خبریں/تبصرے

بلوچستان: 60 فیصد حصے میں انٹرنیٹ نہیں

لاہور (جدوجہد رپورٹ) معروف ویب سائٹ بلوچستان وائسز پر شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق بلوچستان کے 60 فیصد علاقوں میں انٹرنیٹ سروس موجود نہیں ہے۔ اکانومسٹ انٹیلی جنس یونٹ کی تحقیق پر مبنی اس رپورٹ کے مطابق انٹرنیٹ انکلوسیونس انڈیکس میں پاکستان کو 100 میں سے 76 اور ایشیا میں تقریباً آخری درجہ دیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق بڑے شہروں اور ضلعی ہیڈ کوارٹرز کے علاوہ بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں انٹرنیٹ سروس نہیں ہے۔ سکیورٹی کو بنیاد بنا کر صوبے کے سات اضلاع میں موبائل انٹرنیٹ سروس مستقل معطل ہے۔

پاکستان کی تقریباً 85 فیصد آبادی پنجاب، سندھ اور پشاور کے میدانی علاقوں میں مقیم ہے، باقی 15 فیصد آبادی گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے ویرانوں میں رہتی ہے۔ 25 فیصد سے زیادہ آبادی تک مناسب انٹرنیٹ سروس موجود نہیں ہے۔ مذکورہ رپورٹ میں اس دعوے کو بھی مسترد کیا گیا ہے کہ پاکستان کی ڈیجیٹل تقسیم کی بنیادی وجہ آبادی کی کثافت ہے۔

پاکستان میں سوشل میڈیا اپلیکیشن ٹویٹرکے 25 فیصد صارفین دارالحکومت اسلام آباد میں مقیم ہیں جو بلوچستان اور کے پی کے میں مجموعی ٹویٹر صارفین سے زیادہ ہیں۔

صرف گلشن اقبال کراچی میں جتنے ای کامرس کے آرڈر آتے ہیں اتنے پورے کوئٹہ سے نہیں آتے۔