نقطہ نظر

بہادر ترین افغان خاتون: سودابا نے طالبان کے خلاف کابل میں پہلا مظاہرہ منعقد کیا

فاروق سلہریا

16 اگست کو ایک خوف کی کیفیت میں طالبان کے کابل پر مارچ کو پوری دنیا دیکھ رہی تھی۔ خوف کے مارے شہر کے باشندوں نے خود کوگھروں میں مقفل کر لیا تھا۔ اگلے دن کابل ایئرپورٹ پر طالبان کے چنگل سے فرار ہونے کی کوشش میں خوفزدہ افغان باشندوں کی بھیڑ تھی، دوسری طرف 5 ملین آبادی والے شہر میں سکوت طاری تھا۔ اس خاموشی پر ایک داست نے یوں تبصرہ کیا: ”یہ خاموشی ان بم دھماکوں سے زیادہ خوفناک ہے جو گزشتہ 20 سالوں سے ہم سنتے آئے ہیں۔“

اس خوف اور گھبراہٹ کے درمیان 4 افغان خواتین نے طالبان کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کرنے کا فیصلہ کیا۔

17 اگست کو مزاحمت کا یہ پہلا عمل بہت ہی چھوٹا تھا۔ بیس پچیس سال کی پانچ خواتین صدارتی محل کے باہر جمع ہوئیں۔

فوری طور پر وائرل ہونے والی ویڈیو فوٹیج میں وہ طالبان کے سامنے پلے کارڈز اٹھائے کھڑی نظر آتی ہیں۔ وہ نعرے لگا رہی ہیں: ’ہم موجود ہیں‘، ’ہم آدھا افغانستان ہیں‘، ’ہمیں نہ چھپاؤ‘،’ہمیں نقصان نہ پہنچائیں‘،’ہمارا ساتھ دیں‘۔

بندوق سے لیس طالبان گھبرائے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں کیونکہ مقامی اور عالمی میڈیا اس واقعہ کی کوریج کر رہا تھا۔

سائز میں چھوٹا لیکن ہمالیائی جرأت کا حامل یہ احتجاج ٹی وی سکرینوں اور ویب سائٹوں پر وائرل ہونے لگا۔ سازشی نظریات نے بھی اتنی ہی تیزی سے مقبولیت حاصل کی۔ مخالفین نے بے اعتنائی سے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’طالبان نے خود اس مظاہرے کا بندوبست کرایا‘۔ سازشی نظریات سے قطع نظر اس احتجاج نے ملک بھر میں بہت سے لوگوں کو متاثر کیا۔

اگلے 2 دن کئی شہروں میں مظاہرے ہوئے۔ 2 مقامات پر طالبان نے مشتعل افراد پر فائرنگ کر کے جواب دیا۔ جلال آباد میں 3 ہلاکتیں ہوئیں جبکہ اسد آباد میں 16 ہلاکتیں ہوئیں (ہلاکتوں کی صحیح تعداد غیر تصدیق شدہ ہے)۔

افغانستان اور شاید ملک سے باہر بھی ہر ایک کے ذہن میں ایک ہی سوال تھا کہ یہ چار پانچ بہادر عورتیں کون تھیں؟

اس احتجاج کی محرک سودابا کبیری تھیں۔ وہ احتجاجی مظاہرے کے بعد انڈرگراؤنڈ ہیں، پھر بھی وہ ’واٹس ایپ‘پر میرے سوالوں کے جواب دینے پر راضی ہو گئیں۔ ’آپ کو’وائس نوٹ‘ بھیجوں گی‘، انہوں نے مجھے ایک مختصر ’واٹس ایپ‘کال میں بتایا۔ ان کے حقائق پرمبنی جوابات بھی انکی کال کی طرح مختصر اور جامع تھے۔ ذیل میں پڑھیں:

ہمیں اپنے بارے میں کچھ بتائیں۔

سودابا کبیری: میں یونیورسٹی کی طالب علم ہوں۔ میں پہلی طالبان حکومت (1997-2001ء) کے دور میں پیدا ہوئی۔ میں ایک نجی کمپنی میں نوکری بھی کر تی ہوں۔

یہ احتجاج کہاں منظم کیا گیا تھا۔ آپ کے ذہن میں احتجاج کا خیال کیسے آیا اور کتنے مزید دوست شامل تھے؟

سودابا کبیری: یہ صدارتی محل کے باہر منعقد ہوا۔ ہم طالب علموں کا ایک گروپ تھے، ہم بہت پریشان تھے، ہمارا فیصلہ اچانک تھا۔ کوئی پیشگی منصوبہ بند ی نہیں تھی۔ تمام مرد و خواتین طالبان سے خوفزدہ ہیں۔ وہ گھروں سے باہر قدم رکھنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ ہم (اس عمل کے ذریعے) اپنے حقوق مانگنا چاہتے ہیں اور دوسروں کو اپنے حقوق مانگنے کی ترغیب دینا چاہتے ہیں۔

بندوق بردار طالبان موجود تھے۔ انہوں نے کیا کہا؟

سودابا کبیری:ہاں وہاں طالبان ’گن مین‘تھے۔ انہوں نے شروع میں بد تمیزی کی۔ وہ بہت غصے میں تھے۔ انہوں نے ہمارے کاغذات اور موبائل چھین لیے۔ تاہم جب قومی اور بین الاقوامی میڈیا کے عملے نے آنا شروع کیا تو انہوں نے اپنا رویہ بدل لیا۔ اس سے پہلے وہ ہماری طرف اپنی بندوقیں تانے ہوئے تھے۔

کیا آپ احتجاج کے بعد انڈرگراؤنڈہیں؟ احتجاج کے بعد کوئی دھمکیاں ملیں؟

سوداباکبیری:ہم زیر زمین ہیں۔ ہر روز ہم ایک نئی جگہ پر جاتے ہیں۔ ہمارے خاندان بہت خوفزدہ ہیں۔ ہم واقعتا ایک بہت بڑی مصیبت میں ہیں۔

کیا آپ کو لگتا ہے کہ آپ کے احتجاج کی وجہ سے اگلے روز مزید احتجاج ہوا؟

سوداباکبیری: اس مظاہرے نے افغان معاشرے پر نمایاں اثرات مرتب کیے۔ خاص طور پر اس نے خواتین کو گھروں سے باہر نکلنے اور مظاہروں کی قیادت کرنے کی ترغیب دی۔

آگے کیا ہو گا؟ کیا آپ افغانستان سے فرار ہونے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں؟

سودابا کبیری:ہم اس وقت تک یہاں رہنے کا ارادہ رکھتے ہیں جب تک وہ ہمیں مارنے کی دھمکیاں دینے سے باز نہیں آتے۔

آپ کے اہل خانہ نے کس طرح کا رد عمل دیا، کیا وہ پہلے سے آپ کے عمل سے آگاہ تھے؟

سوداباکبیری: ہمارے گھر والوں کو کچھ پتہ نہیں تھا۔ انہیں یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ ہم نے گھروں سے باہر جا رہی ہیں۔ جب انہوں نے ٹیلی ویژن پر احتجاجی مظاہرہ دیکھا تو وہ ہم سے ناراض تھے۔ ان کا غصہ بھی بجا تھا، ہم سمجھ سکتی ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ہم محفوظ رہیں، لیکن یہ اہم وقت ہے۔ ہم خاموش نہیں رہ سکتے۔

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔