دنیا

عمران خان کو لبرل فاشسٹ کیمپ میں خوش آمدید!

پرویز امیر علی ہودبھائی

بھارت کے لبرل لوگوں نے وہاں مذہبی اقلیتوں اورحال ہی میں کشمیریوں کے خلاف ہندتوا کے جرائم کے دستاویزی ثبوت مرتب کر کے مذہبی جنونیوں کو ایک چتاونی دی ہے۔ ثبوت مہیا کرنے والے لبرل چونکہ واقعات کے عینی شاہد ہیں اس لئے ان کی گواہی غیر معمولی وزن رکھتی ہے۔ دنیا بھی ان کی بات پر توجہ دے رہی ہے۔

امریکہ کی صدارتی دوڑ میں شامل نمایاں امیدوار۔ ۔ ۔ برنی سانڈرز، الزبتھ وارن اور کمالہ ہیرس۔ ۔ ۔ کشمیریوں کے خلاف جاری بھارتی ناانصافیوں پر ”گہری تشویش“ کا اظہار کر چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ میں مقیم ہندتوا برگیڈ ان امیدواروں سے شدید نالاں ہے اور 2020 ء کے انتخابات میں ان تینوں کی شکست کے لئے کوشاں۔

انڈین لبرل کو بھارت میں اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا اور لگتا ہے کہ لبرل کی غیر مقبولیت میں مزید اضافہ ہو گا کیونکہ رائے عامہ اس کے خلاف ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کامیابی سے امریکی اکثریت کا ضمیر سلا دیا ہے مگر نریندر مودی نے تو بھارت میں عام آدمی کا ضمیر گویا مردہ بنا دیا ہے۔ بہت پرانی بات نہیں کہ ہندوستان کے اکثر لوگ اس بات کے قائل تھے کہ آئین میں دی گئی ضمانت کے پیش ِنظر تمام شہری برابر ہیں مگر جانبدار میڈیا انتظامیہ کی جانب سے اختیارات کے ناجائز استعمال کو تو جائز بنا کر پیش کرتا ہے مگر جو لوگ آئین کی پاسداری کی بات کرتے ہیں، ان پر لعن طعن کی جاتی ہے۔

جہاں تک پاکستانی لبرل کا تعلق ہے تو اس نے بھارتی لبرل سے کہیں زیادہ مدت کے لئے کہیں زیادہ مشکل وقت کا ٹا ہے۔ 2004-2014ء کے عرصے میں، پوری ایک دہائی تک، پاکستان کا مین اسٹریم میڈیا اجتماعی فریب میں مبتلا تھا۔ ہمارے فوجی جوان، پولیس کے سپاہی اور عام شہری ذبح کئے جا رہے تھے، سکول بموں سے اڑائے جا رہے تھے، لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی لگ چکی تھی، پولیو کے قطرے پلانے والوں کو گولیوں کا نشانہ بنایا جا رہا تھا لیکن ہر طرف ”یہ ہماری جنگ نہیں“ کا راگ الاپا جا رہا تھا۔ دس سال پہلے، عمران خان ہر اس شخص کو ڈالر خور اور ”قابل ِنفرت لبرل“ قرار دیتے تھے جو مذہبی جنونیوں کے خلاف اقدامات اٹھانے کی بات کرتا تھا۔ عمران خان کو خوب شاباش ملتی تھی۔

”لبرل فاشسٹ“ایک مقبول اصطلاح تھی۔ یہ اصطلاح ایک اینکر پرسن نے متعارف کرائی تھی۔ وہ ابھی بھی اپنا ٹاک شو پیش کر رہے ہیں۔ ان کے شو سے ہوتی ہوئی یہ اصطلاح اردو پریس میں کالموں کی زینت بن گئی۔

اُن دنوں میں نے کئی لوگوں سے یہ سوال پوچھا کہ ایک ”لبرل“ انسان ”فاشسٹ“ کیسے ہو سکتا ہے؟ کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ لبرل فاشسٹ مذہب پر پابندی لگانا چاہتے ہیں، مولویوں کو پھانسی چڑھانا چاہتے ہیں، مسجد اور مدرسوں پر تالے لگا دینا چاہتے ہیں لیکن وہ کبھی بھی ایک ایسے شخص کا نام نہیں بتا سکے جس نے اس قسم کی کوئی بات کی ہو۔

جب لبرل حضرات خود کش حملوں میں ہلاک ہونے والوں کا سوگ منانے جمع ہوتے تو دائیں بازو کے کالم نگار لبرلز کو ”موم بتی“ مافیا کہہ کر ان کا تمسخر اڑاتے۔

پاکستانی لبرلز نے جان تو بہت ماری مگر پورا ملک ہی نشے میں دھت تھا۔ جب طالبان نے سوات پر قبضہ کرنے کے بعد مینگورہ کے خونی چوک میں لوگوں کو ٹکٹکی سے لٹکانا شروع کر دیا تو بھی پورا ملک خراٹے لے رہا تھا۔ جنرل حمید گل مرحوم جو اکثر ٹیلی وژن اسکرین پر جلوہ گر رہتے، بضد تھے کہ خود کش حملہ آور یہود و ہنود ہیں۔ اس کا ثبوت وہ یہ پیش کرتے کہ خود کش حملہ آوروں کے ختنے نہیں ہوئے تھے۔ کچھ گرما گرم ٹاک شوز میں میرا بھی ان سے ٹاکرا ہوا۔ میں نے ان سے ختنوں بارے کئی بار استفسار کیا مگر وہ کبھی کوئی تسلی بخش جواب نہیں دے سکے۔ موجودہ دور (2019ء) کے بر عکس، ان دنوں کچھ اختلافی آوازیں ٹیلی وژن پر سنائی دیتی تھیں۔

2014 ء میں آرمی پبلک سکول کے طلبہ کے قتلِ عام۔ ۔ ۔ قاتل طلبہ کو گولی مارنے سے قبل ان سے کلمہ سنتے۔ ۔ ۔ نے صورت حال کو یکسر بدل دیا۔ اس کے بعد بس ٹھا ہ ٹھاہ شروع ہو گئی۔ آپریشن ضربِ عضب کے بعد آپریشن رد الفساد شروع ہو گیا جس کا مقصد ہی مذہبی انتہا پسندوں کو ٹھکانے لگانا تھا۔ وائے حیرت کہ دیکھتے ہی دیکھتے امن ہو گیا!

اندریں حالات کوئی ایسا ناکام خود کش حملہ آور لوگوں کے سامنے پیش نہیں کیا گیا جس کے ختنے ہونا باقی تھے۔ لبرل کا موقف روز ِاول سے درست تھا۔

کچھ چیزیں تو بدل گئیں مگر بعض معاملات جوں کے توں رہے۔ کسی نے ایف اے ٹی ایف کا ڈنڈا ایجاد کرڈالا ورنہ غیر ریاستی عناصر ہی خارجہ پالیسی پر عمل درآمد کا وہ بہترین مہرہ تھے جن کے وجود سے حسب ِ ضرورت انکار کیا جا سکتا تھا۔ لبرل حضرات کو معلوم تھا کہ ان کی ایک نہیں سنی جائے گی مگر وہ پھر بھی دہائی دیتے رہے کہ آزادی کشمیر کی جدوجہد کو نقصان پہنچے گا، اس طریقہ کار سے کشمیریوں کی جدوجہد پر حرف آتا ہے اور ان کی جدوجہد کو دہشت گردی بنا کر پیش کرنا آسان ہو جاتا ہے۔

اور اب؟ 19 ستمبر 2019 ء کو لبرل موقف کی تائید وزیر اعظم عمران خان نے عین وہی موقف اختیار کرتے ہوئے کی جوبے بس لبرل بیس سال سے پیش کر رہے تھے۔ عمران خان نے کہا کہ ”کشمیر میں جہاد کی کوشش“ کشمیریوں سے بد ترین دشمنی ہو گی۔ ان کا مزید کہنا تھا:”اگر کوئی یہ سوچ رہا ہے کہ سرحد پار جا کر کشمیریوں کی مدد کرے تو وہ پاکستان کا بھی دشمن ہے اور کشمیریوں کا بھی“۔

وزیر اعظم صاحب! لبرل کیمپ میں خوش آمدید۔ امید ہے اب آپ اس کیمپ کو چھوڑ کر نہیں جائیں گے چاہے حافظ سعید کتنا ہی ناراض کیوں نہ ہو۔ براہِ مہربانی اس بیان پر قائم رہئے گا۔

ہندوستان میں مسلمانوں، دلتوں اور مسیحی برادری کے خلاف ہندتوا کے امتیازی سلوک کو چیلینج کرنے کے لئے لبرلز کو ایک زبر دست جدوجہد کرنا ہو گی مگر وہاں کم از کم آئین تمام شہریوں کو برابر کا شہری تسلیم کرتا ہے۔ مودی نے سیکولر ازم کو مذاق بنا کر رکھ دیا ہے مگر جب تک مودی سرکار آئین کو تبدیل نہیں کر دیتی، ہندوستان سرکاری طور پر ایک سیکولر ملک ہے۔ پاکستان البتہ سیکولر ازم سے حلفاًدستبرداری کا اظہار کرتا ہے۔ پاکستانی آئین واضح طور پر مسلم اور غیر مسلم کے مابین امتیاز کرتا ہے۔

اگر آپ نے پاسپورٹ حاصل کرنا ہے تو بتانا ہو گا کہ آپ مسلمان ہیں یا غیر مسلم۔ ثانی الذکر انتخاب کافی مہنگا پڑ سکتا ہے کیونکہ اس کے نتیجے میں آپ کے شہری حقوق میں زبر دست کمی واقع ہوجاتی ہے۔ آئینی لحاظ سے کوئی پاکستانی ہندو، عیسائی یا احمدی ان حقوق کا دعویدار نہیں ہو سکتا جو ایک مسلمان کو حاصل ہیں۔

ہمارا وزیر اعظم اقوامِ متحدہ میں زبر دست تقریر تو کر سکتا ہے مگر دنیا اس تقریر کو کتنی سنجیدگی سے لے گی، یہ الگ معاملہ ہے کیونکہ ہمارا پر جوش مقرر اپنے ملک میں اقلیتوں سے امتیازی سلوک کا دفاع کرنے کے علاوہ کئی بار ختمِ نبوت کانفرنس میں شریک ہو چکا ہے۔

مجھے پاکستان اور ہندوستان میں ہی اپنے لبرل دوستوں پر فخر نہیں۔ مجھے اسرائیل، یورپ اور امریکہ کے لبرل بھی ازحد عزیز ہیں۔ اسرائیل میں وہ فلسطینیوں کے اس حق کے لئے جدوجہد کرتے ہیں کہ فلسطینیوں کی اپنی ریاست ہونی چاہئے۔ یورپ میں وہ مذہبی اور نسلی تعصب کے خلاف نبرد آزما ہیں۔ امریکہ میں وہ میکسیکن اور مسلمان برادریوں کے حقوق کے لئے سر گرم ہیں۔

اس میں شک نہیں کہ لبرلز میں بھی کچھ ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جن کا دامن صاف نہیں۔ ایسے لوگوں کی سیاہ کاریاں بھی بے نقاب ہونی چاہئیں۔

لبرل ازم البتہ ایک اخلاقی پراجیکٹ ہے جس کا مقصد ہے شخصی آزادیاں اور سب کے لئے انصاف۔ ہم ایک وسیع خاندان ہیں۔ اس خاندان کے سب افراد ایک دوسرے کو نہیں جانتے۔ اکثر اوقات ایک دوسرے سے اختلاف کرتے بھی دکھائی دیتے ہیں۔ ان میں کچھ ہیں جو بہت مذہبی ہیں۔ کچھ مذہب سے لاتعلق ہیں اور کچھ بالکل لامذہب۔ کچھ مے نوشی سے دل بہلاتے ہیں تو کچھ گوشت خور ہیں۔ کچھ سوشلزم کے حق میں ہیں تو بعض سرمایہ داری کو اچھا سمجھتے ہیں۔ ان تمام اختلافات کے باوجود ہم ایک خاندان کا حصہ اس بنیاد پر ہیں کہ ہم سب متنوع، کثیرالثقافتی اور برابری پر مبنی دنیا پر یقین رکھتے ہیں۔

غیر لبرل کون ہیں؟ سفید فام نسل پرست، نازی، اسلاموفوبیا کا شکارافراد اور ہر نوع کے مذہبی جنونی چاہے وہ یہودی ہوں یا ہندو، عیسائی، مسلمان یا ”پر امن“ بدھ۔

رجعت پرست، متعصب، قبائلی، فرقہ پرست، قوم پرست اور تنگ نظر انسان بننا بہت آسان ہے۔ اس کے بر عکس برداشت اور عالمگیریت کا مظاہرہ کرنا مشکل کام ہے۔

کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ سیاست کے میدان میں اخلاقیات کا جنازہ نکل چکا ہے مگر شایدایسا نہیں ہے۔ اخلاقیات کی ابھی موت نہیں ہوئی۔ وہ محض گہری نیند سو رہی ہے۔ ٹرمپ اور مودی جیسے عفریت بہت طاقتور ہیں مگر وہ ہمیشہ نہیں رہیں گے۔ ایک خوب صورت کل کی امید باقی رہنی چاہئے۔

پرویز ہودبھائی کا شمار پاکستان کے چند گنے چنے عالمی شہرت یافتہ سائنسدانوں میں ہوتا ہے۔ اُن کا شعبہ نیوکلیئر فزکس ہے۔ وہ طویل عرصے تک قائد اعظم یونیورسٹی سے بھی وابستہ رہے ہیں۔