نقطہ نظر

طارق علی کا ناول ’پتھر کی عورت‘: ترکی کا ایک تاریخی استعارہ

بشارت شمیم

ترجمہ: قیصر عباس

پاکستانی نژاد ترقی پسند دانشور طارق علی نے مسلم ثقافت اور سیاست پر پانچ ناول تحریر کئے ہیں۔ ان میں سے ایک’پتھر کی عورت‘ کا موضوع خلا فت عثمانیہ کے زوال کے پس منظرمیں ترکی سمیت مسلم معاشروں میں جاری جدیدیت او رجعت پسندی کے درمیان کشمکش ہے۔ کشمیری مصنف بشارت شمیم کا اس کتاب پر تبصرہ آن لائن جریدے ’نیوز کلک‘میں شائع ہوا تھا جس کا اردو ترجمہ یہاں ’روزنامہ جدوجہد‘ کے قارئین کے لئے پیش کیا جارہا ہے۔ (مترجم)

طارق علی کا ناول ’پتھر کی عورت‘ (The Stone Woman) انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کے اوائل میں سلطنت عثمانیہ کے زوال کی داستان ہے اور عصرِ حاضر میں ترکی کی سیاست پر تبصرہ بھی ہے۔ سلطنت عثمانیہ نے مشرق وسطیٰ اور مشرقی یورپ کے ایک وسیع علاقے پر چھ سو سال سے زیادہ عرصے تک حکومت کی جو دوسری سلطنتوں کی طرح ابھری، اپنے عروج تک پہنچی اور پھر زوال پذیر ہو گئی۔

’پتھر کی عورت‘ جس کی اشاعت کو دو عشر ے گزر چکے ہیں، ایک تاریخی تنقید ہے مگر آج کے ترکی کا آئینہ بھی ہے۔ عصرِ حاضر کا ترکی بھی ناول کے 1921ء سے پہلے کے عہد کی طر ح بڑی تیزی سے رجعت پسندی کی طرف گامزن ہے جس پر ناول میں تنقید کی گئی ہے۔ تصنیف میں اس دور کی تار یخ عثمانیہ دور کی اشرافیہ کے ذریعے بیان کی گئی ہے۔ یہاں پاشا خاندان عثمانیہ د ور کے ایک سر کردہ درباری یوسف پاشا کی روایات کا وراث ہے۔ ناول میں اس خاندان کو عثمانیہ سلطنت ہی کے ایک استعارے کے طور پر استعمال کیاگیا ہے اور ان کی قسمت بھی سلطنت کے عروج و زوال سے وابستہ ہے۔

اس کے ساتھ ہی ناول تر کی میں مغربی نوآبادیاتی نظام کے عمل دخل کا احاطہ بھی کرتا ہے۔ اس میں سلطنت کے زوال کے ساتھ ہی اس کی اندرونی مزاحمتوں کی شدت بھی دکھائی دیتی ہے جو دوررس سماجی تبدیلیوں اور اصلاحات کی خواہا ں ہیں۔ ناول کے دو کردار سلیم اور حلیل کے درمیان یہ گفتگو بھی اسی کشمکش کو ظاہر کرتی ہے:

”یہ صدی اب ختم ہونے والی ہے اور اس کے ساتھ ہی سلطان اور سلطنت بھی کیونکہ ان کا وقت اب آگیا ہے لیکن ہمارا قت کب آئے گا؟“

اس رئیس خانوادے کے سربراہ اسکندر پاشادربار کے پرانے نمک خوار کے طورپر احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ اچانک ایک خطرناک بیماری کے نتیجے میں وہ قوت گویائی سے محروم ہوجاتے ہیں۔ اسکندر کئی ممالک میں سلطنت کے سفیر رہنے کے بعد اب ریٹائر ہو چکے ہیں۔ ان کی چاراولادیں ہیں جن میں سب سے بڑے بیٹے سلمان ہیں، حلیل ایک جنرل ہیں، بیٹی نیلوفر او ران کی شادی شدہ سوتیلی بہن زینپ ہیں۔

ان کے علاوہ اسکندر پاشا کے بڑے بھائی مہمت اور ان کے ہم جنس پرست عاشق(اور جرمن اتالیق) بیرن پاشا ہیں جو ناول میں بطور ایک راوی اپنی داستان سنارہے ہیں۔ دراصل اس خاندان کے ان ہی انفرادی بیانیوں کے ذریعے قاری عثمانیہ سلطنت کی تاریخ سے واقف ہوتاہے۔ یہ کردار تاریخی اعتبار سے اہم تونہیں لیکن وہ اپنے عہد کے مہروں کی طرح تاریخ کو آگے بڑھانے کاکام سرانجام دے رہے ہیں۔ جوں جوں سیاسی حالات بدلتے جارہے ہیں ان کی زندگی بھی بدل رہی ہے۔

یہ 1899ء کا پرآشوب زمانہ ہے اور خلافت عثمانیہ کی طاقت میں بتدریج زوال کے آثار شروع ہوگئے ہیں۔ ترکی کے نوجوانوں میں ایک بے چینی سی پائی جاتی ہے ا ور وہ اب انقلاب کا مطالبہ کررہے ہیں تاکہ خلافت سے نجات حاصل کرکے ملک کو یورپ کے بدلتے ہوئے حالات کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار کیا جائے۔

نیلوفر بھی ناول کی راوی ہیں جن کی زبانی یہ کہانی سنائی جارہی ہے:

”دنیامیں بہت کچھ ہورہاہے۔ باغیوں کی راہ ہموار کی جارہی ہے، مزاحمت کی تیاریاں ہورہی ہیں اور شہنشاہوں میں ایک طرح کی تشویش پائی جاتی ہے۔ تاریخ لکھی جارہی ہے مگر یہ سب خوشبوؤں میں گھرے ہمارے اس باغ سے بہت دور کی باتیں لگتی ہیں“۔ لیکن ناول کے سب کردار ملک میں ہونے والی تبد یلیوں سے لا تعلق نہیں ہیں۔ خلافتِ عثمانیہ کے فرماں رواسلطان عبدالحمیدثانی کے خلاف بغاوت کی آوازیں اب صاف سنائی دے رہی ہیں۔

خانوادے کے کچھ ارکان بالخصوص فوج کے نوجوان جنرل حلیل بھی اس انقلابی سوچ کا ایک حصہ ہیں اور چاہتے ہیں کہ خلافت ختم کرکے ایک سیکولر نظام کی بنیاد رکھی جائے۔ قومیت کے نظر یے پر بنی اتحاد اور ترقی کمیٹی جو بعد میں ’ینگ ٹرکس‘کے نام سے مشہور ہوئی، انقلاب کے لئے سرگرم ہے۔ فوج کے دوسرے افسران اور پاشا خاندان کے سلیم اور حلیل بھی اس تحریک کا حصہ ہیں اور اس کی ایک خفیہ میٹنگ ان کے گھر بھی ہوتی ہے۔

یہاں جدید ترکی کے بانی مصطفی کمال پاشا کا ذکر بھی چلتے چلتے کیاگیاہے اور نام لئے بغیر انہیں ’سلونیکا کے ایک نوجوان افسر‘ کے طورپریاد کیا گیا ہے۔ وہ قوم پرستوں کی اس تحریک کا ایک حصہ ہیں جو و د سرے اقدامات کے علاوہ عربی رسم الخط کو لاطینی سے بدلنا چاہتے ہیں تاکہ مغربی تصورات بھی سماج کا حصہ بنیں۔

طارق علی کا یہ بیانیہ ترکی کی تاریخ کے اس باب کا تعارف کراتا ہے جس میں ایک نئے نظام کی بنیاد رکھی جارہی ہے۔ ایک ایسا نظام جہاں سماجی مساوات اور عرب نژاد شہریوں، کرد، آرمینی، بدو، یونانی اور یورپی اقلیتوں کے لیے بھی جگہ ہو۔ یہ ایک ایسی جدید مملکت کا خواب ہے جہاں مذہب، اصلاحات اور سماجی مسائل پر بحث کی جاسکے۔ اگرچہ بعد میں حلیل، سلیم اور مہمت ان نظریات پرسوالات بھی اٹھاتے ہیں لیکن مجموعی طورپر وہ ایک ایسے معاشرے کی بات کر رہے ہیں جہاں مختلف زبانوں اور رنگ ونسل کے امتزا ج سے مختلف سماجی رویوں کو فروغ حاصل ہو۔ سلطنت میں جاری ان ہی نئے تصورات کے ذریعے مصنف نے مغرب کے ان نظریات کو چیلنج بھی کیاہے جن کے تحت اپنے مقاصد کے حصول کے لئے مسلمانوں کو ایک اکائی کے طورپر دکھایا جاتا ہے اور ان کے منفرد تاریخی و ثقافتی ورثوں کی مکمل طورپر نظراندا ز کیا جاتا ہے۔

مصنف نے اسلامی تہذیب کے اس جدید تصور کو ناول میں جگہ جگہ اجاگر کیاہے خصوصی طورپر نوجوان فوجی حلیل کے ذریعے جہاں و ہ کہہ رہا ہے:

”ہم نے علما کو ملک میں بہت طاقتور بنادیا ہے اور اب ہم ا س کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔ ہم استنبول کو قرطبہ اور بغداد کی طرح جد یدیت اورایجادات کا مرکز بھی بنا سکتے تھے مگر ان مولویوں کو خطرہ تھا کہ نئے خیالات سے ان کی طاقت ختم ہوجائے گی۔ اس طرح ہم نے سلطنت پر جدیدٹیکنالوجی کے سارے دروازے بند کردئے۔ ہم نے صرف اس لئے پرنٹنگ کو نہیں اپنایا کہ کہیں نئے خیالات سماج تک نہ پہنچ سکیں۔ چلیں پرنٹنگ پر تو بات کی جاسکتی ہے مگر پبلک کلاک ٹاور کو نہ اپنانے کا جواز کیا ہے؟ یہاں علما کا اعتراض یہ تھا کہ وقت کا تصور صرف موذن کے ذریعے ہی متعین کیا جا سکتا ہے۔ ان حالات میں تو ہمارا زوال یقینی تھا او ر ہم اس کے مستحق بھی تھے۔“

پاشا خاندان میں عثمانیہ دور کے زوال اورمستقبل کے امکانات پر زوردار بحث جاری رہتی ہے۔ اسکندر پاشا جو شدید علالت کے بعد بستر پر ہیں اپنے خاندان سے کہتے ہیں کہ وہ تاریخ کا مطالعہ کریں تاکہ آنے والے دنوں اور ان کے مسائل سے نبرد آزما ہوسکیں۔ وہ خود بھی مغربی ادب کے مطالعے میں مصروف ہیں۔ حلیل اور چچا مہمت جو عمر کے لحاظ سے دو مختلف نسلوں سے تعلق رکھتے ہیں، اس بارے میں اپنی الگ رائے کھتے ہیں۔ خاندان کے لوگوں کے درمیان سلطنت کی موجودہ صورت حال، مستقبل میں ریاست کی تشکیل اور ٹیکنالوجی پر تبادلہ خیال جاری رہتاہے۔ ہر فرد کی اپنی رائے ہے۔ وہ ایک دوسرے سے اتفاق بھی کرتے ہیں اور اختلاف بھی مگر فیصلہ باہمی مفاہمت سے انجام پاتاہے۔

سلطنت کے زوال کے اسباب کی تلاش میں ان پہلوؤں پر بحث کی جاتی ہے جن میں علم کو عام کرنے سے گریز اور سیاسی و سماجی اصلاحات سے انکارکے رویے شامل ہیں۔ حلیل کے اچھوتے خیالات نوجوانوں اور بیسویں صدی کے اوائل میں روشن خیال ترکوں کی ترجمانی کرتے ہیں۔ بیرن پاشا عثمانیہ سلطنت کے حاکموں پر تنقید ی نظر ڈالتے ہوئے قرون وسطیٰ کے مسلم تاریخ دان اور فلسفی ابن خلدون کے مطالعہ تاریخ اور تہذیبوں کے زوال کا تذکرہ بھی کرتے ہیں۔ دراصل کہانی کے کردار خود مصنف کے ترقی پسند نظریات کا ہی ایک پرتو ہیں۔

طارق علی پر ابن خلدون کے نظریات کی گہری چھاپ بیرن پاشا کی بحثوں سے صاف نظرآتی ہے۔ دراصل یہ خاندان ترک معاشرے ہی کی ایک شکل ہے جواپنے عہد کے مسائل کی عکاسی کررہاہے۔ اسکندر پاشا، حلیل اور مہمت کے درمیان یہ گفتگو عصرِ حاضر کے مسلم معاشروں میں رجعت پسندوں اور جدید اصلاحات کے حامی دھڑوں کے درمیان جاری بحث کا حصہ بھی ہے۔

یہ تصنیف ترکی قومیت کے تصور پر بھی نظرڈالتی ہے جو سیکولرہونے کے باوجود فیصلہ کرنے سے قاصرہے کہ آ یا ملک میں نسلی اور مذہبی اقلیتوں کو سماجی دھارے میں قبول کیاجائے یا نہیں۔ دور دراز علاقے قونیہ میں قوم پرستوں کے ہاتھوں یونانی نژادشہری دمیتری (Dimitri) کاقتل ملک کی اقلیتوں اور قوم پرستوں کے درمیان جاری جنگ کا اظہار ہے۔ یہ تنازعہ ترکی اور یونان کے درمیان تصادم کی صورت میں اب بھی موجود ہے۔

پاشاخانوادے کی نئی نسل قومیت کی بنیاد پر اپنے نظریات پر متحد نظر نہیں آتی۔ ترک ایک قوم کی حیثیت سے اپنی شناخت کو بزور منوانا چاہتے ہیں مگر یونانی نثراد باشندوں کے لئے یہ قابل قبول نہیں۔ بدقسمتی سے دمیتری کی موت اسی تصادم کانتیجہ تھی لیکن شاید مستقبل میں کرد اور آرمینی اقلیتوں کو بھی ترک قوم پرستوں کے اسی سلوک کا نشانہ بنناپڑے۔

طارق علی اپنے نقطہ نظر کو اس ناول کے تاریخی پس منظر کے ذریعے اجاگر کر رہے ہیں اور اس دور میں طاقت کے نظام کوسمجھنے کی کوشش بھی۔ ناول میں آج کا ترک خود پر تنقیدی نظر ڈالتے ہوئے اپنا تجزیہ خود کررہا ہے۔ یہاں بھی مصنف نے مغرب کے یک طرفہ اور جابرانہ بیانئے کو رد کیا ہے۔ طاقت ور اداروں کے بیانیوں کو رد کرتے ہوئے متبادل اور انفرادی خیالات کو زیر بحث لایا گیا ہے۔ اسی کوشش میں طارق علی نے احسن طریقے سے دمیتری اور حسن بابا جیسے استحصال زدہ کرداروں کو بھی شامل بحث کیا ہے۔ حسن ناول میں پاشا خانوادے کا حجام ہے جو ترک معاشرے میں طبقاتی تفریق کی نمائندگی کررہاہے۔

مصنف نے ترک سماج کے پیچیدہ مسئلوں پر نظر ڈالی ہے جو خلافتِ عثمانیہ اورمسلم تاریخ کا حصہ ہیں۔ ان میں سلطان عبدالحمیدکے ہاتھوں 96-1894ء میں آرمینی باشندوں پرڈھائے گئے مظالم اور پھر 1915-16ء میں ان کا اجتماعی قتل عام شامل ہیں۔ مجموعی طورپر طارق علی نے ماضی کے گم شدہ اوراق کھنگال کر عہدِ حاضر میں ترکی اوردنیائے اسلام کے گمبھیر مسائل کا جائزہ لینے کی کوشش کی ہے۔