اداریہ

عاصم باجوہ کو بچاتے ہوئے عمران خان خود ڈوب جائیں گے!

اداریہ جدوجہد

گذشتہ روز دو ایسے واقعات ہوئے جن کی توقع شائد پاکستان میں کسی کو نہیں تھی۔ اؤل، وزیر اعظم عمران خان نے جنرل عاصم باجوہ کا استعفیٰ قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ جنرل عاصم باجوہ ایک روز قبل، یہ اعلان کر چکے تھے کہ وہ بطور مشیر اطلاعات مستعفی ہو جائیں گے۔ اس اعلان کے بعد ان پر سوشل میڈیا صارفین یہ دباؤ ڈال رہے تھے کہ وہ سی پیک میں بھی اپنے عہدے سے مستعفی ہوں۔ تادم تحریر، واضح نہیں کہ جنرل باجوہ بھی اپنے استعفیٰ والے فیصلے پر قائم رہیں گے یا نہیں۔

دوم، ایس ای سی پی کے ایک عہدیدار، ساجد گوندل، کو نامعلوم افراد اغوا کر کے لے گئے۔ اس شک کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ انہیں احمد نورانی کے لئے خبر کا سورس ہونے کی وجہ سے اغوا کیا گیا ہے۔ یہ شکوک و شبہات ایسے بے بنیاد بھی نہیں۔

مندرجہ بالا دونوں واقعات نے اس حکومت کی رہی سہی ساکھ کو بھی خاک میں ملا دیا ہے۔

ہم نے چند دن پہلے ایک ادارتی نوٹ میں کہا تھا کہ احمد نورانی کی رپورٹ پر حکومت کے لئے خاموش رہنا ممکن نہیں ہو گا۔ جنرل عاصم کو خود یہ خاموشی توڑنی پڑی۔ موقع پرست حزب اختلاف کو بھی لب کشائی کرنی پڑی۔ تردید کے بہانے ہی سہی، میڈیا کو بھی رپورٹ کرنا پڑا۔ تضاد اتنا کھلا ہے کہ روایتی جوڑ توڑ، زور زبردستی، سنسر اور ہیرا پھیری سے مسئلے پر قابو نہیں پایا جا سکے گا۔

عمران خان کا استعفیٰ رد کر نا، ساجد گوندل کا اغوا، سوشل میڈیا پر کمپینز کی مدد سے جنرل عاصم باجوہ کو بچانے کی کوششیں۔ یہ سب تدبیریں الٹی پڑ رہی ہیں۔

عمران خان کی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ شائد یہ سوچ رہی ہے کہ انہیں کمزور نظر نہیں آنا چاہئے مگر بات یہ ہے کہ سچ بہت بڑی طاقت ہے۔ لیون ٹراٹسکی نے کہا تھا کہ جھوٹ کو کتنا بڑا ریاستی ڈھانچہ ہی کیوں نہ مہیا کر دو، وہ زیادہ عرصہ قائم نہیں رہ سکتا۔

عمران خان جنرل عاصم باجو ہ کو بچانے کے چکر میں خود ڈوب جائیں گے۔ جس سیاستدان نے اپنانام نہاد سارا کرئیر ہی بدعنوانی کے خلاف نعرے بازی سے بنایا ہو، اس کے لئے جنرل باجوہ کو بچانا ممکن نہیں ہے۔

زیادہ بہتر ہو گا کہ سچ کو سلطان مانتے ہوئے ایک اصولی فیصلہ لیا جائے۔ جنرل عاصم باجوہ سے نہ صرف تمام سرکاری عہدے واپس لئے جائیں بلکہ ان سے بھی منی ٹریل مانگا جائے۔