شاعری

’جس میں چن چن کے چنی جائیں سیاسی اینٹیں، ایسی مسجد میں عبادت نہیں ہونے والی‘

قیصر عباس

یہ غالباً 2004ء کا سال تھا، آرلینڈو، فلوریڈا میں ایک مشاعرے کا اہتمام تھا جس میں انڈیا اور پاکستان کے کچھ جانے پہچانے شعرا و شاعرات بھی شریک تھے۔ ایک شاعرہ کو اسٹیج پربلا یا گیا تو انہوں نے سامعین سے ایک عجیب و غریب درخواست کر ڈالی۔ ان کا اصرار تھا کہ ان کے کلام کو تالیوں کی گونج میں سراہا جائے۔ اس کے بعد جو شاعر آئے انہوں نے بڑے مودبانہ انداز میں کہا کہ بر صغیر میں مشاعروں کی یہ روائت نہیں کہ شعراکے کلام کو تالیوں سے نوازا جائے۔ ان کے الفاظ میں ”ہم لوگ شاعری کو ہاتھ سے نہیں الفاظ سے داد دیتے ہیں۔“ یہ انڈیا سے آئے ہوئے شاعر راحت اندوری تھے۔ مشاعرہ تو انہوں نے لوٹ ہی لیا مگر یہ بھی معلوم ہوا کہ وہ اپنی زندگی میں بھی اتنے ہی بے باک تھے جتنے شاعری میں۔

ہندوستان میں اندور کے ایک غریب خاندان میں پیدا ہونے والا یہ ہونہار شاعر اگرچہ منہ میں سونے کا چمچہ لے کر پیدا نہیں ہوا لیکن اس نے اردو ادبیات میں پی ایچ ڈی کی، یونیورسٹی میں پروفیسری کی اور اپنے ہنر کے سہارے اردو کے شہرت یافتہ شاعر کی حیثیت سے پوری دنیا کا سفر کیا۔ یہی نہیں، راحت اندوری نے مصوری بھی کی اور بالی وڈ کی بے شمار فلموں کے لئے نغمے بھی تحریر کئے۔

کچھ بات تو تھی جو راحت اندوری کو دوسرے شاعروں سے الگ کرتی تھی ورنہ ایسے شعر اور کون کہہ سکتاہے:

ہمارے سرکی پھٹی ٹوپیوں پہ طنز نہ کر
ہمارے تاج عجائب گھروں میں رکھے ہیں

کسی غریب ڈوپٹے کا قرض ہے اس پر
تمہارے پاس جو ریشم کی شال ہے ٹھاکر

راحت اندوری جب اسٹیج پر آتے تو آسان اردو میں سہل مگر گہرے تخیلات کو ایک ماہر تھیٹر فنکار کی طرح ادا کرکے اپنے ماحول پر پوری طرح چھا جاتے۔ پر جوش ادائیگی اور انوکھے خیالات سے بڑے بڑے مجمعوں کے دل جیت لینا ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھالیکن اس کے باوجود وہ صرف مشاعروں کے شاعرنہیں تھے۔ ان کا کلام پڑھنے کے لئے بھی ہے اور سننے کے لئے بھی۔ ان کے نصف درجن سے زیادہ شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ رفعت سروش ان کے کلام پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

”ان کی غزل کی زبان بے حد جدید ہے…وہ تیزدھارے کے شاعر ہیں اور ترسیل معانی کے قائل۔ انہوں نے غز ل کی مروجہ اصطلاحوں، تلمیحات اور استعاروں سے گریز کیا ہے۔ زبان کو آسان بنا دیا ہے۔ ان کی غزل کی تفہیم کے لئے غزل کی تنقیدکے پرانے زاویے بے سود ہیں۔ راحت کی انفرادیت ان کی امیجری میں ہے۔ ان کا مصورانہ ذہن انہیں بے ارادہ اس وادی میں لے گیا ہے جہاں لفظوں کا کینوس ہے۔“

اپنا مدعا آسان لفظوں میں بیان کرتے ہوئے انہوں نے سورج، چاند، آسمان، پرندے، کبوتر اور جگنو کے استعارے جگہ جگہ استعمال کئے ہیں جنہیں انہوں نے اپنے وسعت بیان کے سہارے مختلف اور اچھوتے معانی پہنا دئے ہیں۔ رفعت سروش کے مطابق ان کی تقریباً آدھی شاعری میں سورج کا ذکر موجودہے جو طرح طرح کے روپ بدل کر ان کے ذہن کے دریچوں سے کلام کے بلند و بالا ایوانوں میں جھانکتا نظر آتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ وہ قدیم زمانے کے قبائلیوں کی طرح سورج کے ان پرستاروں میں شامل ہیں جو رات دن اس دیوتا کی چوکھٹ پر سرجھکائے کھڑے رہتے ہیں۔

سورج اردو شاعری میں روشنی، عظمت، کامیابی اور درخشاں مستقبل کی علامت بن کر سامنے آتاہے اور اسی لئے راحت اپنی نجی زندگی میں بھی ہر کامیابی کو سورج کی دین سمجھتے ہیں جس کی کرنوں نے ان کے آنگن کے ہر گوشے کو خوشیوں سے بھردیاہے:

آج سورج نے میرے آنگن میں
ہر کرن بے نیام کر دی ہے

اور پھر زندگی کو سورج کی جانب ایک کٹھن سفر قرار دیتے ہوئے، کہتے ہیں کہ اسے سر کرنے کے لئے فولادی بازوؤ ں کی ضرورت ہے موم کے بازؤں کی نہیں:

اسے کہہ دو کہ یہ اونچائیاں مشکل سے ملتی ہیں
وہ سورج کے سفر میں موم کے بازو لگاتا ہے

وہ روشنی کے اس عظیم مینارکے مقابلے میں بے مایہ جگنو ؤں کو نظر انداز نہیں کرتے جو تاریک جنگلوں میں روشنی کی پرچھائیاں بکھیرتے پھرتے ہیں۔ ان کی شاعری میں ننھا جگنو بھی روشنی کا اسی طرح پیامبر ہے جس طرح دیو ہیکل سورج مگر وہ اس ایک تخیل کو ہر بار مختلف انداز میں باندھتے ہیں:

لاکھ سورج سے دوستانہ ہو
ایک جگنو بھی پال رکھا کرو

جگنوؤں نے پھر اندھیروں سے لڑائی جیت لی
چاند سورج گھر کے روشن دان میں رکھے رہے

میں کالی رات کے تیزاب سے سورج بناتاہوں
مری چادر میں یہ پیوند اک جگنو لگاتا ہے

پھر اس تصور کو کہ کسی کا حسن اس کے ظاہر میں نہیں باطن میں ہوتا ہے، کسی اور اندازمیں پوری طرح آشکار کرتے ہیں مگر یہاں استعارہ جگنو کا نہیں چراغ کا ہے۔

آپ کی نظروں میں سورج کی ہے جتنی عظمت
ہم چراغوں کا بھی اتنا ہی ادب کرتے ہیں

یہی سورج کبھی کبھی محبوب کا روپ دھار کر زمین پر بھی اتر آتا ہے اور شاعر اس کے ساتھ آسمان کی بلندیوں میں کھو بھی جاتا ہے، اس احساس کے ساتھ کہ اسے اپنے گھر بھی واپس جاناہے جہاں کوئی اور اس کا منتظر ہے:

میرا رستہ تکتا تھا اک چاند کہیں
میں سورج کے ساتھ سفر میں رہتا تھا

لیکن جب یہی ہم سفر اس کا ساتھ چھوڑ جاتا ہے تو وہ اس سے کچھ دور اور ساتھ نبھانے کی التجا کرتا ہے:

دو پہر تک تو ساتھ چل سورج
تو نے رستے میں شام کر دی ہے

میں نے اے سورج تجھے پوجا نہیں سمجھا تو ہے
میرے حصے میں تھوڑی دھوپ آنی چاہئے

اکثر شاعر خود بھی سورج کا روپ دھار لیتا ہے جیسے کوئی اور بھی ہے جو اس کے شاعرانہ حسن کو سورج کی طرح پوجتے ہوئے ہوئے اس کے لکھے ہر لفظ کی صداقت کی کی گواہی دے رہاہے۔ یہاں شاعر محبوب ہے اور اسے پڑھنے والا عاشق:

اسے خبر ہے کہ میں حرف حرف سورج ہوں
وہ شخص پڑھتا رہا ہے لکھا ہوا میرا

لیکن سورج اور شاعر کا یہ رشتہ ہمیشہ کے لئے لا زوال بھی نہیں کہ اس کا پرستاراپنی انا کے آگے سورج دیوتا کوبھی جب چاہے آسمان سے زمین پر گراسکتاہے:

چاند سورج کہاں اپنی منزل کہاں
ایسے ویسوں کومنہ مت لگایا کرو

کئی دن سے نہیں ڈوبایہ سورج
ہتھیلی پرمری چھالا پڑا ہے

کبھی وہ سورج کی حدت سے گبھراکر سائے کی تلا ش کرتا نظر آتاہے:

سر پہ سورج سوار رہتاہے
پیٹھ پرشامیانہ رکھا جائے

اور جب رات کے سائے لمبے ہوجائیں تو سورج کا پتہ بھی ان ہی تاریکوں سے پوچھتا ہے جن میں وہ خود گرفتارہے:

کیا کہیں قتل ہو گیا سورج
رات سے رات بھر سے پوچھتے ہیں

سورج راحت کی شاعری میں ان دیونما انسانوں کا پرتو بھی ہے جو اپنی طاقت کے زعم میں یہ بھول جاتے ہیں کہ انہیں ایک دن جگ مگ کرتے سنگھاسن سے نیچے بھی اترنا ہوگا اور پھرسہارا وہی بے سہارا لوگ دیں گے جنہیں اس کے ایوانوں میں قدم رکھنے کی اجازت بھی نہیں تھی:

لہولہان پڑا تھا زمیں پہ اک سورج
پرندے اپنے پروں سے ہوائیں کرنے لگے

راحت مذاحمتی شاعری میں بھی کمال رکھتے ہیں اور ان کا بے خوف انداز ایوان اقتدار کے باسیوں کو ہمیشہ یاد دلاتا رہتاہے کہ یہاں وہ لوگ بھی بستے ہیں جنہوں نے وطن کے لئے قربانیاں دی ہیں۔ اسی کے ساتھ ہی وہ اپنے لوگوں سے بھی ناراض ہیں اور بیداری کی التجا کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جاگنے کے لئے صرف ارادے کی نہیں بیدای بھی ضروری ہے۔ یہاں سورج کا استعارہ قوم کے ضمیرکی آوازبن کر ابھرتا ہے:

ہم سے ناراض ہے سورج کہ پڑے سوتے ہیں
جاگ اٹھنے کا ارادہ ہے، یہی کافی ہے

ابھی سورج صدا دے کر گیا ہے
خداکے واسطے بیدارہوجا

مزاحمتی شاعر کا ذکر آیا تو آرلینڈو کے مشاعرے کی وہ غزل بھی یاد آئی جو سنا کر انہوں نے وہ شام اپنے نام کرلی تھی۔ یہ غزل مجھے آج تک یادہے:

مجھ سے جھو ٹوں کی حمائت نہیں ہونے والی
جان حاضر ہے، یہ خدمت نہیں ہونے والی

کون پھر اپنے چراغوں کی لویں کاٹتاہے
ان ہواؤں کی تو ہمت نہیں ہونے والی

جس میں چن چن کے چنی جائیں سیاسی اینٹیں
ایسی مسجد میں عبادت نہیں ہونے والی

یہ بھی طے ہے کہ مرا جرم نہ ثابت ہوگا
یہ بھی طے ہے کہ ضمانت نہیں ہونے والی

اب کے جو فیصلہ ہوگا یہیں رہ کر ہوگا
ہم سے اب دوسری ہجرت نہیں ہونے والی

راحت اندوری کے انتقال کر خبر پڑھ کر ابھی تک یہ یقین نہیں آرہاکہ پوری دنیامیں سورج کا آخری پرستار اب اس دنیا میں نہیں ہے۔ مگرسوچتا ہوں اس نے تو پہلے ہی کہہ دیا تھا:

یہ سانحہ تو کسی دن گزرنے والا تھا
میں بچ بھی جاتا تو اک روز مرنے والا تھا

Qaisar Abbas

ڈاکٹر قیصرعباس روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی  سے ایم اے صحافت کے بعد  پاکستان میں پی ٹی وی کے نیوزپروڈیوسر رہے۔ جنرل ضیا کے دور میں امریکہ آ ئے اور پی ایچ ڈی کی۔ کئی یونیورسٹیوں میں پروفیسر، اسسٹنٹ ڈین اور ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کرچکے ہیں۔ آج کل سدرن میتھوڈسٹ یونیورسٹی میں ایمبری ہیومن رائٹس پروگرام کے ایڈوائزر ہیں۔