اداریہ

خاشہ زوان: افغانستان میں اتنا غصہ ہے کہ طالبان بھی تین دفعہ بیان بدل چکے ہیں

اداریہ جدوجہد

افغانستان کے صوبہ قندھار سے تعلق رکھنے والے معروف مزاحیہ فنکار خاشہ زوان کے قتل سے انکار کے بعد بالآخر طالبان نے قتل کی تفتیش کا اعلان کیا ہے۔ قطر میں افغان طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین نے بیان دیا تھا کہ اس قتل میں طالبان کا کوئی ہاتھ نہیں ہے لیکن جب ویڈیوز سامنے آئیں تو انہوں نے کہا کہ اس کی تفتیش ہونی چاہیے۔

طالبان کے ایک ترجمان قاری یوسف نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ ”خاشہ زوان جومذہبی رہنماؤں پر طنز کرتے تھے ایک حملے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔“

تاہم افغانستان میں طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ خاشہ پولیس میں بھرتی تھے اور ان کی ایک تصویر میں خاشہ کے ساتھ کلاشنکوف پڑی ہے۔ اس بارے میں تفتیش کی جا رہی ہے کہ انہیں کس نے مارا۔

خاشہ زوان کے نام سے مشہور نذر محمد کو تقریباً ایک ہفتہ قبل انکے گھر سے مسلح افراد اٹھا کر لے گئے تھے، جس کے بعد انکی لاش ایک درخت کے قریب پائی گئی تھی۔ ابتدائی طو رپر ان کے خاندان نے طالبان پر الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے خاشہ زوان کو گرفتار کیا اور تشدد کے بعد قتل کر دیا۔ طالبان نے اس الزام کی تردید کی تھی اورکسی طرح بھی اس واقعے میں ملوث ہونے سے انکار کیا تھا۔ تاہم چند روز قبل ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس میں دیکھا جا سکتا تھا کہ خاشہ زوان گاڑی کی پچھلی سیٹ پر بیٹھے ہیں اور انکے دونوں اطراف مسلح طالبان بیٹھے تھے، ویڈیو میں دائیں طرف بیٹھا ایک مسلح شخص خاشہ زوان کے منہ پر تھپڑے مارتے بھی نظر آتا ہے۔

خاشہ زوان کی گرفتاری کی ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد افغانستان، پاکستان سمیت دنیا بھر میں طالبان کے اس وحشیانہ عمل کی سخت مذمت کی جا رہی ہے اور خاشہ زوان سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر وائرل ہو رہے ہیں۔ شدید عوامی رد عمل کے دباؤ کے تحت ہی طالبان نے خاشہ زوان کے قتل کی تردید کی اور بعد ازاں قتل کی تفتیش کا بھی اعلان کیا۔

’بی بی سی‘ کے مطابق افغان طالبان ذرائع کا کہنا ہے کہ خاشہ زوان افغان طالبان پر تنقید کرتے تھے اور انکے لئے اچھے الفاظ استعمال نہیں کرتے تھے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ خاشہ زوان کی مزاحیہ تنقید کے رد عمل میں طالبان نے ایک ہنستے، مسکراتے چہرے کو ہمیشہ کیلئے خاموش کر دیا ہے۔

خاشہ زوان گرفتاری کے وقت بھی اپنے مخصوص انداز میں مزاحیہ گفتگو کے ذریعے مسکراہٹیں بکھیرنے کی کوشش کر رہے تھے جبکہ انہیں گرفتار کرنے والے افراد انہیں تشدد کا نشانہ بنا رہے تھے۔

اس واقعہ نے نہ صرف افغانستان میں ایک مرتبہ پھر طالبان کی وحشت اور بربریت کا خوف مسلط کر دیا ہے بلکہ پاکستان بھر میں بھی ایک نئی بحث کا آغاز کر دیا ہے۔ گو کہ افغانستان سے امریکی فوجی انخلا کے اعلان اور طالبان کی پیش قدمی کے بعد یہ پہلا واقعہ نہیں ہے جس میں کسی عام شہری کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہو یا قتل کیا گیا ہو لیکن لوگوں کو ہنسانے والے ایک فنکار کے قتل نے معاشرے پر گہرے اثرات مرتب کئے ہیں۔ خاشہ زوان کے قتل سے پڑنے والے اثرات کا اندازہ اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ طالبان کو تین مرتبہ اپنا بیان تبدیل کرنا پڑا ہے۔ تاہم یہ بات طے ہے کہ طالبان پر تنقید کا دوسرا مطلب موت کو دعوت دینے سے کچھ مختلف نہیں ہے۔

اس واقعہ نے پاکستان میں موجود طالبان کے حامیوں اور بالخصوص وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سمیت طالبان کی فتوحات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے والے طاقتور حلقوں کے منہ پر بھی طمانچہ رسید کیا ہے۔ جن وحشی اور بربر عناصر کو سادہ لباس اور تبدیل شدہ بنا کر پیش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور سرکاری نیوز ایجنسی اور میڈیا کے ذریعے سے انکی فتوحات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، وہ نہ پہلے کبھی معاشرے کو آگے لے کر جانے کے خواہشمند تھے اور نہ ہی اب ان میں کوئی تبدیلی آئی ہے۔ انکا کاروبار دہشت اور وحشت کو پھیلانا ہے، اسی درندگی، منشیات و اسلحہ فروشی سمیت انسانیت کے قتل عام پر ہی انکا انحصار ہے۔ اس لئے وہ کسی امن کی نوید لیکر نہیں بلکہ ایک نئی بربریت اور وحشت کو وسعت دینے کے عزائم لیکر آ رہے ہیں۔ خاشہ زوان کے قتل کے ذریعے طالبان نے ایک مرتبہ پھر یہ پیغام دیا ہے کہ وہ اپنی روایت کو تبدیل کرنے والے نہیں ہیں، معاشرے پر اگر دوبارہ انہیں مسلط کیا گیا تو یہ حسب عادت بربادی پھیلانے کا فریضہ ہی سرانجام دینگے۔

افغانستان میں امن اور خوشحالی زندگی کے قیام کا کوئی پروگرام افغان حکمرانوں کے پاس بھی نہیں ہے۔ طالبان کی پیش قدمی کیلئے خود مختلف علاقے خالی کرنا، لوگوں کو قتل عام کیلئے طالبان کے رحم و کرم پر چھوڑ دینا اور اقتدار میں شراکت داری اور اپنے مال و دولت کے تحفظ کی کوششوں کے علاوہ افغان حکمرانوں کا بھی افغانستان میں امن اور ترقی کیلئے کوئی پروگرام اور منصوبہ نظر نہیں آ رہا ہے۔ سامراجی قبضے کا ہمیشہ یہ اصول رہا ہے کہ زیر قبضہ علاقوں سے ایک مخصوص افرادی قوت کو اپنے ساتھ ملایا جاتا ہے اور وہ اقتدار میں شراکت، لوٹ مار اور دولت کی فراوانی سے فیضیاب ہونے کیلئے سامراجی قبضے کو دوام بخشنے کیلئے ہر صحیح و غلط کام کو قانونی بنا کر پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ افغانستان کی سامراجی گماشتگی پر مامور حکومت ہو یا سامراج کے ہی پالے ہوئے وحشی طالبان ہوں دونوں کا مقصد افغانستان کے وسائل کی لوٹ مار پر اختیار اور اجارہ حاصل کرنا ہی ہے۔ افغان عوام کی تاراج ہوتی زندگیوں میں بہتری لانے کے مقاصد سے دونوں عاری ہیں۔

خاشہ زوان کے قتل نے ایک بارپھر عیاں کیا ہے کہ بیس سالہ سامراجی تسلط اور افغان بربریت کے عرصہ میں انسانی جانوں کے تحفظ کیلئے کوئی اقدام نہیں کیا گیا اور نہ ہی ایساکوئی اقدام سامراجی و طالبان ایجنڈے میں شامل تھا۔ افغانستان کے دکھوں کا مداوا خود افغان عوام کی اکثریت ہی اپنے مقدر اور تاریخ اپنے ہاتھ میں لیکر کر سکتے ہیں۔ اس خطے کے محکوم و مظلوم عوام کے دکھوں اور تکالیف سے نجات سرمایہ دارانہ حاکمیت کے ہر برج، ہر مینارے کو توڑنے اور عوامی شراکت داری پر مبنی وسائل و اختیارات پر اجارے کی صورت ہی ممکن ہے۔ اس عظیم فریضے کی تکمیل اکیلے افغان عوام نہیں کر سکتے، پاکستان کا محنت کش طبقہ اس عظیم فریضے میں افغان محنت کشوں اور نوجوانوں کا قدرتی اتحادی ہے۔ اس خطے میں ابھرنے والی محنت کش طبقے کی بغاوت ہی اس وحشت و بربریت سے نجات کی ضامن ہو گی۔ سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے ہی حقیقی امن اور معاشی و سیاسی خوشحالی کی بنیادیں رکھی جا سکتی ہیں۔