خبریں/تبصرے

530 ملٹی نیشنلز اور برانڈز نے فیس بُک کا بائیکاٹ کر دیا

لاہور (جدوجہد رپورٹ) سیا ہ فام امریکی شہری جارج فلوئڈ کی ہلاکت سے شروع ہونے والی نسل پرستی کے خلاف احتجاجی تحریک کا تازہ اور سب سے بڑا شکار فیس بک بنا ہے جس کے خلاف بدھ کے روز 530 ملٹی نیشنلز اور برانڈز نے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔ یہ کمپنیاں ایک ماہ تک فیس بک کو اشتہار نہیں دیں گی۔

فیس بک سالانہ 70 ارب ڈالر کماتا ہے۔ فیس بک پر 8 ملین ایڈورٹائزرز ہیں۔ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ فیس بک کو اس بائیکاٹ سے زیادہ نقصان نہیں ہو گا کیونکہ اس کے سو بڑے ایڈورٹائزرز سے فیس بک اپنے کل اشتہارات کی کمائی کا چھ فیصد کماتا ہے۔

دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ فیس بک کو اصل نقصان اشتہارات کی کمائی میں کمی سے نہیں ہو گا بلکہ سٹاک مارکیٹ میں اس کے شیئر گرنے سے اسے جو اربوں کا نقصان ہوا ہے یا اس کی شہرت کو جو نقصان پہنچا ہے اس کا خمیازہ فیس بک کو بھگتنا پڑے گا۔

بائیکاٹ کرنے والی کمپنیاں فیس بک سے مطالبہ کر رہی ہیں کہ وہ نفرت پر مبنی مواد کو روکنے کے لئے نئے قوانین بنائے اور یہ مہم صدر ٹرمپ کا ایک نسل پرستانہ بیان فیس بک سے نہ ہٹائے جانے کے بعد شروع ہوئی تھی۔

اگلے ہفتے فیس بک کے مالک مارک زکربرگ بائیکاٹ کرنے والی کمپنیوں کے نمائندوں سے ملیں گے۔