خبریں/تبصرے

جموں کشمیر: بلدیاتی انتخابات کا دوسرا مرحلہ، 2 خواتین سمیت 11 سوشلسٹ امیدوار میدان میں

راولاکوٹ (نامہ نگار) پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر میں بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلہ میں پونچھ ڈویژن کے 4 اضلاع میں پولنگ 3 دسمبر کو ہو گی۔ 1009160 رائے دہندگان حق رائے دہی کا استعمال کریں گے۔

پونچھ ڈویژن کے صدر مقام اور ترقی پسند سیاست کا گڑھ سمجھے جانے والے شہر راولاکوٹ میں 2 خواتین سمیت 11 سوشلسٹ امیدواران بھی میدان میں ہیں۔ راولاکوٹ کے تینوں حلقوں اور میونسپل کارپوریشن میں سوشلسٹ پروگرام کی بنیاد پر ایک منفرد انتخابی مہم چلائی جا رہی ہے۔

حلقہ نمبر 3 کھائی گلہ علی سوجل میں پیپلز ریولوشنری فرنٹ (پی آر ایف) کی آمرکزی آرگنائزنگ کمیٹی کے ترجمان زاہد اقبال ایڈووکیٹ کھائی گلہ ٹاؤن کمیٹی کی وارڈ وسطی کوئیاں سے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔ پی آر ایف کے سیکرٹری مالیات تنویر انور یونین کونسل علی سوجل سے ڈسٹرکٹ کونسلر کے امیدوار کے طور پر میدان میں موجود ہیں، جبکہ پی آ ر ایف کے رہنما سہیل خان علی سوجل ٹاؤن وارڈ سے کونسلر کے امیدوار ہیں۔

میونسپل کارپوریشن راولاکوٹ میں پی آر ایف کے رہنما عاصم اختر، سلمان فاروق، اعجاز احمد نیاز اور پیپلز پارٹی رہنما نوشین کنول ایڈووکیٹ امیدواران کے طور پر موجود ہیں۔

حلقہ 5 پاچھیوٹ میں پی آر ایف کی رہنما مسرت اسحاق سہر گوراہ وارڈ سے کونسلر کی امیدوار ہیں، پی آر ایف کے رہنما اسد انور وارڈ ہاڑولہ شوکت آباد سے کونسلر کے امیدوار ہیں، آفتاب سید نمبل سنگال کھیتر وارڈ سے بطور امیدوار برائے کونسلر انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں، جبکہ جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کے رہنما نقاش امین لاگڑیاٹ وارڈ سے کونسلر کے امیدوار ہیں۔

سوشلسٹ امیدواران نے انتخابی مہم کو قبیلے اور کنبے سے نکال کے نظریات اور انتخابی پروگرام کے گرد موڑنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان امیدواروں کی جانب سے جاری کئے گئے انتخابی پروگرام نے دیگر امیدواران کو بھی مجبور کیا ہے کہ وہ نہ صرف انتخابی پروگرام شائع کروا رہے ہیں بلکہ اکثر مقامات پر وہی پروگرام نقل کیا گیا ہے، جو سوشلسٹ امیدواران کی طرف سے مرتب کیا گیا تھا۔

سوشلسٹ امیدواران کی طرف سے انتخابات میں دیا گیا نعرہ ’بنیادی جمہوریت کی امنگ…عوامی کونسلوں کے سنگ‘ ایک مقبول انتخابی نعرہ بن چکا ہے۔ بالخصوص قوم پرست اور ترقی پسند سیاست کے دعویدار آزاد امیدواران کی ایک بڑی تعداد نے اس نعرے اور سوشلسٹ امیدواران کے پروگرام پر انتخابات میں حصہ لے رہی ہے۔

گزشتہ روز مسرت اسحاق نے اپنی وارڈ میں انتخابی میٹنگ کا انعقاد کیا، جس میں سینکڑوں کی تعداد میں مرد و خواتین نے شرکت کی۔ انتخابی میٹنگ میں شرکا کی اکثریت نہ صرف خواتین پر مشتمل تھی، بلکہ میٹنگ کا انعقاد اور تمام تر انتظامات بھی خواتین کی طرف سے کئے گئے تھے۔

مسرت اسحاق نے میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا تعلق جدوجہد سے ہے، ہماری پہچان جدوجہد ہے اور ہم انتخابات کا حصہ بھی اسی لئے بن رہے ہیں کہ ہم اس عوامی نجات کی جدوجہد کو ہر محلے، دیہات اور گلی کوچے تک پھیلاتے ہوئے سرمائے کے جبر پر مبنی سرمایہ دارانہ نظام کے خاتمے کی جانب سفر کو تیز تر کر سکیں۔