خبریں/تبصرے

پیرو: سوشلسٹ سکول ٹیچر صدر نے ایک مارکسسٹ کو وزیر اعظم بنا دیا

لاہور (جدوجہد رپورٹ) حال ہی میں منتخب ہونے والے پیرو کے صدر پیڈروکاسٹیلو نے عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد بائیں بازو کے قانون ساز اور مارکسسٹ پارٹی کے رکن گائیڈوبلیڈو کو وزیراعظم مقررکر دیا ہے۔

برطانوی اخبار ’گارڈئین‘ کے مطابق یہ توقع کی جا رہی تھی کی اعتدال پسند حکومت قائم کی جائیگی لیکن صدر پیڈروکاسٹیلو نے مارکسسٹ کو وزیر اعظم مقرر کر کے ان توقعات کا خاتمہ کر دیا ہے۔

کاسٹیلو نے جمعرات کی رات حلف اٹھایا، حلف کی تقریب میں دائیں اور بائیں بازو کے نظریات سے تعلق رکھنے والی متعدد شخصیات نے شرکت کی۔ انہوں نے وزیرخزانہ کا تقرر نہیں کیااور اس عہدے کے لئے پسندیدہ پیڈرو فرانسک کو تقریب شروع ہونے سے چند منٹ قبل ہی پنڈال سے نکلتے ہوئے دیکھا گیا۔

وزیر اعظم مقرر ہونے والے 42 سالا گائیڈو بلیڈو کاسکو کے رہنے والے ہیں، ماؤ نواز باغیوں کے ہمراہ اقتدار پر قبضہ کرنے کی کوشش میں 1980ء اور 90ء کی دہائی میں مسلح جنگ کا حصہ رہنے کے الزامات میں زیر تفتیش رہ چکے ہیں۔

بلیڈو اور ان کی کابینہ کو حزب اختلاف کے زیر قیادت چیمبر سے منظوری لینا ہو گی، جہاں سنٹرسٹ اور حق پرست جماعتیں انکی تقرری کی مخالفت کر سکتی ہیں۔