خبریں/تبصرے

قومی اسمبلی ہنگامے کا منصوبہ وزیر اعظم نے بنایا: ’وزرا کو کہا مار پیٹ کرنی پڑے وہ بھی کریں‘

راولاکوٹ (نامہ نگار) معروف صحافی اسد علی طور نے اپنے وی لاگ میں دعویٰ کیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے قومی اسمبلی کے بجٹ سیشن میں ہنگامہ آرائی اور اپوزیشن پرحملہ کرنے کی نہ صرف ہدایت دی بلکہ وہ وزیراعظم ہاؤس میں لائیو ایکشن بھی دیکھ رہے تھے۔

اسد علی طور کا کہنا تھا کہ کابینہ اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے وزرا پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب وزیر خزانہ بجٹ پیش کر رہے تھے تو اس دوران اپوزیشن اراکین مجھے (وزیراعظم کو) ڈونکی راجہ کہہ کر پکارتے رہے اور نعرے لگاتے رہے لیکن وزرا نے کوئی رد عمل نہیں دیا۔ وزیراعظم نے سخت غصے میں وزرا کو کہا کہ آج جائیں اور اس عمل کا بدلہ لیں۔ اس موقع پر وزیر اطلاعات فواد چوہدری کی ذمہ داری لگائی گئی کہ وہ نہ صرف سب وزرا اور اراکین اسمبلی کو اپوزیشن پر حملے کیلئے اٹھائیں گے بلکہ وہ تصاویر اور ویڈیوز بھی بنائیں گے، جو رکن اسمبلی اور وزیر ایسا نہیں کرے گا اس کے خلاف کارروائی بھی ہو گی۔ وزیراعظم نے وزرا کو یہ بھی کہا کہ جس حد تک جا سکتے ہیں جائیں، مار پیٹ کرنی پڑے تو وہ بھی کریں، انہیں (اپوزیشن اراکین) کو اندازہ ہونا چاہیے کہ مجھے (وزیراعظم کو) ڈونکی کنگ کہنے کا کیا نتیجہ نکل سکتا ہے۔

اسد علی طور کا کہنا تھا کہ ہنگامے سے قبل اپوزیشن کو اسمبلی کا کوڈ آف کنڈکٹ دیا گیا، جس میں لکھا گیا کہ وزیراعظم کی تقریر کے دوران کوئی بولے گا نہیں، کوئی ویڈیو بھی نہیں بنائے گا، اس کے علاوہ دیگر پابندیاں بھی عائد کی گئیں، جنہیں اپوزیشن نے مسترد کر دیا اور جب شہباز شریف تقریر کرنے لگے تو سب سے پہلے وفاقی وزیر امور کشمیر علی امین گنڈا پور نے گالیاں دیں، جس کے بعد حالات بگڑ گئے اور اپوزیشن کی جانب سے بھی نعرے اور گالیاں دی گئیں۔ پھر سب کچھ ویسے ہی ہوا جیسے اجلاس میں طے کیا گیا تھا۔

انکا کہنا تھا کہ ویڈیوز کے مناظر میں بھی پی ٹی آئی اراکین ہی لڑائی کا آغاز کرتے، گالیاں دیتے نظر آتے ہیں، بجٹ کی کاپیاں مارنے کا سلسلہ بھی حکومتی اراکین نے ہی شروع کیا۔ اپنے ہی بجٹ کی کاپیاں استعمال کر کے احتجاج اور تشدد کرنے والی یہ واحد حکومت تھی۔ ”یہ سب وزیراعظم کی نگرانی میں ہو رہا تھا اور کارروائی وہ وزیراعظم ہاؤس میں لائیو دیکھ رہے تھے۔ وزیراعظم کی شاباش لینے کیلئے آدھی سے زیادہ حکومتی جماعت فوری ڈسپنسری پہنچی اور پٹیاں کروا کر اپنے آپ کو زخمی ظاہر کیا گیا“۔