خبریں/تبصرے

کریمہ مہراب بلوچ کی پر اسرار ہلاکت: ’دھمکیاں مل رہی تھیں‘

لاہور (جدوجہد رپورٹ) گذشتہ روز پاکستان اور بیرون ملک مقیم پاکستانی کمیونٹی اس خبر پر صدمے کا شکار ہوئی کہ بلوچستان کی معروف سماجی کارکن اور بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد (بی ایس او آزاد) کی سابق چیئرپرسن کریمہ مہراب بلوچ کی لاش کینیڈا کے شہر ٹورنٹو سے برآمد ہوئی ہے۔ وہ گزشتہ اتوار سے لاپتہ تھیں اور ٹورنٹو پولیس انکی تلاش میں مصروف تھی۔ پولیس کے مطابق آخری مرتبہ کریمہ بلوچ کو 20 دسمبر کی دوپہر تین بجے دیکھا گیا تھا، جس کے بعد سے وہ لاپتہ تھیں۔

ٹورنٹو پولیس نے کریمہ بلوچ کے اہلخانہ اور دوستوں کو انکی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ لاش پولیس کی تحویل میں ہے جسے پوسٹ مارٹم کے بعد ورثاء کے حوالے کیا جائے گا۔

بی ایس او آزاد کے سابق رہنما اور کریمہ بلوچ کے سیاسی ساتھی لطیف جوہر بلوچ نے میڈیا کو بتایا کہ اتوار کی دوپہر کریمہ نے اپنے اہل خانہ کو بتایا کہ وہ واک کیلئے جا رہی ہیں جس کے بعد انکا کوئی پتہ نہیں چلا۔ شام تک کوئی خبر نہ ملنے پر پولیس کو اطلاع دی گئی۔ پولیس کے مطابق انکی لاش جزیرے کے پاس پانی سے ملی تاہم موت کی وجہ ابھی تک نہیں بتائی گئی۔

کریمہ بلوچ کی ہلاکت کی تصدیق کے بعد سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے انکی ہلاکت کی تحقیقات کامطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ٹویٹر پر جاری ایمنسٹی انٹرنیشنل کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ”کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں سماجی کارکن کریمہ بلوچ کی ہلاکت افسوسناک ہے اور اسکی فوری اور موثر تحقیقات ہونی چاہیے اور مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔“

الجزیرہ کے مطابق کریمہ بلوچ کے خاندان کے افراد کا کہنا ہے کہ ان کو دھمکیاں مل رہی تھیں اور وہ بیرون ملک بھی اس وقت مجبوری کے عالم میں گئی تھیں جب وہ تنظیم کی چیئرپرسن نامزد ہوئی تھیں۔ اس وقت بی ایس او آزاد پر پابندی عائد تھی اور تمام قائدین کو گمشدہ کیا جا رہا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ کریمہ بلوچ کیلئے ملک کے اندر رہ کر سیاسی سرگرمیاں جاری رکھنا ممکن نہیں رہا تھا۔

وہ 2018ء میں بی ایس او سے فارغ ہوئیں تاہم انھوں اپنی تعلیم جاری رکھی اور وہ اس وقت ٹورنٹو یونیورسٹی میں اکنامکس کی طالبہ تھیں۔

کریمہ بلوچ کی بیرون ملک جلاوطنی کے دوران ان کے ماموں ماسٹر نوراحمد بلوچ کو لاپتہ کیا گیا اور ان کی لاش جنوری 2018ء میں ملی جبکہ ان کے ایک چچا زاد بھائی کریم جان کو بھی لاپتہ کیا گیا تھا اور ان کی بھی تشدد زدہ لاش ملی تھی۔

کریمہ بلوچ کی بہن نے بی بی سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ جب ان کے ماموں ماسٹر نور احمد بلوچ لاپتہ تھے تو انکے خاندان کو متعدد بار پیغام بھیجا گیا کہ اگر کریمہ بلوچ اپنی سرگرمیاں ترک کر کے وطن واپس آ جائیں تو ماموں کو چھوڑ دیا جائے گا لیکن کریمہ اس کیلئے تیار نہیں ہوئیں تو ماموں کی لاش مل گئی۔

کریمہ بلوچ نے تربت سے بی اے کیا اور بعد میں بلوچستان یونیورسٹی میں ایم اے میں داخلہ لیا لیکن اپنی سیاسی سرگرمیوں کے باعث تعلیم جاری رکھ نہیں سکیں، پاکستان میں حالات ناساز گار ہونے کے بعد وہ کینیڈا چلی گئیں جہاں انھوں نے سیاسی پناہ حاصل کی۔

کینیڈا میں انھوں نے ایک سیاسی کارکن حمل سے شادی کر لی اور خود کو انسانی حقوق کے کارکن کے طور پر سرگرم رکھا۔ وہ یورپ سمیت جنیوا میں انسانی حقوق کے حوالے سے اجلاسوں میں شرکت کرتی رہیں اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئیٹر اور فیس بک پر اپنے خیالات کا اظہار کرتی تھیں۔

بلوچ نیشنل موومنٹ نے کریمہ بلوچ کی ہلاکت پر چالیس روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔

کریمہ بلوچ کو بلوچ خواتین میں سیاسی تحریک پیدا کرنے کا بانی کہا جاتا ہے۔ وہ بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کی ستر برس کی تاریخ میں تنظیم کی پہلی خاتون سربراہ بنیں۔

بلوچستان میں طالبات کو بلوچ تحریک میں شامل رکھنے اور احتجاجوں میں شریک کرانے میں ان کا اہم کردار رہا ہے۔

کریمہ بلوچ نے بی بی سی کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ انہیں دھمکیاں دی جارہی ہیں کہ وہ بلوچ حقوق کی جدوجہد سے دستبردار ہو جائیں، ورنہ ان کے خاندان کے کسی بھی مرد کو نہیں چھوڑا جائے گا۔

انھوں نے کہا تھا ’ہم نے خود اس مشکل راہ کو منتخب کیا ہے اس لیے میں دھمکیوں سے اپنی جدوجہد سے دستبردار نہیں ہوں گی۔‘

واضح رہے کہ رواں سال مارچ کے مہینے میں ایک اور بلوچ پناہ گزین صحافی ساجد حسین سویڈن سے لاپتہ ہو گئے تھے اور کچھ وقت بعد ان کی لاش، سٹاک ہولم کے نواح میں واقع شہر، اپسالا کے ایک دریا سے برآمد ہوئی تھی۔ ان کے عزیز و اقارب نے دعویٰ کیا تھا کہ انھیں قتل کیا گیا ہے تاہم پولیس کی تحقیقات میں یہ بات ثابت نہیں ہو سکی تھی۔