خبریں/تبصرے

آزاد میڈیا: گزشتہ 10 سال سے پاکستان کی خراب عالمی رینکنگ کی تفصیل

حارث قدیر

آزادی صحافت کیلئے کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیم ’رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز‘ (آر ایس ایف) کے ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس کے مطابق گزشتہ 10 سالوں کے دوران پاکستان مسلسل آخری نمبروں پر رہا ہے اور پاکستان میں آزادی صحافت کی صورتحال تسلی بخش نہیں رہی ہے۔ ادہر تحریک انصاف کی موجودہ حکومت مسلسل یہ دعوے کر رہی ہے کہ پاکستان میں برطانیہ جسیے ملکوں سے زیادہ آزادی ہے۔

پاکستان میں گزشتہ 70 سال کے دوران صحافتی اور جمہوری آزادیوں پر قدغنیں لگائے جانے کی ایک لمبی تاریخ رہی ہے۔ حالیہ عرصے میں وفاقی دارالحکومت میں صحافیوں پر ہونے والے حملوں اور اغوا کے واقعات کے علاوہ ملک کے مشہور ترین مرد و خواتین صحافیوں کے خلاف ایک آن لائن اور پرنٹ میڈیا مہم چلائی جا رہی ہے۔

گزشتہ 10 سال کے دوران پریس فریڈم انڈیکس میں پاکستان کی رینکنگ ذیل میں پیش کی جا رہی ہے جس سے ان دعوؤں کی قلعی بھی کھل جائے گی کہ پاکستان کا میڈیا برطانیہ سے زیادہ آزاد ہے اور یہ بھی پتہ چل جائے گا کہ کیا صحافی امیگریشن کے لئے پاکستان کو بدنام کرتے ہیں کیونکہ یہ فہرست پاکستانی صحافی ترتیب نہیں دیتے:

حارث قدیر کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے راولا کوٹ سے ہے۔  وہ لمبے عرصے سے صحافت سے وابستہ ہیں اور مسئلہ کشمیر سے جڑے حالات و واقعات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔