خبریں/تبصرے

کابل: خوبصورتی اور آرٹ کا قتل شروع، موسیقی پہلے ہی خودکشی کر چکی

فاروق سلہریا

کابل کی دیواروں پر جا بجا انتہائی دیدہ زیب مورل نظر آتے تھے۔ ان مورلز کی دیدہ زیبی اپنے سیاسی اور سماجی پیغام کی وجہ سے اور بھی زیادہ اہم ہو جاتی۔

یہ آرٹ تخلیق کرنے والے افغان نوجوان تھے۔ ان میں خواتین بھی شامل تھیں۔ کابل پر طالبانی بربریت کے قبضے کے بعد آرٹ کے یہ نمونے بھی اب قتل ہونے لگے ہیں۔ اس کی ایک مثال مندرجہ ذیل مورال ہے جس کا طنزیہ عنوان تھا ’برادر خلیل زاد‘۔ یہ مورل دوحہ معاہدے کی صورت میں خواتین سے غداری بارے تھا۔

اب اس مورل کی جگہ ملا ہیبت اللہ کا یہ پیغام درج کر دیا گہا ہے کہ دشمن سے خبردار رہیں۔

اسی طرح مندرجہ ذیل ویڈیو میں (جو گذشتہ روز سامنے آئی) دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک بیوٹی پارلر کے بورڈ سے خواتین کے چہرے مٹائے جا رہے ہیں:

رہی موسیقی تو وہ پہلے ہی خود کشی کر چکی ہے۔ کابل کا شہرہ آفاق میوزک انسٹی ٹیوٹ بند ہو گیا ہے۔ فنکار یا جلا وطنی میں چلے گئے ہیں یا انڈر گراونڈ۔