خبریں/تبصرے

امریکی کانگرس کے حملہ آوروں میں 21 سابق فوجی، پولیس اہلکار بھی شامل تھے

لاہور (جدوجہد رپورٹ) امریکی دارالحکومت پر صدر ٹرمپ کے حامی حملہ آوروں میں سابق فوجی اور پولیس اہلکاروں کی شمولیت کا انکشاف ہوا ہے۔ خبررساں ادارے اے پی کے مطابق کم از کم 21 حاضر سروس یا سابق امریکی فوجی اہلکاروں کو دارالحکومت کے ہنگامے میں شناخت کیا گیا ہے۔ ایک درجن سے زائد دیگر افراد زیر تفتیش ہیں لیکن انہیں حملہ آوروں کے طور پر تاحال نامزد نہیں کیا گیا۔

اے پی کے مطابق امریکی پارلیمان پر حملہ کرنے والے ہجوم میں شامل بہت سے لوگوں کو یا تو فوجی تربیت حاصل تھی یا فوجیوں کے ذریعے تربیت حاصل کر رکھی تھی۔

امریکہ کے اندر انتہا پسندی سے متعلق کام کرنے والے ماہرین نے برسوں سے دائیں بازو کے عسکریت پسندوں اور سفید فام بالادستی کیلئے کام کرنے والے گروپوں کی طرف سے لوگوں کو فوجی تربیت کے ساتھ ساتھ بنیاد پرست بنانے اور بھرتی کرنے کی کوششوں سے متعلق انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ 6 جنوری کو ہونے والی بغاوت، جس میں پانچ افراد ہلاک ہوئے، ایک خوفناک عمل تھا۔

نیویارک یونیورسٹی میں ایف بی آئی کے سابق ایجنٹ مائیکل جرمن نے کہا کہ ”داعش اور القاعدہ کسی امریکی فوجی افسر کی تربیت اور تجربہ رکھنے والے شخص کو حاصل کرنے کی بھرپور کوشش کریں گے۔ ان لوگوں کے پاس وہ تربیت اور صلاحیتیں ہیں جو کسی بھی غیر ملکی دہشت گرد گروہ کے کام سے کہیں زیادہ ہیں، غیر ملکی دہشت گرد گروہوں کے پاس ایسے ممبر نہیں ہوتے۔“

حملوں میں سامنے آنے والے سب سے نمایاں افراد میں ٹیکساس سے تعلق رکھنے والے ایک ریٹائرڈ ایئر فورس کے لیفٹیننٹ کرنل بھی شامل ہیں جو سینیٹ کے فرش پر ہیلمٹ اور جسمانی زرہ باندھے ایک تصویر میں نظر آنے کے بعد گرفتار کئے گئے ہیں۔

سان ڈیاگو سے تعلق رکھنے والی ایک اور ایئر فورس کی سابق فوجی اہلکار کو امریکی کیپٹل پولیس نے اس وقت گولی مار کر ہلاک کر دیا جب وہ ہاؤس چیمبر کے قریب بیریکیڈ سے چھلانگ لگانے کی کوشش کر رہی تھیں۔

ورجینیا کے ایک چھوٹے سے قصبے سے دو پولیس افسران کو ایف بی آئی نے حملے کے وقت سیلفی پوسٹ کرنے کے بعد گرفتار کیا ہے۔

پینٹا گون حاضری سروس فوجی اہلکاران کے زیر تفتیش ہونے کی مکمل تفصیل دینے سے گریزاں ہے، تاہم فوج کے اعلیٰ قائدین نو منتخب صدر جو بائیڈن کے حلف سے پہلے کافی تشویش میں مبتلا نظر آئے اور انہوں نے ایک انتباہ جاری کیا کہ آزادی اظہار کا حق کسی کو بھی تشدد کا حق نہیں دیتا۔