خبریں/تبصرے

نجکاری مقاصد پورے کرنے کی بجائے نقصان کا موجب بنی: تحقیق

لاہور (جدوجہد رپورٹ) ایک آزاد تحقیق کے مطابق پاکستان میں نجکاری پروگرام مقاصد پورے کرنے کی بجائے الٹا نقصان کا موجب بنا ہے۔ قومی اثاثوں کی فروخت سے 11 ارب ڈالر کی آمدن کے علاوہ وہ مقاصد حاصل نہیں کئے جا سکے، جن کے دعوے کرتے ہوئے نجکاری کی گئی تھی۔

’ٹربیون‘ کے مطابق نسیم سرفراز اور ڈاکٹر غلام صمدکی یہ تحقیق جرنل آف اپلائیڈ اکنامکس میں شائع ہوئی۔ تحقیق کے مطابق 1991ء سے پبلک سیکٹر انٹرپرائزز کی فروخت سے 11 ارب ڈالر کی آمدن ہوئی۔

پاکستان ان ترقی پذیر ملکوں میں سے ایک ہے، جہاں پبلک سیکٹر انٹرپرائزز کی ایک بڑی تعداد میں نجکاری ہوئی، لیکن نجکاریکے بعد کے اثرات کا تجزیہ کرنا ابھی باقی ہے۔

تحقیق کے مطابق نجکاری کے بعد کی مدت میں چند فرموں کی کارکردگی میں بہتری آئی لیکن یہ زیادہ تر منفی رہی ہے۔ خاص طور پر توانائی، سیمنٹ اور کیمیکل کے شعبوں میں پرائیویٹائزڈ پبلک سیکٹر انٹرپرائزز نجکاری کے بعد کی مدت میں مثبت فائدہ نہیں دکھاتے ہیں۔ تاہم ٹیلی کام اور ٹیکسٹائل کے شعبوں نے نجکاری کے بعد کارکردگی میں معمولی مثبت تبدیلی کا تجربہ کیا ہے۔ اسی طرح نتائج نے یہ بھی ظاہر کیا کہ فرموں کی کارکردگی میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوا۔ کارکردگی میں بہتری پیداواری لاگت میں کمی لانے کی صورت میں ہی ہو سکی ہے۔ دوسرے لفظوں میں مزدوروں کے استحصال میں اضافے کی صورت میں ہی کارکردگی بہتر ہو پائی ہے۔

تحقیق کے مطابق پرائیویٹائزڈ بینکنگ اور انرجی کمپنیاں سیل آف کے فوائد حاصل کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ نجکاری اور انعامات کی تقسیم کا عمل خریداروں کے حق میں تھا، جبکہ حکومت کو خطرات اور لاگت کا سامنا ہی کرنا پڑا ہے۔

پرائیویٹائزیشن نے بھی فروخت میں اضافے کے لحاظ سے پرائیویٹائزڈ فرموں کی کارکردگی میں اضافہ نہیں کیا۔ کارکردگی میں بہتری محض پیداواری لاگت میں کمی سے آ رہی ہے۔

تحقیق کے مطابق پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) کی نجکاری کوئی منصفانہ سودا نہیں تھا۔ اس نجکاری نے 800 ملین ڈالر کا نقصان کیا اور مسابقت کے لحاظ سے مارکیٹ کو بھی بہتر نہیں کیا جا سکا۔

تحقیق کے مطابق حکومت نے اتصالات کو 26 فیصد حصص فروخت کئے اور انتظامی کنٹرول بھی منتقل کر دیا گیا، جو اصول کے خلاف ہے، جس کیلئے 51 فیصد حصص درکار ہوتے ہیں۔

معاہدہ اس بات پر طے پایا تھا کہ اتصالات 1.4 ارب ڈالر کی پیشگی ادائیگی کر کے 2.6 ارب ڈالر ادا کرے گا اور باقی 1.2 ارب ڈالر 33 ملین ڈالر کی 9 قسطوں میں ادا کرے گا۔ اس معاہدے کیلئے حکومت کو صرف 1.8 ارب ڈالر ملے اور باقی 800 ملین ڈالر کبھی ادا نہیں کئے گئے۔ نجکاری کے باوجود ٹیلی کام سیکٹر میں اجارہ داری برقرار رہی اور اربوں ڈالر ہڑپ کر لئے گئے۔

تحقیق کے مطابق کے ای ایس سی (کے ای) کی نجکاری سے بھی مقاصد حاصل نہیں ہوئے۔ اگرچہ نجکاری کی بنیادی وجہ خسارے میں چلنے والے ادارے سے چھٹکارا حاصل کرنا تھا، تاہم تحقیق کے مطابق حکومت نجکاری کے بعد پہلے سے زیادہ ادائیگی کر رہی ہے۔