خبریں/تبصرے

’نیل کے ساحل سے لیکر تابخاک کا شغر‘: اسرائیل کی خاطر بحرین ایرانی ایٹمی معاہدے کیخلاف ہو گیا

لاہور (جدوجہد رپورٹ) بحرین کے انڈر سیکرٹری برائے بین الاقوامی تعلقات عبداللہ بن احمد الخلیفہ نے اسرائیل کے سرکاری دورے کے دوران ایرانی جوہری معاہدے کو مزید بحران اور تشدد کا باعث قرار دیا ہے۔

’دی نیو عرب‘ کے مطابق عبداللہ بن احمد الخلیفہ نے کہا کہ ان کے ملک کو امید تھی کہ جے سی پی او اے (جسے ایرانی جوہری معاہدہ بھی کہتے ہیں) ایران کے رویے کو تبدیل کرے گا اور علاقائی سلامتی کی صورتحال کو بہتر کرے گا لیکن اس طرح کی امیدیں اب مایوسی میں تبدیل ہو چکی ہیں۔

یروشلم میں دونوں ملکوں کے مابین مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کے دوران ان کا کہنا تھا کہ جے سی پی او اے نے مشرق وسطیٰ میں بحرانوں کو ہوا دی ہے۔

انکا کہنا تھا کہ اس معاہدے نے مشرق وسطیٰ کے مختلف خطوں میں مزید اشتعال انگیزی اور انتہا پسندی کو جواز فراہم کیا ہے۔

یاد رہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے جی سی پی او اے کو بحال کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے، جسے سابق امریکی صدر ٹرمپ نے یکطرفہ طور پر منسوخ کر دیا تھا۔ مذاکرات بھی اب تک رکے ہوئے ہیں اور عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے مطابق ایران یورینیم افزودگی کو 20 فیصد تک کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

عبداللہ بن احمد الخلیفہ نے یہ بھی کہا کہ ایک سال کے اندر بحرین اور اسرائیل کے درمیان براہ راست پروازیں چلائی جائیں گی اور اسرائیل 15 ستمبر کو ’ابراہیم معاہدوں‘ پر دستخط کی پہلی سالگرہ پر سرپرائز کی توقع کر سکتا ہے۔

متحدہ عرب امارات نے سب سے پہلے اعلان کیا تھا کہ وہ اگست 2020ء میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لائے گا، کچھ ہی عرصہ بعد بحرین نے بھی تعلقات قائم کر لئے تھے۔