شاعری

سماجی استبداد اور داخلی محسوسات: ستیہ پال آنند کی دو نظمیں

قیصر عباس

ستیہ پال آنند اردو کے صفِ اول کے نظم گو شاعرہیں جو گزشتہ نصف صدی سے مرغزارِ ادب کو لازوال نظموں سے آراستہ کرتے آر ہے ہیں۔ وہ ان چند اردو شاعروں میں سے ایک ہیں جو زود گوئی کے باوجو د تخیل اور شعریت کے اعلیٰ معیار کو ہمیشہ برقرار رکھتے ہیں اور پرانے قصے دہرانے کے بجائے نئے عنوانات پر نظمیں لکھنے پر پوری طرح قادر ہیں۔ کبھی وہ اپنے اردگرد کی دنیا کو دل کی گہرائیوں سے اٹھنے والے احساسات پر پرکھتے ہوئے نظموں کے رنگا رنگ تخلیقی سانچوں میں ڈھال کر امر کردیتے ہیں اور کبھی تخیل کی لمبی پرواز کے ذریعے پڑھنے والوں کو خود اپنی واردات کا ایک حصہ بنادیتے ہیں۔

بٹوارے کے ہنگاموں میں پاکستانی پنجاب سے ہجرت کرکے انڈیاآئے اور انگریزی ادب میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ پنجاب یونیورسٹی چندی گڑھ میں ایک عرصے تک انگریزی ادب پڑھاتے رہے۔ مشرق ِوسطیٰ میں درس و تدریس کے بعد واشنگٹن ڈی سی میں یونیوسٹی آف دی ڈسٹرکٹ آف کولمبیا میں تحقیق و تدریس کی خدمات انجام دیں۔

کچھ برس پہلے ان کی سوانح حیات ’کتھا چار جنموں کی‘منظر عام پر آچکی ہے جو برصغیر میں ادبی تاریخ کے پوشیدہ گوشوں کوانفرادی نقطہ نظر کے زاویوں سے اجاگر کرتی ہے۔ آج کل ورجینیا، امریکہ میں قیام پذیر ہیں اور ہمیشہ کی طرح اب بھی علمی اور ادبی سرگرمیوں میں اسی طرح مصروف ہیں جس طرح آج سے بیس سال پہلے تھے۔

یہاں ان کی دو نظموں میں ایک معروضی حقیقتوں او دوسری باطنی محسوسات کے گوشوں کو شاعری کے پیمانوں میں ڈھالتی نظر آرہی ہے۔ ان کی نظم ’آپ ولی نعمت ہیں‘پاکستان میں جاگیر داری نظام کے استبداد کی ایک سچی کہانی ہے جہاں ایک غریب کاشت کاراپنے ان داتاجاگیردار سے شکا یت کناں ہے۔ اس نظم کی شان ِ نزول ان کے اپنے الفاظ میں:

”وطن عزیز (پاکستان) میں قصور سے موصول ہوئی ایک خبر کے مطابق یہ کہانی سچی ہے… تاریخ کے جھروکے سے دیکھیں تو جن حقائق کا پتہ چلے گا ان میں سے ایک یہ ہے کہ آزادی کے فوراً بعد انڈیا میں تو جواہر لال نہروکی قیادت میں سوشلسٹ نظریہ رکھنے والی حکومت نے زمینداری سسٹم ختم کردیااور زمین کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کسانوں میں بانٹ دئے جب کہ وطن عزیز میں، چوں کہ حکومت وڈیروں، نوابوں اور زمینداروں کی تھی، ایسا کچھ نہیں ہوا اور آج تک زمین کی ملکیت ہاریوں کو نہیں دی گئی“۔

نظم کے آغاز میں ایک غریب ہاری جاگیردار کے سامنے سر جھکائے کھڑا ہے:

میر جملہ ہیں جناب
آپ ولی نعمت ہیں
اور میں آپ کی پرجا ہوں
رعایا ہوں، فقط باج گزار
آپ کے خیل و حشم میں ہوں
مرے ا ن داتا
دیکھئے میری طرف، عالی جاہ
(جیسا کہ آپ کا فرمان ہے، ہاری کے لئے)
آپ کے سامنے شرمندہ کھڑا ہوں
جوتا منہ میں لئے
اور سرکوجھکائے ہوئے میں
تن پہ میرے؟
نہیں کچھ بھی نہیں، بندہ نواز
اک فقط کرتاہے، پاجامہ ہے
پاؤں ننگے ہیں کئی برسوں سے
عمر میری؟…
نہیں، ساٹھ نہیں، عالی جاہ
صرف چالیس ہے، اک دو برس شاید کم ہو
نچلے طبقے سے ہوں
اسفل ہوں، فرومایہ ہوں
پیٹ پچکاہوا، مردود سا سینہ ہے مرا
اس لئے ساٹھ کا لگتا ہوں

بندہ پرور
فقط اتنی ہی ’عرضی‘ ہے مری
اس کٹائی پر مرے پاس نہیں ہے کچھ بھی
بیوی کو فوت ہوئے
اب تو کئی برس بیت گئے
ایک بیٹی تھی
جسے آپ کے کارندوں نے
کچھ برس پہلے اٹھایا تھا
مری جھونپڑی سے
میں نہیں جانتا
مرکھپ گئی ہوگی اب تو
اب تو یہ جسم ہے
اور ہاتھ میں اک چاقو ہے
لیجئے، یہ ہے مرا پیٹ
یہ آنتیں میری
آپ کے پاؤں پکڑتا
ہوایہ خون مرا
اور چاقو بھی لے لیں
میر جملہ ہیں جناب، آپ ولی نعمت ہیں۔

یہ نظم سماج کی تاریک حقیقتوں کو اسی ماحول کے حوالے سے اس طرح بیان کررہی کہ شاعر کا تخلیق کردہ منظر نا مہ قاری کو چونکائے بغیر نہیں چھوڑتا۔

ستیہ پال کی یہ نظم اکیسویں صدی کے اس فرسودہ جاگیردارانہ نظام کے غیر انسانی پہلوؤں کاحقیقت پسندانہ اظہار ہے جو آج کے اردو ادب میں شاذ و نادر ہی ملتاہے مگر نہ جانے کیوں یہاں شاعر ہار ی کے اندوہناک انجام کونظم کا حصہ بنانے سے گریزکرتاہے۔ اس درد ناک کہانی کاانجام وہ خود اس طرح بیان کرتے ہیں:

”قصور کی اس کہانی کا موڑ جو میں نے اپنی نظم میں نہیں لکھا، یہ ہے کہ اس کاشت کار نے بیسیوں لوگوں کی موجودگی میں پیٹ میں چھرا گھونپ کر خودکشی کرلی اور باہر نکلتی ہوئی آنتوں کوہاتھ میں لے کر مالک کو پیش کیا اور کہایہ ہے آپ کا لگان“۔

یہ نظم سماج میں طبقاتی استحصال کو اس کے ظلم کے ساتھ طشت ازبام کرتی ہوئی خارجی محرکات کو شاعری کے پیرائے میں ڈھال رہی ہے۔

اس کے برعکس ان کی دوسری نظم ’اغوا‘ شاعر کی باطنی روداد کا پرتوہے۔ یہاں شاعر شام کی تنہائی میں اپنے پیاروں سے جدا ہونے کا ایسا منظر پیش کرتا ہے جو اگرچہ حقیقی نہیں ہے مگر ناممکن بھی نہیں:

کھلی ہوئی چاندنی، مرا گھر، اکیلا کمرہ
تمام دروازے وا، کھُلی کھڑکیاں، ہوا
سرد چاندنی کے اُچھلتے فوارے اور میں
عضو عضو بیدار، ذہن ماؤف
نیند کوسوں دور
بستر پہ اُٹھ کے بیٹھاہوں کب سے

مری شریکِ حیات، بچوں کے ساتھ
گھر کے ایک کمرے میں سورہی ہے
میں جانتاہوں کہ میں اکیلا نہیں ہوں، لیکن
مجھے پتہ ہے کہ آج کی شب
خود اپنی دنیا میں اکیلا ہوں
…اک اکیلا

میں کیا کروں اس اکیلے پن کا علاج…؟
جیسے میں خودسے، کمرے سے پوچھتا ہوں
مگر یکاک
کھلی ہوئی چاندنی میں بھیگی ہوئی ہوا
کھڑکیوں سے آتی ہوئی مرے چاروں سمت
بہتی ہے…
ہلکی لہروں سی
میٹھے نغموں سی، ماں کی لوری سی
میری آنکھوں کو
میرے گالوں کو چومتی ہے
مجھے دھنک رنگ
تتلیوں کے پروں سے رنگین
مہین آنچل کی سلوٹوں میں لپیٹ کر
میرے ساتھ اُڑتی ہے
دور خوابوں کی وادیوں تک

میں نیند کے مورپنکھ رنگوں کی جھیل میں
ڈ وبنے سے پہلے

بس ایک لمحہ یہ سوچتاہوں
جب وہ جاگے گی…
میری بیوی
تو سُونے بستر کو دیکھ کر جانے کیا کہے گی۔

کہتے ہیں اکثر اوقات شاعر کا کلام مستقبل کے اندیشوں کی پیش گوئی بھی ثابت ہوتا ہے۔ یہاں شاعر حقیقت میں تنہا نہیں ہے مگر ذہنی طور پر وہ آنے والی تنہائی کے دکھ سے خوف زدہ ہے۔ فاطمہ حسن کے مطابق ستیہ پال کی نظموں کی ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ وہ خود سے باہر آکر خود کو دیکھنے میں مہارت رکھتے ہیں۔ ان کی اس پوری نظم میں بھی یہ تاثر ایک بھرپور طریقے سے ظاہر ہو تانظر آرہاہے جہاں وہ دور کھڑے ہوکر اپنی زندگی کو دھیان کے دریچوں سے دیکھنے کی کوشش کررہے ہیں۔ خود بینی کا یہ ہنر ستیہ پال کی نظموں کاایک اہم پیرایہ اظہار ہے جو ان کے کلام میں جگہ جگہ نظر آتاہے۔

ان دونوں نظموں کوستیہ پال آنند کے کلام کی نمائندہ نظمیں کہا جاسکتا ہے کہ کبھی وہ اپنے ماحول کے خارجی رویوں کی نشاندہی کرتے ہیں اور کبھی اندرونی واردات کو الفاظ کے موتیوں میں کچھ اس طرح پروتے ہیں کے وہ ان کی نہیں خود قاری کی واردات قلب کا حصہ بن جاتے ہیں۔ اردو شاعری میں ان دونوں اسالیب پر یکساں عبور بہت کم دیکھنے میں آتاہے۔

مجموعی طورپر ستیہ پال آنند خودبینی، خارجی محسوسات اور داخلی واردات کے سہارے انوکھے تخیلات کو سحر انگیز منظرنگاری میں ڈھالنے کے ماہر ہیں۔

Qaisar Abbas

ڈاکٹر قیصرعباس روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی  سے ایم اے صحافت کے بعد  پاکستان میں پی ٹی وی کے نیوزپروڈیوسر رہے۔ جنرل ضیا کے دور میں امریکہ آ ئے اور پی ایچ ڈی کی۔ کئی یونیورسٹیوں میں پروفیسر، اسسٹنٹ ڈین اور ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کرچکے ہیں۔ آج کل سدرن میتھوڈسٹ یونیورسٹی میں ایمبری ہیومن رائٹس پروگرام کے ایڈوائزر ہیں۔