خبریں/تبصرے

نیا افغانستان: میناکنز بھی نقاب پہنیں

لاہور (جدوجہد رپورٹ) افغانستان میں طالبان کے سخت قوانین کے نفاذ کے بعد خواتین کے لباس کی دکانوں میں رکھے میناکنز (پتلے) ایک خوفناک منظر پیش کر رہے ہیں۔ ان کے سر کپڑے کی بوریوں میں لپٹے ہوئے ہیں، یا پلاسٹک کے سیاہ تھیلوں میں لپٹے ہوئے ہیں۔

’وائس آف امریکہ‘ کے مطابق پتلوں کے سر ڈھانپنا اور چہرے پر نقاب چڑھانا کابل میں کپڑے کے تاجرں کی مزاحمت اور تخلیقی صلاحیتوں کا ایک چھوٹا سا مظاہرہ ہے۔

ابتدائی طور پر طالبان نے گزشتہ سال مارچ میں حکم دیا تھا کہ ان پتلوں کا سر قلم کر دیا جائے۔ دکان مالکان نے شکایت کی کہ وہ اپنے کپڑے صحیح طریقے سے ظاہر نہیں کر پائیں گے، یا انہیں قیمتی پتلوں کو نقصان پہنچانا پڑے گا۔ طالبان کو اپنے حکم میں ترمیم کرنا پڑی اور دکان مالکان کو سر قلم کرنے کی بجائے پتلوں کے سرڈھانپنے کا حکم دیا گیا۔

اس کے بعد دکان مالکان نے طالبان کی اطاعت کرنے اور گاہکوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کی اور جس طرح کے حل پیش کئے گئے وہ لائسی مریم اسٹریٹ پر نمائش کیلئے رکھے گئے ہیں۔ یہ ایک متوسط طبقے کی تجارتی گلی ہے، جو کابل کے شمالی حصے میں کپڑے کی دکانوں سے لیس ہے۔

سٹور کی کھڑکیاں اور شورومز گاؤنوں، رنگوں اور سجاوٹ کیساتھ ملبوس پتلے قطار میں لگے ہوئے ہیں، یہ سب پتلے مختلف طریقوں سے سر ڈھانپے ہوئے ہیں۔

ایک دکان میں پتلوں کے سروں کو اسی مواد سے تیار کردہ بوریوں میں لپیٹ کر رکھا گیا تھا، جس سے وہ روایتی لباس تیار کرتے تھے۔

دکانداروں نے اپنے پتلوں کو چھپانے کیلئے موزوں کپڑے سے لیکر ٹین کے ورق تک ہر چیز کا استعمال کر رکھا ہے، اس امید میں کہ معاشی تباہی کے وقت گاہکوں کو اپنی طرف کھینچنے کیلئے اپنی کھڑکیوں کو پرکشش رکھ سکیں۔

افغانستان میں شادیوں کیلئے وسیع و عریض لباس ہمیشہ سے مقبول رہے ہیں، جو طالبان سے پہلے بھی عام طو رپر صنفی طور پر الگ ہوتے تھے، جس سے ملک کے قدامت پسند معاشرے میں خواتین کو اپنے بہترین لباس پہننے کا موقع ملتا تھا۔ طالبان کے دورمیں شادیاں سماجی اجتماعات کے چند باقی مواقعوں میں سے ایک ہیں۔