اداریہ

سر تن سے کوئی بھی جدا کر سکتا ہے، کمال تو کٹے سر کو تن سے جوڑنا ہے

اداریہ جدوجہد

ہفتہ کے روز لاہور کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ ادا کیا گیا۔ ٹی ایل پی کے بانی رہنما خادم رضوی کے جنازے میں لاکھوں افراد کی شرکت ایک سنجیدہ تجزئیے کی متقاضی ہے۔ فوری طور پر درج ذیل نقاط قابلِ غور ہیں:

۱۔ اس جنازے نے ایک مرتبہ پھر ثابت کر دیا کہ مذہبی جنونیوں کی پاکستانی معاشرے میں گہری عوامی بنیادیں موجود ہیں۔ ان کی طاقت کو بہت سے ناقدین ووٹ کے ناپ تول میں پرکھ کر اکثر یہ غلط دعویٰ کرتے ہیں کہ مذہبی جنونیوں کے پاس سٹریٹ پاور ہے لیکن وہ بہت زیادہ عوامی مقبولیت نہیں رکھتے اسی لئے ان کو ووٹ نہیں ملتے۔ ان صفحات میں پہلے بھی عرض کیا جا چکا ہے کہ سٹریٹ پاور ایک دن ووٹ میں بھی تبدیل ہو سکتی ہے۔ دوم، طاقت کا واحد پیمانہ ووٹ نہیں ہوتے۔ ریاست مذہبی جنونیوں کے ہاتھوں یرغمال ہے۔ وہ حکومت میں آئے بغیر پاور میں ہیں۔ سوم، مذہبی جنونی جیفرسن کے مقتدی نہیں کہ ووٹ کے چکر میں پڑیں۔ ووٹ کو وہ محض طاقت میں اضافے کا ایک آلہ، نہ کہ حتمی ہتھیار، سمجھتے ہیں۔

۲۔ خادم رضوی کے جنازے کو مکمل ریاستی تعاون حاصل تھا۔ جنازے سے اگلے ہی دن پشاور میں پی ڈی ایم کی ریلی کے خلاف حکومت یہ پراپیگنڈہ کر رہی تھی کہ اجتماع منعقد کرنے سے کرونا پھیلے گا مگر اس جنازے پر کرونا کی بابت ایک ٹویٹ تک نہیں کیا گیا۔ اسٹبلشمنٹ کے ذہن میں شائد یہ بات ہو کہ لاہور میں ایک مذہبی جنونی قوت کاعوامی بنیادیں حاصل کرنا مسلم لیگ نواز کو کمزور کرے گا۔ گذشتہ انتخابات میں ٹی ایل پی نے خلاف توقع زبردست ووٹ حاصل کئے۔ ایک جائزے کے مطابق اس جماعت کو ووٹ دینے والے رائے دہندگان کی 46 فیصد تعداد پہلے نواز لیگ کی ووٹر تھی۔ ایک طرف تو اپنے کھوئے ہوئے ووٹرز کو واپس لانے کے لئے نواز لیگ بھی ٹی ایل پی والے نعرے بازی شروع کرے گی۔ کیپٹن صفدر تو قومی اسمبلی کے فلور پر خود کو خادم رضوی سے بڑا خادم رضوی ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ دوسری طرف، جوں جوں بلاسفیمی والے بیانئے کو مرکزی حیثیت حاصل ہو گی توں توں فائدہ ٹی ایل پی کو ہو گا نہ کہ نواز لیگ کو۔

۳۔ جس طرح ہندوستان میں بابری مسجد کو ایک مسئلہ بنا کر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے زبردست عروج حاصل کیا لگ بھگ، ابتدائی حد تک، ٹی ایل پی نے بھی بلاسفیمی کے نام پر اسی طرح سیاست میں اپنے لئے جگہ بنائی جس سے با آسانی یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ مذہبی جنونی قوتوں کے پاس یہ موقع موجود ہوتا ہے کہ وہ مذہب کے کسی بھی پہلو کو بطور ہتھیار استعمال کر سکتے ہیں۔

۴۔ ٹی ایل پی کے فوج کے ساتھ روابط بھی بنتے ٹوٹتے رہے۔ قاضی فائز عیسیٰ کیس سے لے کر فیض آباد کے حالیہ دھرنے تک جس میں خادم رضوی یہ دھمکی دیتے سنے گئے کہ وہ ان ناموں کا راز افشاں کر دیں گے جنہوں نے ٹی ایل پی سے نواز حکومت کے خلاف دھرنا دلوایا تھا (ویسے یہ راز کسے معلوم نہیں)۔ ایسے بھی ادوار آئے جب ٹی ایل پی قیادت کو جیل میں ڈالا گیا یا ان پر مقدمات بنائے گئے۔ یہ وہی کہانی ہے جو ہم پہلے بھی دیکھ چکے ہیں۔ ریاست پہلے کشمیر اور افغانستان کے نام پر جہادی پالتی رہی۔ اب اندرونی سیاست کے پیش نظر ٹی ایل پی کو شہ دی گئی ہے۔

۵۔ خادم رضوی کی سیاست کو فرقہ وارانہ تناظر میں دیکھنے کی بھی ضرورت ہے۔ ماضی میں جو جہادی گروہ پالے گئے، وہ دیوبند مکتبہ فکر سے تعلق رکھتے تھے۔ گیارہ ستمبر کے بعد دیوبند کو متشدد جب کہ بریلوی مکتبہ فکر کو صلح جو، صوفی اسٹ فرقے کے طور پر پیش کیا گیا۔ یہاں تک کہ سنی اتحاد کونسل کو امریکہ نے ڈالر بھی فراہم کئے تا کہ دیوبند انتہا پسندی کا متبادل تیار کیا جا سکے۔ گورنر سلمان تاثیر کی موت کے بعد جب خادم رضوی کی قیادت میں بریلوی مکتبہ فکر نے بلاسفیمی کے نام پر سیاست چمکانے کی ٹھانی تو ثابت ہوا کہ سوال اِس فرقے یا اُس فرقے کا نہیں۔ جب سیاست کو مذہبی بنیاد پرستی کا رنگ دیا جاتا ہے تو محمود و ایاز ایک ہی صف میں کھڑے نظر آتے ہیں۔

نتائج

۱۔ پاکستان ان ممالک میں سے ہے جہاں مذہبی جنونیت کا زبردست زور رہا ہے۔ پاکستان کے اڑوس پڑوس (افغانستان، ایران، ہندوستان، سری لنکا) میں بھی مختلف نوع کی مذہبی جنونیت کا مشاہدہ ہم کر چکے ہیں۔ عالمی سطح پر بھی یہودی، بدھ اسٹ، ہندو، اسلامی اور مسیحی بنیاد پرستی کی مثالیں ہم دیکھ چکے ہیں۔ ہر کیس سٹڈی سے ایک مشترکہ نتیجہ یہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ جہاں بھی اور جس معاشرے میں بھی مذہبی جنونیت زور پکڑتی ہے (چاہے وہ ہندو بنیاد پرستی ہو، مسیحی ہو، یہودی ہو یا بدھ اسٹ) وہاں خون خرابہ ہوتا ہے۔ ٹی ایل پی کا فروغ بھی نت نئے خون خرابے کا باعث بنے گا۔ بلاسفیمی کے نام پر گذشتہ دو مہینوں میں پاکستان اندر جو واقعات ہوئے، وہ تو ایک ہلکا سا ٹریلر ہیں۔ قائد آباد (خوشاب) میں بینک مینیجر کا قتل اس کی بد ترین مثال ہے۔

۲۔ ٹی ایل پی ایک فرینکنسٹائن ہے جسے وقتی موقع پرستی اور سیاسی تقاضوں کے لئے سرپرستی فراہم کی گئی ہے۔ ہر فرینکنسٹائن کی طرح یہ بھی اپنے موجد پر حملہ آور ہو گا۔

۳۔ خادم رضوی کی وفات سے چند روز قبل ایک ویڈیو سامنے آئی جس میں وہ وہابی فرقے کے بارے میں، اپنے مخصوص انداز میں انتہائی نا مناسب الفاظ استعمال کرتے سنائی دئیے۔ یہ ویڈیو آنے والے حالات کی غماز ہے کہ جس میں فرقہ وارانہ لڑائی مزید پیچیدہ ہوتی دکھائی دیتی ہے۔

کیا کیا جائے؟

مینارِ پاکستان پر جنازے کے نام پر جمع ہونے والے سیاسی ہجوم کا جسد دیکھ کر یقینا ایسے کروڑوں لوگ حیران بھی ہوئے اور فکر مند بھی جو پاکستان کو مذہبی جنونیت، فرقہ واریت اور تشددسے پاک دیکھنا چاہتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر بے شمار لوگوں نے پاکستان کے مستقبل سے اپنی مایوسی کا اظہار کیا۔ یہ مایوسی ایسی بے جا بھی نہیں لیکن مایوسی کا اظہار عموماً وہ لوگ کرتے دکھائی دیتے ہیں جو عملی طور پر جدوجہد کا حصہ بھی نہیں بننا چاہتے۔

مشکل حالات میں سپینوزا اور جُو ہِل کو ذہن میں رکھنا چاہئے۔ ولندیزی مفکرسپینوزا کی ہدایت کے مطابق: ”ہنسنا ہے نہ رونا ہے، سمجھنا ہے“۔ سویڈش امریکی انارکسٹ جُو ہِل (Joe Hill) کے بقول: ”ماتم نہیں کرنا۔ منظم کرنا ہے“۔

پاکستان اس وقت زبردست بحران کا شکار ہے۔ یہ بحران معاشی، سیاسی اور ثقافتی و سماجی بھی ہے۔ خادم رضوی اس کا ایک اظہار ہے۔ اس بحران کے دوران مذہبی جنونی قوتیں (جو اس وقت غالب ہیں اور ریاست کا غیر ریاستی ہتھیار ہیں) بھی آگے آ سکتی ہیں اور ایک امکان یہ بھی ہے کہ متبادل قوتیں سامنے آئیں۔ اگر خادم رضوی کا جنازہ بہت بڑا تھا تو پی ڈی ایم اور پی ٹی ایم کے جلسے بھی چھوٹے نہیں تھے۔ سالہا سال کے بعد ٹریڈ یونینز نے اسلام آباد دھرنے کی شکل میں آزادانہ طور پر اپنی طاقت کا اظہار کیا۔ گلگت بلتستان میں بابا جان اور ساتھیوں کی رہائی کے لئے ہونے والے دھرنے نے اس خطے کی سیاست کا رخ ہی بدل دیا ہے۔

گویا ملک بھر میں عوامی شعور کی کئی پرتیں ہیں۔ بحرانی کیفیت میں شعور تیزی سے سفر کرتا ہے۔ کسی بھی ترقی پسند متبادل کے سامنے آتے ہی حالات تیزی سے بدل بھی سکتے ہیں مگر متبادل تعمیر کرنا ہو گا۔ اس متبادل کی کیا شکل ہو گی اس پر بحث اور غور و خوض کی ضرورت ہے۔ بائیں بازو کی قوتیں مختلف پلیٹ فارموں سے اس کوشش میں مصروف ہیں۔ ان کوششوں کو تقویت دینے کی ضرورت ہے۔ ان کا حصہ بننے کی ضرورت ہے۔ یہ جدوجہد مشکل ہو گی۔ طویل ہو گی مگر اس کے سوا کوئی چارہ ہی نہیں کیونکہ سر تن سے جدا کرنے والوں کی کوئی کمی نہیں حالانکہ پاکستان کو ضرورت ہے ایسے طبیبوں کی جو بریدہ سروں کو شانوں پر واپس ایستادہ کر سکیں۔