خبریں/تبصرے

جموں کشمیر: وزارت عظمیٰ کیلئے بیرسٹر سلطان اور تنویر الیاس کا مقابلہ، فرق کیا ہے؟

حارث قدیر

پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیرکی قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کا مرحلہ مکمل ہو چکا ہے۔ 8 مخصوص نشستوں کے انتخاب کیلئے شیڈول بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ 2 اگست کو مخصوص نشستوں کیلئے قانون ساز اسمبلی کے نومنتخب ارکان ووٹ ڈالیں گے۔ سادہ اکثریت حاصل کرنے والی تحریک انصاف کو 8 میں سے 6 مخصوص نشستیں ملنے کا امکان ہے۔

انتخابی مہم سے شروع ہونے والی وزارت عظمیٰ کی دوڑ بھی اب اختتامی اور دلچسپ مراحل میں داخل ہو چکی ہے۔ وزارت عظمیٰ کے مضبوط امیدواروں میں اس خطے کے منجھے ہوئے سیاستدان اور اداروں کے ہمیشہ سے فیورٹ رہنے والے بیرسٹر سلطان محمود چوہدری اور 3 سال قبل پنجاب کی نگران حکومت میں وزارت حاصل کرنے سے سیاسی میدان میں قدم رکھنے والے معروف بزنس ٹائیکون اور تحریک کے انصاف کیلئے نئی ’اے ٹی ایم‘ کہلانے والے تنویر الیاس چغتائی شامل ہیں۔ وزارت عظمیٰ کی دوڑ میں مجموعی طور پر 4 شخصیات اپنے لئے لابنگ کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں، دیگر دو امیدوار بھی بظاہر مرکزی مقابلہ کی حامل شخصیات کے ہی گروپوں سے تعلق رکھتے ہیں۔

عمومی طو ر پر پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں چار بڑے عہدوں پر مختلف قبیلوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو براجمان کر کے اقتدار میں قبیلوں کی شراکت داری اور حکومت کو متوازن کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ صدرریاست، وزارت عظمیٰ، سپیکر شپ اور سینئر وزارت کیلئے یہ لابنگ مختلف امیدواروں کے مابین ہوتی ہے۔

وزارت عظمیٰ کیلئے دوڑ میں شامل 2 بڑی شخصیات اور انہی کے گروپوں سے تعلق رکھنے والی 2 دیگر شخصیات بظاہر اپنے اپنے حق میں لابنگ کرتے نظر آ رہی ہیں لیکن تحریک انصاف کی ’ہائبرڈ‘حکومت کے ماضی کے فیصلوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ’بزدار ماڈل‘ ہی اس خطے میں بھی متعارف کروائے جانے کے امکانات بھی موجود ہیں۔

دوڑ میں شامل دو شخصیات کے ماضی کو دیکھا جائے تو بیرسٹر سلطان محمود چوہدری اس خطے کے ایک پرانے سیاسی گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے والد چوہدری نور حسین 73 سال قبل اس حکومت کا قیام کے وقت سے ہی سیاست میں متحرک رہے ہیں۔ اس خطے کی ابتدائی سیاسی جماعت مسلم کانفرنس سے انہوں نے سیاسی سفرکا آغاز کیا تھا، مسلم کانفرنس میں گروپنگ کے بعد ’آزاد مسلم کانفرنس‘ کے نا م سے بننے والی جماعت کا حصہ رہے، بعد ازاں اسی جماعت کے سربراہ بن گئے۔ بیرسٹر سلطان محمود چوہدری 1985ء میں اپنے والد کی ہی جماعت کے ٹکٹ پر ممبر اسمبلی منتخب ہوئے، بعد ازاں 1990ء میں پیپلزپارٹی سے اتحاد کر کے حکومت میں شامل ہوئے لیکن پیپلزپارٹی کی یہ حکومت چند ماہ ہی چل سکی، 1991ء میں بیرسٹر سلطان نے انتخابات میں شکست کے بعد اپنی جماعت کو ’لبریشن لیگ‘ نامی جماعت میں ضم کر دیا۔ 1996ء کے انتخابات سے قبل اپنی جماعت سمیت پیپلز پارٹی میں شامل ہو گئے اور وزارت عظمیٰ کے حقدار ٹھہرے، 10 سال تک پیپلزپارٹی کا حصہ رہنے کے بعد انہوں نے 2006ء میں ایک نئی جماعت ’پیپلزمسلم لیگ‘ قائم کی اور انتخابات میں حصہ لیااور محض 4 نشستوں پر انکی جماعت کامیاب ہو سکی۔ 2011ء میں ایک مرتبہ پھر اپنی جماعت سمیت پیپلزپارٹی میں شامل ہو گئے، تاہم اس مرتبہ انہیں اقتدار میں کوئی بھی عہدہ نہ مل سکا۔ 2015ء میں پیپلز پارٹی کو چھوڑ کر تحریک انصاف کا حصہ بنے، تحریک انصاف میں شمولیت کے بعد انہیں پہلے سے موجود تحریک انصاف کے رہنماؤں کی جانب سے قبول نہیں کیا گیا لیکن مرکزی قیادت کی حمایت اور ایک مضبوط گروپ کے ساتھ کی وجہ سے تحریک انصاف کی صدارت پر براجمان ہو گئے۔

بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کو اس خطے میں سرمائے کے بل بوتے پر انتخابات میں حصہ لینے کی روایت ڈالنے کا ذمہ دار بھی سمجھا جاتا ہے۔ انتخابات میں کامیابی کیلئے سب سے پہلے بے دریغ سرمائے کا استعمال اس خطے میں بیرسٹر سلطان نے ہی کیا تھا۔ حالیہ انتخابات میں بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کو سرمائے ہی کی بنیاد پر چیلنج کیا گیا ہے۔

سرمائے کی بنیاد پران انتخابات میں کئی نئی مثالیں قائم کرنے والے بزنس ٹائیکون تنویر الیاس پاکستان کی گزشتہ نگران حکومت میں پنجاب کی ایک وزارت ملنے کے بعد سیاست میں قدم رکھنے میں کامیاب ہوئے تھے۔ موجودہ پنجاب حکومت میں بھی سرمایہ کاری بورڈ کی چیئرمین شپ اور معاون خصوصی کے عہدے بھی انہیں مل چکے ہیں۔ مختلف شعبہ جات میں ایک درجن سے زائد کاروباری اداروں پر مشتمل ’سردار گروپ آف کمپنیز‘ کے مالک تنویر الیاس کے والد گزشتہ 2 سے 3 دہائیوں کے دوران اس خطے کے امیر ترین افراد میں شامل ہو گئے۔ ایک حساس ادارے کے اعلیٰ افسر کو 2 ارب روپے دیکر اپنا گروپ مضبوط کروانے جیسے الزامات بھی ان پر لگے ہیں۔ مذکورہ افسر کو عہدے سے ہٹائے جانے کی خبریں بھی منظر عام پر آئی ہیں۔ تنویر الیاس نے مسلم لیگ ن سے مختلف شخصیات کو اپنے ذریعے تحریک انصاف میں شامل کروایا، بیرسٹر سلطان کے مخالف تمام اراکین تحریک انصاف کو بھی اپنے ساتھ ملایا اور اپنے ساتھ لائے گئے امیدواروں کی انتخابی مہم کیلئے بھی بھرپور اخراجات کئے۔ اپنے چچا کو مسلم کانفرنس سے تحریک انصاف میں لے آئے، ایک حادثہ میں چچا صغیر چغتائی کی وفات کے بعد صغیر چغتائی کی بیگم کو ٹکٹ دلوایا اور اسمبلی میں براہ راست انتخاب کے ذریعے منتخب ہونے والی واحد خاتون شاہدہ صغیر بغیر انتخابی مہم چلائے، کسی ووٹر کوبھی اپنا چہرہ دکھائے بغیر انتخابات میں کامیاب ہو گئیں۔

تنویر الیاس چغتائی پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں تعمیر و ترقی اور روزگار لانے کے نعرے پر انتخابی سیاست میں آئے ہیں۔ تاہم اپنی نشست جیتنے کیلئے سابق امیر جماعت اسلامی سے لیکر اس خطے کے سابق وزیر اعظم تک کو خریدنے میں بھی کامیاب ہوئے اور ایک ایسے حلقے سے انتخابات میں کامیاب ہو گئے جہاں انہیں 500 ووٹ ملنے کے بھی امکانات نہیں تھے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق اس انتخابی مہم میں 6 ارب روپے سے زائد کی رقم انہوں نے خرچ کی ہے اور اتنی بھاری رقم خرچ کر کے اقتدار حاصل کرنے کے بعد اپنی سرمایہ کاری سے منافع حاصل کرنے کی بجائے عوامی مسائل حل کرنے پر توجہ دینے کی امید رکھنا دیوانے کے خواب کے سوا کچھ نہیں ہے۔ ’سردار گروپ آف کمپنیز‘ نے جتنی جلدی دولت کے انبار اکٹھے کئے ہیں ان پر ہی نظر دوڑائی جائے تو یہ تمام غریب محنت کشوں کی محنت کو لوٹنے، انکا استحصال کرنے کے ذریعے سے ہی حاصل کی گئی ہے۔ اس دولت کا بنیادی حصہ ’بردہ فروشی‘ یعنی مشرق وسطیٰ میں افرادی قوت فراہم کرنے سے ہی حاصل کیا گیا ہے۔

یوں پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں جہاں صرف قبیلوں کے سرداروں کو نو آبادیاتی کنٹرول کو جاری رکھنے کیلئے اس اقتدار پر براجمان کیا جاتا تھا اورپاکستان سے ملنے والی تنخواہ کے عوض یہ قبائلی سردار سیاسی قائدین کہلاتے اور اس خطے میں حکمرانی کرنے کے اہل قرار پاتے تھے، وہاں بیرسٹر سلطان کی آمد کے ذریعے دولت کی بنیاد پر اقتدار تک پہنچنے کا جو طریقہ اپنایا تھا آج وہی طریقہ انکے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ اقتدار کی اس رسہ کشی اور خرید و فروخت کے دوران فتح کسی کی بھی ہو، اقتدار پر کوئی بھی براجمان ہو جائے، اس خطے کے مظلوم و محکوم انسانوں کے مقدر نہیں بدلیں گے، پاکستان میں تباہ حال معیشت اور سماجی بحران کے اثرات اسی طرح اس خطے پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ معاشی بدحالی میں مزید اضافہ ہو گا، سماجی بدحالی میں مزید اضافہ ہو گا اور ایک منقسم ’ہائبرڈ‘حکومت معمول کی حکومتی سرگرمیوں کو بھی ماضی کی طرح رواں رکھنے میں کامیاب نہیں ہو پائیں گے۔

حارث قدیر کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے راولا کوٹ سے ہے۔  وہ لمبے عرصے سے صحافت سے وابستہ ہیں اور مسئلہ کشمیر سے جڑے حالات و واقعات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔