پاکستان

ڈیجیٹل تقسیم: پاکستان کی 74 فیصد اکثریت انٹرنیٹ سے محروم

فاروق سلہریا

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی ویب سائٹ کے مطابق پاکستان میں براڈ بینڈ استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد 76 ملین (سات کروڑ ساٹھ لاکھ) ہے جو کل آبادی کا 36 فیصد ہے۔

پی ٹی اے کے مطابق 164 ملین لوگوں کے پاس موبائل فون ہیں جو آبادی کا 77 فیصد بنتا ہے البتہٰ تھری جی یا فور جی تک رسائی رکھنے والے صارفین کی تعداد 74 ملین ہے جو کل آبادی کا 35 فیصد بنتا ہے۔ یوں تقریباََ 74 فیصد لوگ انٹرنیٹ کے براہِ روست استعمال سے سے محروم ہیں [یہ بات قابلِ بحث ہے کہ کیا اب پاکستان میں ٹو جی پر انٹرنیٹ کی سہولتیں استعمال ہو رہی ہیں]۔

پہلی بات:مندرجہ ذیل اعداد و شمار پاکستان میں ڈیجیٹل تقسیم کی عکاسی کرتے ہیں۔ ڈیجیٹل تقسیم سے مراد ہے انٹرنیٹ کا غیر مساوی استعمال۔ ترقی یافتہ ممالک میں انٹرنیٹ ایک روزمرہ کی چیر بن گئی ہے۔ وہاں پرانی نسل کے لوگ زیادہ انٹرنیٹ استعمال نہیں کر تے مگر طبقاتی بنیادوں پر ایسا کم سے کم ہوتا جا رہا ہے۔ تیسری دنیا میں بنیادی تعلیم ہی لوگوں کو میسر نہیں۔ یہی حال پاکستان کا ہے۔ ایک قابل ِذکر حصہ ان پڑھ ہے لہذا انٹرنیٹ ٹیکنالوجی کے استعمال سے محروم۔

دوسری بات: یہ اعداد وشمار اس بات ک نشاندہی بھی کرتے ہیں کہ کچھ علاقوں میں ترقی ہے اور کچھ میں نہیں ہو رہی۔ شہری علاقوں میں سہولتیں موجود ہیں۔ دہی میں نہیں۔ بلوچستان، کشمیر، سندھ، سابقہ فاٹا کے اضلاع میں یہ سہولتیں یا نہیں ہیں یا نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ایسی صورتِ حال پوری دنیا میں بھی دکھائی دیتی ہے۔ مغرب میں یہ سلسلہ کم ہو رہا ہے مگر تیسری دنیا میں نہیں۔

تیسری بات: یہ اعداد و شمار طبقاتی تقسیم کی بھی عکاسی کرتے ہیں۔ جیسا کہ اوپر کہا گیا کہ بنیادی تعلیم کی کمی، جغرافیائی بنیادوں پر یا سنِ پیدائش کی بنیاد پر بھی لوگ انٹرنیٹ کے استعمال سے دور ہو سکتے ہیں مگر ایک اہم وجہ طبقاتی بھی ہے۔ بہت سے لوگ مالی سوائل کی کمی کی وجہ سے انٹرنیٹ کا براہ راست استعمال نہیں کر پا رہے۔ تیسری دنیا میں یہ کیفیت زیادہ عام ہے۔ پاکستان میں اس موضوع پر تحقیقی کی کمی ہے مگر عام مشاہدہ یہی بتاتا ہے کہ مالی وسائل انٹرنیٹ کے استعمال کو محدود کر رہے ہیں۔

اس ساری بحث کا مقصد ایک تو یہ ہے کہ پاکستان کی ڈیجیٹل تقسم کو سمجھا جائے۔ یہ کہنا کہ سوشل میڈیا نے روایتی میڈیا کو شکست دے دی ہے، مناسب نہیں۔ روایتی میڈیا کی آوٹ ریچ (پہنچ) سوشل میڈیا سے کہیں زیادہ ہے۔

دوم، اگر سوشل میڈیا بیانئے پر حاوی ہو رہا ہے تو اس کے طبقاتی پہلو کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔ کون لوگ ہیں جن کے ہاتھ میں انٹرنیٹ ہے؟ امیر اور مڈل کلاس اس کے ساتھ ساتھ شہروں کے رہنے والے ہیں جو بیانیہ تشکیل دے رہے ہیں۔ گویا اس نئی ٹیکنالوجی نے برابری کی بنیاد پر لوگوں کو ایمپاور (Empower) نہیں کیا۔

آخری بات: کوئی بھی ٹیکنالوجی ہو، طبقاتی معاشرے میں اس کا ایک طبقاتی پہلو ہوتا ہے۔ ٹیکنالوجی کی ایک پولیٹیکل اکانومی ہوتی ہے۔ اس پر کسی کا اختیار ہوتا ہے۔ ٹیکنالوجی بظاہر غیر جانبدار ہوتی ہے مگر یہ صرف ظاہری غیر جانبداری ہے۔ یہ بات سب سے زیادہ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور اس سے جڑے نام نہاد سوشل میڈیا پر صادق آتی ہے۔ مندرجہ بالا اعداد و شمار یہ بتانے کے لئے کافی ہیں کہ انٹرنیٹ نے پس ماندہ طبقوں اور علاقوں کا رخ نہ عالمی سطح پر کیا ہے نہ پاکستان میں لہذا انٹرنیٹ کی تعریف کے پل باندھنے کی بجائے اس کی جانب تنقیدی رویہ اپنانے کی ضرورت ہے۔

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔