طنز و مزاح

شاہ محمود قریشی کو صوفی یونیورسٹی آف سائنسز کا اعزازی وی سی بنا دیا گیا

فاروق سلہریا

خاتونِ درجہ اؤل نے جس صوفی یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کا افتتاح کیا ہے، اس میں وزیر خارجہ اور معروف ماہر عملیات شاہ محمود قریشی کو اعزازی وائس چانسلر بنا دیا گیا ہے۔

واٹس ایپ ذرائع کے مطابق پاکستان کے ذہین وزیر خارجہ گدی نشینی اور وزارت خارجہ کی اضافی ذمہ داریاں نبھانے کے ساتھ ساتھ جامعہ صوفیہ برائے سائنسز میں ایم اے دم درود کا کورس بھی پڑھائیں گے۔

اطلاعات کے مطابق یونیورسٹی میں سی این این کے تعاون سے میڈیا سائنسز کا ایک شعبہ بھی شروع کیا جائے گا۔ وزیر خارجہ برائے مذہبی امور اس ڈیپارٹمنٹ میں بھی خدمات سر انجام دیں گے۔ انہیں گلوبل میڈیا پر اسرائیلی کنٹرول بارے ماہر تصور کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ وہ گلوبل میڈیا میں ہیڈلائنز بنوانے کا بھی وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔

اگلے مرحلے میں اس یونیورسٹی کے سب کیمپس تمام مسلم ممالک میں کھولے جائیں گے۔ ذرائع کے مطابق سعودی سب کیمپس میں ننھا پروفیسر جبکہ ایرانی سب کیمپس میں اوریا مقبول جان کو بطور پرو وائس چانسلر تعینات کرنے کا اصولی فیصلہ بھی لیا جا چکا ہے۔

ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے اس یونیورسٹی میں پڑھائے جانے والے مبینہ سلیبس تیار کرنے کی ذمہ داری لاہور کی معروف یونیورسٹی لمز، کی ڈاکٹر چغتائی کو سونپی ہے۔ وہ اس سے قبل سکولوں کے لئے صوفی سائنسز کا نصاب تیار کر چکی ہیں۔ ڈاکٹر چغتائی کو یہ ذمہ داری سونپنے کا ایک مقصد کارپوریٹ سیکٹر کو انگیج کرنا بھی ہے۔

صوفی یونیورسٹی آف سائنسز سے جادو ٹونہ سیکھنے والے گریجویشن کے بعد چغتائی لیب میں کرونا ٹسٹ سر انجام دینے کی ذمہ داریاں ادا کر سکیں گے۔

اس موقع پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ان کی یونیورسٹی میں عملیات کے کورسز آن لائن بھی پڑھائیں گے۔

ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی مخلوط تعلیم کا اہتمام کرے گی مگر جنوں اور پریوں کے لئے کو ایجوکیشن نہیں ہو سکتی کیونکہ اس سے کیمپس کا ماحول بگڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا جنوں اور پریوں کے لئے علیحدہ کلاسز کا اہتمام کیا جائے گا۔

یونیورسٹی کے چارٹر میں پریوں کے لئے پردہ بھی لازمی قرار دیا گیا ہے جبکہ جن حضرات کو داخلے کے وقت حلف اٹھانا ہو گا کہ وہ کسی کو چمٹیں گے نہیں۔ یونیورسٹی چارٹر میں یہ فیمن اسٹ شرائط کنگز کالج لندن کی اسسٹنٹ پروفیسر حمیرا اقتدار نے شامل کرائی ہیں۔

ان تمام منصوبوں کی تکمیل کے لئے بشری بی بی المعروف گلابی پیرنی ’باپ کا پیسہ‘ استعمال کریں گی۔ ممکنہ بجٹ خسارے سے نپٹنے کے لئے سلائی مشینوں کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔