خبریں/تبصرے

پاکستان میں کاٹن کی بھی قلت: 8 ماہ کے دوران تجارتی خسارے میں 10.64 فیصد اضافہ

لاہور (جدوجہد رپورٹ) پاکستان کا تجارتی خسارہ رواں مالی سال کے ابتدائی 8 ماہ میں 10.64 فیصد اضافے کے ساتھ 17 ارب 54 کروڑ ڈالر ہو گیا ہے، جو گزشتہ سال اسی عرصہ میں 15 ارب 85 کروڑ ڈالر تھا۔ پاکستان میں کاٹن کی بھی قلت پیدا ہو گئی ہے، بھارت سے کاٹن کی درآمد کے لئے حکومت نے اجازت دینے کی تیاری مکمل کر لی ہے۔ گندم، چینی اور پھر کاٹن کی بھی درآمد کی وجہ سے تجارتی خسارے میں مزید اضافے کے امکانات بھی پیدا ہو گئے ہیں۔

ڈان کی رپورٹ کے مطابق دسمبر 2020ء کے بعد سے تجارتی خسارے میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ فروری میں یہ اضافہ 23.93 فیصد (2 ارب 52 کروڑ ڈالر) دیکھا گیا جو گزشتہ سال اسی مہینے کے دوران 2 ارب 3 کروڑ ڈالر تھا۔

جولائی 2020ء سے فروری 2021ء کے دوران گندم کی درآمدات کی مد میں 90 کروڑ 90 لاکھ ڈالر، چینی 1 کروڑ 26 لاکھ ڈالر اور کاٹن 91 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کی ادائیگیاں کی گئیں۔ 8 ماہ کے دوران تینوں مصنوعات کا مجموعی درآمدی بل 1 ارب 94 کروڑ 80 لاکھ ڈالر رہا۔

نجی میڈیا کے مطابق وزیراعظم عمران خان سے مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد نے ملاقات کی اور کپاس کی قلت اور قیمتوں میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا۔ وزیراعظم نے بھارت سے کپاس کی ڈیوٹی فری درآمد کی اجازت دے دی ہے۔ قبل ازیں پاکستان بھارت سے ادویات کی درآمد کی اجازت بھی دے چکا ہے۔

واضح رہے کہ ٹیکسٹائل سیکٹر نے حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ بھارت سمیت دنیا بھر سے کپاس کی ڈیوٹی فری درآمد کی اجازت دے۔