خبریں/تبصرے

وزیر اعظم عمران خان، صحافیوں کو نئے قوانین نہیں، تحفظ دیجئے: سی پی جے

قیصر عباس

صحافیوں کے تحفظ کی عالمی تنظیم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (سی پی جے) نے ایک کھلے خط میں پاکستان کے وزیراعظم عمران خان سے اپیل کی ہے کہ وہ میڈیا پر پابندیوں کے لئے نئے ادارے ’پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی‘کی تشکیل کے بجائے ملک میں صحافیوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔

ادارے کے ایشیا پروگرام کے رابطہ کار سٹیون بٹلر نے اس خط میں واضع کیا ہے کہ وہ ملک میں اس مجوزہ حکومتی ادارے کی تشکیل کے خلاف ہیں کیونکہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 19 اور اس کی ترمیم 18 کے ذریعے آزادی رائے کی ضمانت دی گئی ہے اور صحافیوں اور ذرائع ابلا غ کی آزادی لئے ان ہی کو بنیاد بنانا چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں میڈیا کو صرف آزادی فراہم کرنے اور مختلف آرا کے احترام کے ذریعے ہی مضبوط اور موثر بنایا جا سکتا ہے۔ میڈیا قوانین لاگو کرنے کے دوسرے اداروں کو ایک ادارے میں ضم کرکے دراصل صحافت کو حکومت کی پروپیگنڈہ مشین میں تبدیل کرنے کی راہ مزید آسان ہو جائے گی۔

سی پی جے کی پریس ریلیز کے مطابق ان اقدامات سے ملک میں جمہوری روایات اور اقدار کو سخت خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ ادارے کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان میں آزادی رائے کے تحفظ کے لئے پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس، ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان اور بار کونسل کے موقف کی مکمل تائید کرتے ہیں۔

خط کے مطابق ”ملک کو اس وقت میڈیا کے نئے قوانین اور مداخلت کی نہیں بلکہ پابندیوں اور قوانین میں کمی کی ضرورت ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ نئے ادارے کی تشکیل کے ذریعے نئے قوانین وضع کئے جائیں گے۔“ ملک میں موجودہ عدالتی نظام کی موجودگی کے باوجود میڈیا کی شکایات اور کیسز کو ایک خصوصی ٹریبونل کے ذریعے سماعت کی تجویز پر عمل درامدسے صحافی برادری میں خوف و ہراس پیدا ہو سکتا ہے اور آزادی رائے پر پابندیاں لگائی جا سکتی ہیں۔

سی پی جے نے مطالبہ کیا ہے کہ نئے قوانین کی تشکیل کے بجائے حکومت میڈیا کی تنظیموں کے تعاون سے صحافیوں کو انصاف دینے اور ان پر حملوں کے ملزموں کو سزادینے کے اقدامات پر سنجیدگی سے عمل کرے۔

Qaisar Abbas

ڈاکٹر قیصرعباس روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی  سے ایم اے صحافت کے بعد  پاکستان میں پی ٹی وی کے نیوزپروڈیوسر رہے۔ جنرل ضیا کے دور میں امریکہ آ ئے اور پی ایچ ڈی کی۔ کئی یونیورسٹیوں میں پروفیسر، اسسٹنٹ ڈین اور ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کرچکے ہیں۔ آج کل سدرن میتھوڈسٹ یونیورسٹی میں ایمبری ہیومن رائٹس پروگرام کے ایڈوائزر ہیں۔