تاریخ

چراغ بجھتے ہی رہتے ہیں پر…

فاروق سلہریا

22 اگست (گذشتہ اتوار) بائیں بازو کے دیرینہ کارکن، لاہوری بائیں بازو کی ایک ہر دلعزیز شخصیت اور لیبر پارٹی پاکستان کے بانی چیئر پرسن شعیب بھٹی داغ مفارقت دے گئے۔

دل کا دورہ اتنا جان لیوا تھا کہ ہسپتال بھی نہیں پہنچ پائے۔

شعیب بھٹی کے دوستوں کا ایک وسیع حلقہ تھا۔ ایک بار ان سے دوستی ہو گئی تو پھر ہمیشہ کے لئے ہو گئی۔

شعیب بھٹی اَسی کی دہائی میں دیگر کروڑوں نوجوانوں کی طرح بطور طالب علم سیاست میں متحرک ہوئے۔ ابتدائی طور پر پیپلز پارٹی کے جیالے تھے۔ 1986ء میں جب ’جدوجہد گروپ‘ کے رہنما لال خان اور فاروق طارق جلاوطنی ختم کر کے وطن لوٹے تو شروع شروع کے جن لوگوں نے جدوجہد گروپ کے خیالات میں دلچسپی لی، ان میں شعیب بھٹی بھی تھے۔

وہ محکمہ ڈاک میں کلرک تھے۔ نہ صرف وہ خود بلکہ ان کے بعض دیگر دوست (وقار، عمر حیات اور چاچا کریم کے نام ذہن میں آ رہے ہیں) بھی جدوجہد گروپ کے ساتھ وابستہ ہو گئے۔ بعد ازاں جب جدوجہد گروپ میں اختلافات کی بنا پر دو گروہ بن گئے تھے شعیب بھٹی نے اس گروہ کا ساتھ دیا جس نے بعد ازاں لیبر پارٹی کی بنیاد رکھی (لیبر پارٹی بعد ازاں دیگر دو جماعتوں کے ہمراہ موجودہ عوامی ورکرز پارٹی میں مدغم ہو گئی)۔

لگ بھگ بیس سال تک متحرک سیاسی کردار ادا کرنے کے بعد شعیب بھٹی لیبر پارٹی سے علیحدہ ہو گئے اور اب وہ ایک عرصے سے متحرک نہیں تھے۔ ہاں البتہ بائیں بازو کے ساتھیوں کے ساتھ دوستیاں اور محفلیں سجانا ان کی زندگی کا خاصہ تھا۔

میرا ان سے پہلا تعارف پاک ٹی ہاؤس میں ہوا جہاں وہ حسن ناصر کی برسی پر جدوجہد رسالہ فروخت کر رہے تھے۔ بعد ازاں میں بھی جدوجہد گروپ کا رکن بن گیا تو سب سے زیادہ دوستی شعیب بھٹی سے ہو گئی۔

اس گروہ میں طارق اقبال، عامر سہیل، ناصر اقبال، ساجد بلوچ اور بعض دیگر ساتھی بھی شامل ہوتے تھے۔ بعد ازاں کراچی اور سندھ کے بعض نوجوان ساتھی بھی آ گئے۔ عمر بلوچ، سلیم شیخ اور فرحان رضا کراچی سے آتے تو پھر شعیب بھٹی ان کے ہاتھ لگ جاتے۔

ہم شام دیر تک شعیب بھٹی کے ساتھ باغ جناح، چائے خانوں، ڈھابوں اور بعض اوقات ان کے گھر خوش گپیوں اور بحثوں میں وقت گزارتے۔

ان کی محفل میں مارکسزم پر بحث ہوتی۔ ہنسی مذاق ہوتا۔ کرکٹ میچ دیکھنا ہوتا یا سینما جانا ہوتا، شعیب بھٹی کی قیادت میں ہی منصوبے بنتے حالانکہ انہیں کرکٹ سے بہت دلچسپی نہیں تھی۔

انکی شخصیت کا ایک اہم پہلو ان کی بہادری تھی۔ ایک بار لاہور مال روڈ پر جلوس پر پولیس نے لاٹھی چارج کر دیا۔ وہ خواتین کے سامنے ڈھال بن گئے۔ اسی طرح ایک بار بیڈن روڈ پر جس عمارت میں جدوجہد کا دفتر تھا اس پر قبضہ گروپ والے بندوقوں کی مدد سے قبضہ کرنے آ گئے۔ اس عمارت کے مالک حاجی صاحب کا کوئی لین دین کا جھگڑا تھا۔ اس کا خواہ مخواہ خمیازہ ہمیں بھی بھگتنا پڑا۔ قبضے کے دوران کلاشنکوف بردار بدمعاشوں سے شعیب بھٹی الجھ پڑے۔ وہ عمارت خالی کرنے پر تیار نہ تھے۔ وہ بدمعاش بھی تھوڑی دیر کے لئے سوچ میں تو پڑے مگر موقع پر موجود دیگر کامریڈز نے انہیں سمجھایا کہ یہ جھگڑا ہمارا نہیں ہے اور یوں الجھنا دانش مندی نہیں ہے یوں وہ عمارت خالی کرنے پر تیار ہوئے۔ میں بھی موقع پر موجود تھا۔ ہم عمارت سے نکلے اور قریب ڈھابے پر چائے پینے چلے گئے۔ شعیب بھٹی کو سب سے زیادہ فکر اپنی کتابوں کی تھی مبادا دوران قبضہ ان کی کتابیں کہیں کھو نہ جائیں، پھینک نہ دی جائیں۔

اسی طرح مجھے یاد آیا مسیحی برادری کے ایک جلوس پر پولیس نے لاٹھی چارج کر دیا۔ یہ بہت بڑا جلوس تھا۔ لگ بھگ دس ہزار لوگ تھے۔ یہ جلوس بشپ جان جوزف کی ’احتجاجی خود کشی‘ کے بعد نکلا۔ انہوں نے بلاسفیمی قوانین کی منسوخی کے لئے خود کشی کی تھی جس نے پورے ملک کو ہلا دیا۔

ہم چند ساتھی بھی اس مظاہرے میں شریک تھے۔ حسب معمول رسالہ بیچ رہے تھے۔ ایک پمفلٹ بھی تقسیم کر رہے تھے۔ پمفلٹ سے یاد آیا شعیب بھٹی پمفلٹ اور پوسٹر لکھنے کے بھی ماہر تھے۔

جب پولیس لاٹھیاں مارنے ہماری طرف بڑھی تو میں زور سے چلایا ”میں صحافی ہو ں “۔ پولیس والا رک گیا۔ میرے برابر شعیب بھٹی اور محمود بٹ مرحوم تھے۔ دونوں کو پولیس نے بے رحمی سے مارا۔ آنسو گیس بھی جاری تھی۔ ہم کسی طرح وہاں سے بھاگ کر نوائے وقت اخبار کے دفتر میں گھس گئے کیونکہ میں ان دنوں دی نیشن میں ہی کام کر رہا تھا۔ چوکیدار نے گیٹ کھول دیا اور ہم اندر جا سکے۔

کچھ اوسان بحال ہوئے اور جلوس ختم ہوا تو میں دفتر چلا گیا محمود بٹ اور شعیب بھٹی جدوجہد دفتر لوٹ گئے مگر اگلے کئی سال تک وہ دوستوں کو اس واقعہ کا ہنستے ہوئے ذکر یوں سناتے ”دیکھو لاٹھیاں ہم دونوں کو پڑیں مگر جس زور سے یہ شخص چلایا اس سے تو آسمان بھی کانپ گیا“۔ ہم اس واقعہ پر بعد ازاں کئی بار ہنسے۔

ان کا خاص موضوع معیشت تھا۔ انہوں نے معاشیات میں ایم اے بھی کیا۔ بہن بھائیوں میں سب سے بڑے تھے اس لئے خاندان کا ایک بوجھ بھی ان پر تھا مگر جوں ہی ان کے بہن بھائی تعلیم سے فارغ ہوئے، انہوں نے نوکری چھوڑ کر فل ٹائمر کے طور پر کام شروع کر دیا۔

دفتری کام کے علاوہ ملک بھر میں دورے کرتے۔ ای میل اور موبائل ابھی آیا نہیں تھا اس لئے ایک اہم ذمہ داری خطوں کے جواب دینا، رسالہ بھجوانا، کتابیں بھجوانا ہوتا۔ اس پر وہ روز گھنٹوں خرچ کرتے۔ صبح تین چار بجے اٹھ جاتے۔ ڈان اخبار کا مطالعہ کرنا، اکانومسٹ پڑھنا…یہ غالباً انہوں نے کامریڈ لال خان سے سیکھا تھا…ان کا معمول تھا۔ ہمیں بھی ڈان اور اکانومسٹ پڑھنے کے علاوہ مختلف کتابوں بارے ترغیب دیتے۔

جدوجہد گروپ کے ابتدائی ساتھیوں کی ایک اہم خوبی یہ تھی کہ سب کتابوں کے کیڑے تھے۔

مارکسی نظریات کی انسان دوست تشریح کرتے تھے۔ شائد اسی کانتیجہ تھا کہ سبزی خور ہو گئے۔ گوشت کھانا چھوڑ دیا جس کی وجہ سے کئی بار بھوکا رہنا پڑتا کیونکہ اکثر جب دوروں پر جاتے تو مہمان کامریڈز نے گوشت کا سالن بنا رکھا ہوتا تھا جو ہمارے ہاں مہمان نوازی کا بنیادی جز سمجھا جاتا ہے۔

شادی تھوڑی دیر سے کی۔ ان کی ایک بیٹی ہے لیکن انہوں نے سینکڑوں نہیں ہزاروں لوگوں کو سوگوار چھوڑا ہے۔ ابھی تک یقین نہیں آ رہا کہ وہ چلے گئے ہیں۔ یوں اچانک۔ بقول فراز:

چراغ بجھتے ہی رہتے ہیں پر جو اب کے ہوا
اسے ہواؤں کا دیوانہ پن کہا جائے

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔