خبریں/تبصرے

میڈیا پر سنسرشپ کی لٹکتی تلوار: 19 سال سے چلنے والے ’ٹاک شو‘ کا میزبان ہی سنسر ہو گیا

حارث قدیر

پاکستان کے ایک بڑے نجی ٹی وی چینل کے سب سے مقبول سمجھے جانے والے ٹاک شو ’کیپیٹل ٹاک‘ کے میزبان کو پروگرام کرنے سے روک دیا گیا ہے۔حامد میر 2002ء سے ’جیو نیوز‘ پر کیپیٹل ٹاک کے نام سے اس ٹاک شوکی میزبانی کر رہے تھے۔

حامد میر نے بین الاقوامی میڈیا سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ چینل انتظامیہ کی جانب سے انہیں کہا گیا کہ وہ پیر سے پروگرام کی میزبانی نہیں کرینگے۔ چینل کی انتظامیہ کی طرف سے بھی کہا گیا کہ انہیں کچھ عرصے کیلئے چھٹی پر بھیجا گیا ہے، تاہم ابھی بھی وہ جنگ گروپ کے ساتھ وابستہ ہیں۔

حامد میر کا کہنا تھا کہ ”’انتظامیہ نے مجھے کہا کہ میں پریس کلب کے سامنے کی تقریر کی وضاحت یا تردید کروں۔ میں نے ان سے پوچھا یہ آپ سے کون کہہ رہا ہے۔میں نے ان سے کہا کہ اگر وہ اسد طور پر حملہ کرنے والوں کو گرفتار کر لیتے ہیں تو میں وضاحت چھوڑیں، معافی بھی مانگنے کو تیار ہوں۔“

انکا کہنا تھا کہ ”ماضی کے برعکس اس بار بیوی اور بیٹی کو بھی دھمکیاں ملی ہیں، جبکہ بھائی کو ایف آئی اے نے کسی پرانے کیس میں طلب کیا ہے۔“

اپنے ٹویٹ میں حامد میر نے کہا کہ ”یہ سب کچھ میرے لئے نیا نہیں، مجھ پر دو بار پابندی لگی اور دوبار اپنی نوکری سے ہاتھ دھوئے۔ میں حملوں کے باوجود زندہ ہوں لیکن آئینی حقوق کیلئے آواز اٹھانا نہیں چھوڑ سکتا۔ میں اس بار کسی بھی طرح کے نتائج اور کسی بھی حد تک جانے کیلئے تیار ہوں کیونکہ وہ اب میرے خاندان کو دھمکیاں دے رہے ہیں۔“

یاد رہے کہ اپریل 2014ء میں حامد میر پروگرام کی ایک قسط کی میزبانی کے فوراً بعد نامعلوم حملہ آوروں کی فائرنگ میں شدید زخمی ہو گئے تھے۔ اس وقت بھی ان پر حملے کا الزام خفیہ اداروں پر لگایا گیا تھا۔ حملے سے قبل انہوں نے بلوچستان میں فوج کے ذریعے مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر مبنی پروگرام کی میزبانی کی تھی۔

رپورٹرز ود آؤٹ بارڈز (آر ایس ایف)کے نمائندے اور میڈیا رائٹس گروپ فریڈم نیٹ ورک کے سربراہ اقبال خٹک کا کہنا ہے کہ ”آپ کو اظہار خیال کی بھی اجازت نہیں ہے، میرے خیال میں ہم یہ ثابت کر چکے ہیں کہ ریاست اور حکومت بعض میڈیا ہاؤسز کی ادارتی آزادی پر اثر انداز ہونے کیلئے دباؤ ڈال رہے ہیں۔“

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس، صحافیوں، سیاسی رہنماؤں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور سوشل میڈیا صارفین نے حامد میر کو پروگرام کی میزبانی سے ہٹانے کی شدید مذمت کی ہے اور اسے میڈیا پر عائد پابندیوں کے سلسلے کی کڑی قرار دیا ہے، وہیں حکومت کے حمایتی سوشل میڈیا صارفین حامد میر کے خلاف کردار کشی پر مبنی مہم چلانے میں مصروف ہیں۔ حکومت کی طرف سے بھی اس عمل کو نجی میڈیا ہاؤس کی ایڈیٹوریل پالیسی کا حصہ قرار دیکر مداخلت کے عنصر کی تردید کی ہے۔

اقبال خٹک کا کہنا تھا کہ ”حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرنے والے صحافی دباؤ میں ہیں اور جو یہ کہہ رہے ہیں کہ سب کچھ ٹھیک ہے، ان کیلئے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔“

واضح رہے کہ حامد میر کو پروگرام کی میزبانی سے ہٹائے جانے کا یہ واقعہ صحافی اسد علی طور پر حملے کے خلاف احتجاج کے دوران ان کی تقریر کے کچھ روزبعد پیش آیاہے۔ مذکورہ تقریر میں حامد میر نے فوج پر سخت تنقید کی تھی اور مزید کسی صحافی پرحملے کی صورتضرنیلوں کے گھروں کے راز افشا کرنے کی دھمکی بھی دی تھی۔

2019ء میں الجزیرہ کی ایک تحقیق میں ملک بھر میں صحافیوں، ایڈیٹرز اور صحافتی اداروں کی مینجمنٹ نے بتایا کہ فوج اور حکومت کی طرف سے مالیاتی طور پر ان کے اداروں کو نقصان پہنچایا گیا۔

جولائی 2020ء میں مشہور نیوز میزبان مطیع اللہ جان کو اسلام آباد کے ایک سکول کے باہر سے اغواء کیا گیا اور ان کو 12گھنٹے تک تحویل میں رکھنے کے بعد ایک ویران علاقے میں چھوڑ دیا گیا تھا۔

رواں سال اپریل میں سینئر صحافی ابصار عالم کو اسلام آباد میں ہی ایک پارک میں چہل قدمی کرتے ہوئے گولی مار دی گئی تھی۔ سی سی ٹی وی فوٹیج کے باوجود ذمہ داران کا تعین اور گرفتاری عمل میں نہیں لائی جا سکی۔

جنوری میں بی بی سی کو اپنی ادارتی پالیسی میں مداخلت کی وجہ سے اپنا روزانہ اردو نیوز بلیٹن نشر کرنے سے روکنا پڑا تھا۔

آر ایس ایف کے مطابق ”اسٹیبلشمنٹ کا اثرورسوخ جولائی 2018ء میں عمران خان کے وزیراعظم بننے کے بعد ڈرامائی انداز میں بڑھ گیا ہے“۔

پاکستان صحافیوں کے عالمی تحفظاتی انڈیکس کمیٹی میں نویں نمبرپر ہے جس میں کم از کم 15صحافی قتل کئے گئے ہیں۔ 2021میں آر ایس ایف کے پریس فریڈم انڈیکس میں 180ممالک میں سے پاکستان 145 ویں نمبر پر ہے۔

واضح رہے کہ حکومت سنسرشپ اور صحافیوں پر حملوں میں ملوث ہونے سے انکار کرتی ہے اور وزیراعظم اکثر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ پاکستان میں میڈیا آزاد ہے جبکہ پاکستانی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے سنسرشپ کے وجود کی تردید کرتے ہوئے گزشتہ ہفتہ صحافیوں پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ دوسرے ممالک میں سیاسی پناہ حاصل کرنے کیلئے اس طرح کے الزامات لگاتے ہیں۔

حارث قدیر کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے راولا کوٹ سے ہے۔  وہ لمبے عرصے سے صحافت سے وابستہ ہیں اور مسئلہ کشمیر سے جڑے حالات و واقعات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔