دنیا

امریکی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں بھی جو بائیڈن صدر منتخب ہو گئے

قیصر عباس

امریکہ کے عام انتخابات میں کامیابی کے بعد اب دوسرے مرحلے میں الیکٹورل کالج کی اکثریت نے بھی جو بائیڈن کو سرکاری طورپر نیا صدر منتخب کر لیا ہے۔ پیر کے دن امریکہ کی تمام ریاستوں میں انتخابات کے اس اہم مرحلے میں اس خصوصی گروپ کی اکثریت نے، جسے الیکٹورل کالج کہا جاتا ہے، جو بائیڈن کو نیا صدر اور کاملا ہیرس کو نائب صدر منتخب کرلیا ہے۔

نو منتخب صدر جوبائیڈن نے مجموعی طورپر 306 ووٹ حاصل کر کے کامیابی حاصل کی جب کہ ٹرمپ نے 232 ووٹ حاصل کئے۔ تمام ریاستوں میں اس دوسرے مرحلے کے مجموعی ووٹوں کی تعداد 538 مقرر ہے اور جو امیدوار 270 ووٹ حاصل کرلے اسے کامیاب قرار دیا جاتا ہے۔ ان واضح نتائج کے باوجود صدر ٹرمپ نے ابھی تک اپنی شکست تسلیم نہیں کی ہے۔

نومنتخب صدر جو بائیڈن نے نتائج کے اعلان کے بعدقوم سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ”ان نتائج نے امریکہ کی سیاسی روح کو زندہ رکھتے ہوئے جمہوریت کا بھرم قائم رکھا ہے۔“ انہوں نے اعلان کیا کہ ”انتخابات میں لوگوں نے ووٹ کے ذریعے اپنے قومی اداروں کو مستحکم کیا ہے۔ ہمارے انتخابی نظام کی سچائی ثابت ہوچکی ہے۔ وقت آگیا ہے کہ اب سیاسی صفحے کو پلٹاجائے، اتحاد کی خاطر، مسائل کے حل کی خاطر۔“

انہوں نے اپنی مختصر تقریرمیں صدر ٹرمپ پر سخت الفاظ میں تنقید کرتے ہوئے یاد دلایا کہ اس سال 150 ملین لوگوں نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا اور 80 ملین لوگوں نے ووٹ دے کر انہیں صدر منتخب کیا ہے جس کی مثال امریکہ کی تاریخ میں کہیں نہیں ملتی۔ اس کے باوجود ٹرمپ نے درجنوں مقدمات میں ریاستوں کی عدالتوں اور سپریم کورٹ میں انتخابات کو چیلنج کیا لیکن وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو سکے۔

ان نتائج کی بنیاد پر جیتنے اور ہارنے والے امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ آئینی اور قانونی سمجھا جاتا ہے۔ کانگریس کے دونوں ایوان ایک مشترکہ اجلاس میں 6 جنوری کو اس فیصلے کی منظوری دیں گے جس کے بعد جو بائیڈن 20 جنوری کو امریکہ کے صد رکی حیثیت سے حلف اٹھائیں گے۔

امریکی انتخابات میں ملکی سطح پر انتخابات سے لے کر الیکٹورل کالج تک کے یہ مرحلے عام طور پر مروجہ اصولوں اور آئینی تقاضوں کے مطابق آسانی سے طے ہوجاتے ہیں مگر اس سال کے انتخابات ووٹنگ کے بعد ہی تنازعات کا شکار رہے۔ صدر ٹرمپ اس تنازعے کی بنیادی وجہ تھے جنہوں نے واضح شکست کے باوجود نتائج قبول کرنے سے انکارکیا اور کئی ریاستوں اور سپریم کورٹ میں بھی مقدمات دائر کئے۔ ان تمام کوششوں کے باوجود ان مقدموں میں سپریم کورٹ سمیت ریاستی عدالتوں نے انتخابات کو شفاف قرادے کرٹرمپ کی شکست پر مہر ثبت کردی تھی۔

امریکہ میں انتخابی طریقہ کار کے مطابق ہر ریاست سے کانگریس میں منتخب نمائندوں کی تعداد کے برابرالیکٹورل کالج کے نمائندوں کی تعداد بھی ہوتی ہے۔ ریاست میں صدارتی انتخابات جیتنے والی جماعت ہی یہ نمائندے نامزد کرتی ہے جو اس کے صدارتی امیدوارکو ووٹ دیتے ہیں۔ اس فارمولے کے حساب سے جن ریاستوں میں جو بائیڈن عام انتخاب میں کامیاب رہے وہاں انہیں کالج کے تمام نمائندوں کے ووٹ بھی ملے۔

الیکٹورل کالج کے سب سے زیادہ ووٹ کیلیفورنیا (55)، ٹیکساس (38)، پنسلوینیا (20)، نیویارک (29)، فلوریڈا 29)) اور الینوئے (20) کی ریاستوں کے ہیں اور ان میں ووٹوں کی اکثریت حاصل کرنے والے امیدوار ملک کے صدر بننے میں کامیاب رہتے ہیں۔

دیکھا گیاہے کہ ملک میں مجموعی ووٹوں کی اکثریت کے باوجود الیکٹورل کالج کے ووٹوں کی بنیاد پرہی صدارت کا فیصلہ ہوتاہے۔ چار سال پہلے بھی صدارتی انتخابات میں ہیلری کلنٹن، جنہیں مجموعی طورپر ڈونلڈ ٹرمپ سے زیادہ ووٹ ملے تھے، الیکٹورل کالج کے اکثریتی ووٹ لینے میں ناکام رہی تھیں۔ ان نتائج کی بنیاد پرہی ٹرمپ کو صدر منتخب کیا گیا تھا لیکن اس سال عام انتخابات اور الیکٹورل کالج دونوں میں جوبائیڈن کی برتری کے باوجود ٹرمپ نے اپنی شکست تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

Qaisar Abbas

ڈاکٹر قیصرعباس روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی  سے ایم اے صحافت کے بعد  پاکستان میں پی ٹی وی کے نیوزپروڈیوسر رہے۔ جنرل ضیا کے دور میں امریکہ آ ئے اور پی ایچ ڈی کی۔ کئی یونیورسٹیوں میں پروفیسر، اسسٹنٹ ڈین اور ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کرچکے ہیں۔ آج کل سدرن میتھوڈسٹ یونیورسٹی میں ایمبری ہیومن رائٹس پروگرام کے ایڈوائزر ہیں۔