خبریں/تبصرے

طلبہ یونین پر پابندی: 9 فروری کو لاہور میں طلبہ یوم سیاہ منائیں گے

لاہور (نامہ نگار) ترقی پسند طلبہ تنظیموں کی طرف سے آج طلبہ یونین پرعائد پابندی کے خلاف یوم سیاہ منایا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں چیئرنگ کراس لاہور میں سہ پر 3 بجے احتجاجی ریلی اور جلسہ منعقد کیا جائے گا۔ جبکہ بعد ازاں ایک مظاہرہ لاہور پریس کلب پر بھی کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ ملک کے دیگر شہروں میں احتجاجات منظم کیے جائیں گے۔

ترقی پسند طلبہ تنظیموں اور خاص طور پر سٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کی جانب سے گزشتہ 3 سال کے دوران طلبہ یونین کی بحالی کے حوالے سے متعدد پروگرامات کئے گئے ہیں۔ سٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے باضابطہ قیام سے قبل نومبر 2018ء میں پروگریسو سٹوڈنٹس کولیکٹو اور ریوولوشنری سٹوڈنٹس فرنٹ کی جانب سے طلبہ یونین بحالی کیلئے یکجہتی مارچ کیا گیا تھا۔

انہی طلبہ تنظیموں کی کاوش سے اکتوبر 2019ء میں 27 ترقی پسند طلبہ تنظیموں پر محیط ملک گیر سطح پر سٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کا قیام عمل میں لایا گیا اور 2019ء اور 2020ء کے نومبر میں طلبہ یونین کی بحالی کیلئے ایک مرتبہ پھر احتجاجی ریلیاں اور جلسے جلوس منعقد کئے گئے۔

طلبہ کے احتجاج کے بعد حکمران و اپوزیشن جماعتوں اوروفاقی و صوبائی حکومتوں کی طرف سے طلبہ یونین کی بحالی کے مطالبے کو درست قرار دیا گیا لیکن اس کے باوجو دطلبہ یونین کی بحالی کیلئے کوئی سنجیدہ اقدام تا حال نہیں کیا گیا۔

ترقی پسند طلبہ تنظیموں کی جانب سے حکمران طبقات کی اسی سرد مہری کی وجہ سے ایک مرتبہ پھر 9 فروری کو یوم سیاہ کے طور پر منانے اور احتجاج کرنے کا اعلان کیا گیا۔ واضح رہے کہ 9 فروری وہ دن ہے جب ملک بھر میں طلبہ یونین پر باضابطہ پابندی عائد کی گئی تھی۔