انہوں نے عوام کی اس بات پر حوصلہ افزائی کی کہ وہ آئینی کنونشن اور اسکے بعد حکومت میں آنے والے ووٹنگ کے نمائندوں پر توجہ مرکوز کریں۔

سڑکوں پر مزاحمت اور کام کی جگہیں کم ہونے کے ساتھ، سیاسی دایاں بازو دوبارہ منظم ہونے اور اس دوران اصلاح پسندوں پر اہم مسائل کو چھوڑنے کے لیے دباؤ ڈالنے میں کامیاب رہا۔ گزشتہ سال ہونے والے صدارتی انتخابات میں، انتہائی قدامت پسند تاجر ہوزے انتونیو کاسٹ پہلے راؤنڈ میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے کے بعد جیتنے کے قریب پہنچ گیا تھا۔ اس کے جواب میں، خود ساختہ سوشلسٹ اور سابق طالب علم رہنما گیبریل بورک نے اپنی مہم کو معتدل کیا، جس نے اپنے خلاف قدامت پسند قوتوں کو خوش کرنے کے لیے مالی ذمہ داری اور امن و امان کے لیے اپنی وابستگی کو کھل کر ظاہر کیا۔ جب اس نے دوسرے دور میں صدارت جیت لی اور کمیونسٹ و سوشلسٹ جماعتوں کے ساتھ اتحاد میں براڈ فرنٹ کے رہنما کے طور پر حکومت تشکیل دی، اس کے بعد ان کی مہم سیاسی میدان میں دائیں بازو کی طرف مڑ گئی۔

حکومت میں آنے کے بعد آئینی عمل میں ہر قدم پر بورک اور اصلاح پسند رہنماؤں نے دائیں بازو اور سرمایہ دار طبقے کے سامنے سر تسلیم خم کر دیا ہے۔ مثال کے طور پر کمیونسٹ پارٹی نے کہا کہ وہ کنونشن میں اپنی نشستیں اس وقت تک قبول نہیں کریں گے جب تک کہ تمام سیاسی قیدیوں کو رہا نہ کر دیا جائے لیکن پہلے ہی دن وہ پیچھے ہٹ گئے اور اپنی نشستیں سنبھال لیں۔ مزید یہ کہ کنونشن میں متعدد اہم ووٹوں پر براڈ فرنٹ نے ان مطالبات کے خلاف ووٹ دیا جو براۂ راست 2019ء کی تحریک کے مرکزی مطالبات تھے جیسے کہ استخراجی صنعتوں کو قومی تحویل میں لینے پر ووٹ۔

رائے شماری سے قبل دائیں بازو نے نئے آئین کو مسترد کرنے کے لیے ریلی نکالی، ٹیبلوئڈز اور سوشل میڈیا پر ایک خوفناک مہم چلاتے ہوئے یہ دعویٰ کیا کہ نیا آئین اور بورک کی حکومت ملک کو ’چلیزویلا‘ (چلی کے لیے ہی استعمال ہونے والی ایک توہین آمیز اصطلاح) میں تبدیل کر دے گی جس کے نتیجے میں معاشی بحران پیدا ہو گا۔ اہم کاروباری تنظیموں نے ’مسترد‘ مہم کی کھل کر حمایت کی۔ اس کے جواب میں بورک اور اسکی حکومت نے ’اصلاحات کی منظوری‘ کا نعرہ لگایا۔ یہ نعرہ مرکز کے ووٹر سے التجا کرنے اور دائیں بازو کو مطمئن کرنے کی ایک واضح کوشش تھی کہ حکومت خود نئے متن کے حق میں نہیں ہے۔ ایسی قیادت نے آبادی کے وسیع ڈھڑوں میں مایوسی کا احساس پیدا کر دیا ہے جو حال ہی میں سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کر رہے تھے اور حکومت کا تختہ الٹنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔

اس سال کے آغاز میں حکومت بنانے کے بعد سے، بورک نے کنونشن کے ذریعے مسودے کے متن کو تیار کروانے اور اسے اکثریتی ووٹ سے منظور کروانے میں اپنی صدارت کو داؤ پر لگا دیا۔ یونائیٹڈ ورکرز سینٹرل آف چلی سی یو ٹی کی قیادت میں یونین بیوروکریسی کی طرف سے بھی حکومت کی بھرپور حمایت کی گئی تھی۔ سی یو ٹی نے بغاوت کے عروج پر مظاہروں کو غیر متحرک کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا اور اس کے بعد سے وہ خاموش تماشائی بن کر کھڑی ہوئی ہے جب کہ لوگوں کے معیار زندگی گر چکے ہیں۔ اس کی حکمت عملی مکمل طور پر آئین سازی کے عمل کی حمایت اور بائیں بازو کی کسی بھی مخالفت کو ختم کرنے پر مبنی رہی ہے۔ کمیونسٹ پارٹی، جو سی یو ٹی قیادت پر غلبہ رکھتی ہے، نے حکومت کو ایک بائیں بازو کا احاطہ فراہم کرنے میں اپنا مخصوص کردار ادا کیا ہے جس میں اس کے پاس کئی اہم محکمے ہیں۔ اس نے آبادی کو تیزی سے بیگانگی کا شکار کر دیا ہے، جن کا معیار زندگی عالمی وبا کے دوران مزید گر گیا ہے اور سال کے آخر تک وہ قیمتوں میں 11 فیصد سے زیادہ اضافے کا سامنا کر رہے ہیں۔

اصلاح پسند پارلیمانی رہنماؤں اور محنت کش طبقے کے عزائم کے درمیان اس بے تعلقی نے بڑے پیمانے پر مایوسی پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا ہے کیونکہ چلی کے لوگ عوامی تحریک کے خاتمے اور آئینی کنونشن کے شروع ہونے کے بعد سے اپنی زندگیوں میں کوئی بامعنی بہتری دیکھنے میں ناکام رہے ہیں۔ اس حقیقت سے یہ بات صاف ظاہر ہو جاتی ہے کہ تجویز میں 2019ء کی تحریک کے اہم مطالبات میں سے کسی پر بھی توجہ نہیں دی گئی ہے۔ تانبے کی کانوں کو قومی تحویل میں لینے اور سیاسی قیدیوں کو آزاد کرنے کی تجاویز کو کنونشن نے واضح طور پر مسترد کر دیا ہے۔ متن میں جیسے مرکزی بینک کی خود مختار طاقت کو قائم رہنے دیا ویسے ہی نیو لبرل ازم کو بھی برقرار رکھا گیا تھا (’منتخب کرنے کی آزادی‘ کو سماجی خدمات جیسے ہیلتھ کئیر کی مسلسل مارکیٹ میں فراہمی کا جواز بنا کر استعمال کیا گیا)۔

2019ء کی تحریک میں ظاہر کیے گئے مصائب کے آئینی جوابات پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے ایک بڑے پیمانے پر عوام کے غم و غصے اور عدم اطمینان کو محفوظ انتخابی راستوں میں تبدیل کر کے اصلاح پسندوں نے اس واحد قوت کو ختم کر دیا ہے جو چلی کے نیو لبرل ازم کو سنجیدگی سے چیلنج کر سکتی تھی اور تحریک کے ذریعے اٹھائے گئے مطالبات پر پیش رفت کر سکتی تھی۔

یہ صورت حال مجوزہ متن میں کچھ حقیقی ترقی پسند اصلاحات کے باوجود ہے۔ مثال کے طور پر آئین کے مسودے میں پہلی شق میں کہا گیا ہے کہ چلی ایک سماجی جمہوری ملک ہے اور بعد کی شقوں میں بنیادی انسانی حقوق جیسے پانی اور اسقاط حمل کے حق کی تدوین کی گئی ہے۔ مزید یہ کہ اس نے مقامی زبانوں اور ثقافتوں کی پہچان اور حفاظت، اور ماحولیاتی تحفظ فراہم کیا ہے۔

جس سے آمریت کی میراث کو ایک سنگین دھچکا لگا اور بائیں بازو کی جیت ہونا چاہیے تھی وہ الٹا دائیں بازو کی جیت بن گئی ہے۔ ’مسترد‘ مہم کی کامیابی قدامت پسند قوتوں کو محنت کش طبقے کے معیار زندگی پر حملہ کرنے اور چلی میں نیو لبرل پالیسی کو مزید فروغ دینے کی حوصلہ افزائی کرے گی۔

یہ نتیجہ تبدیلی کے لیے انتخابات اور ادارہ جاتی راستوں پر انحصار کرنے کی اصلاحی حکمت عملی پر فرد جرم ہے۔ کچھ قوتیں پہلے ہی چلی کے عوام کو شکست کا ذمہ دار ٹھہرانے میں جلد باز رہی ہیں، لیکن بائیں بازو کو نیو لبرل ازم کے بحرانوں سے نمٹنے کے لیے اصلاح پسندانہ حکمت عملی کی ناکامی پر سوچنے کی ضرورت ہے۔ اب کلیدی کام یہ ہے کہ سرمایہ داری کی مخالف سیاست کی تعمیر کی جائے جو انتخابی نظام کو مسترد کرتی ہو اور اس کے بجائے 2019ء کی بغاوت کو دوبارہ بھڑکانے کے لیے گلیوں اور کام کی جگہوں پر اجتماعی طاقت کی طرف توجہ مرکوز کرے۔