خبریں/تبصرے

طالبان حکومت: وزیر اعظم سمیت 14 وزرا دہشت گردوں کی عالمی بلیک لسٹ میں شامل ہیں

حارث قدیر

طالبان کی جانب سے اعلان کردہ عبوری حکومت کے وزیر اعظم سمیت کم از کم 14 اراکین اقوام متحدہ کی دہشت گردوں کیلئے مرتب کردہ بلیک لسٹ میں شامل ہیں، وزیر داخلہ امریکہ کی مطلوب ترین دہشت گردوں کی فہرست میں شامل ہیں اور انکے سر کی قیمت 10 ملین ڈالر مقرر کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ امریکی جیل گونتاناموبے سے ایک امریکی فوجی اہلکار کی طالبان کی قید سے رہائی کے بدلے میں رہائی پانے والے 5 طالبان رہنما بھی عبوری حکومت میں شامل ہیں۔

تاہم اقوام متحدہ کی جانب سے دہشت گردوں کیلئے مرتب کی گئی بلیک لسٹ میں شامل حکومتی عہدیداروں کی تعداد زیادہ بھی ہو سکتی ہے، بی بی سی کے مطابق طالبان رہنما عام طور پر عرفیت سے ہی پہچانے جاتے ہیں اس لئے بلیک لسٹ میں ان کی تصدیق کرنا ممکن نہیں ہے۔

عبوری حکومت کے وزیر اعظم ملا محمد حسن اخوند پر بامیان بدھا کا مجسمہ توڑنے اور شیعہ ہزارہ لیڈر عبدالعلی مزاری کا مجسمہ توڑنے کے احکامات جاری کرنے کا الزام بھی ہے۔ نامزد کردہ عبوری وزیر داخلہ ملا سراج الدین حقانی امریکہ کی جانب سے مطلوب ترین دہشتگردوں کی فہرست میں شامل ہیں اور امریکہ نے ان کے سر کی قمت 10 ملین ڈالر مقرر کر رکھی ہے۔

اقوام متحدہ کی بلیک لسٹ میں شامل طالبان حکومتی عہدیداروں میں وزیر اعظم ملا محمد حسن اخوند، نائب وزرا اعظم ملا عبدالغنی برادر، مولوی عبدالسلام حنفی، وزیر دفاع مولوی محمد یعقوب مجاہد، وزیر داخلہ ملا سراج الدین حقانی، وزیر خارجہ امیر خان متقی، وزیر پانی و بجلی ملا عبدالطیف منصور، وزیر ٹیلی کمیونیکیشن نجیب اللہ حقانی، وزیر مہاجرین خلیل الرحمان حقانی، ڈائریکٹر انٹیلی جنس عبدالحق واثق، وزیر اقتصادیات قاری دین محمد حنیف، ڈپٹی وزیر خارجہ شیر محمد عباس ستانکزئی، وزیر سرحد و قبائل نور اللہ نوری، ڈپٹی وزیر داخلہ مولوی نور جلال کے نام شامل ہیں۔

گوانتاناموبے کے’طالبان فائیو‘ کے نام سے جانے جانے والے 5 طالبان رہنماؤں میں سے 4 کو بھی عبوری حکومت میں اہم عہدے دیئے گئے ہیں۔ ملا عبدالحق واثق کو انٹیلی جنس کا سربراہ، خیر اللہ خیرخواہ کو وزارت اطلاعات و ثقافت، ملا نوراللہ نوری کو وزیر سرحدی و قبائلی امور اور ملا محمد فاضل کو نائب وزیر دفاع مقرر کیا گیا ہے۔ یہ چاروں طالبان کے ابتدائی دور حکومت میں بھی اہم عہدوں پرفائز رہے ہیں، ملا محمد فاضل اور ملا عبدالحق واثق کو دوبارہ انہی محکموں کی ذمہ داری سونپی گئی ہے جن عہدوں پر وہ ابتدائی دور حکومت میں فائز رہے ہیں۔

اردو نیوز کے مطابق ان چاروں طالبان رہنماؤں اور ان کے ساتھ محمد نبی عمری کو جون 2014ء میں اوبا انتظامیہ نے امریکی فوجی اہلکار سارجنٹ بوبر گڈال کی رہائی کے بدلے میں رہا کیا تھا، اسی لئے انہیں ’طالبان فائیو‘ کے نام سے بھی پہچانا جاتا ہے۔ سارجنٹ بوبر گڈال کو 2009ء میں افغانستان کے مشرقی صوبہ پکتیا میں قائم ایک چیک پوسٹ سے طالبان کے حقانی نیٹ ورک نے اغوا کیا تھا۔

ان 5 طالبان رہنماؤں کو 02-2001ء کے دوران پاکستان اور افغانستان کے مختلف شہروں سے گرفتار کر کے گوانتا ناموبے منتقل کیا گیا تھا۔ جون 2014ء میں رہائی کے بعد بھی یہ پانچوں طالبان رہنما قطر میں امریکی اور قطری حکام کی نگرانی میں رہے اور ان پر سفر ی پابندیاں بھی عائد رہی ہیں۔

طالبان کی جانب سے اعلان کردہ حکومت میں شامل اہم عہدیداروں کا مختصر تعارف درج ذیل ہے:

ہیبت اللہ اخوندزادہ

طالبان حکومت کے نئے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ کو مئی 2016ء میں طالبان کا سپریم کمانڈر نامزد کیا گیا تھا۔ طالبان کے بنیادی اراکین میں سے ایک ہیں، جنگی کمانڈر سے زیادہ مذہبی رہنما کی شہرت رکھتے ہیں۔ ماضی کی طالبان حکومت میں شرعی عدالتوں کے سربراہ رہے اورسخت گیر قوانین اور سزائیں متعارف کروانے کی شہرت رکھتے ہیں۔

تاہم وہ ابھی تک منظر عام پر نہیں آئے۔ ماہرین کے مطابق ان کے ’کوئٹہ شوریٰ‘ کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں اور افغان طالبان رہنماؤں کے حوالے سے بی بی سی نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ پاکستان شہر کوئٹہ میں مقیم ہیں۔

سپریم کمانڈر کی حیثیت سے وہ حکومت کے سیاسی، عسکری اور مذہبی امور کے انچارج ہونگے۔

ملا محمد حسن اخوند

عبوری وزیر اعظم ملا محمد حسن اخوند ان 4 افراد میں سے ایک ہیں جنہوں نے 1994ء میں افغان طالبان کی بنیاد رکھی تھی، وہ طویل عرصہ سے طالبان کی رہبری شوریٰ کے سربراہ ہیں۔ گزشتہ طالبان حکومت میں وزیر خارجہ اور نائب وزیر اعظم رہے اور اقوام متحدہ کی پابندیوں کی فہرست میں شامل ہیں۔

سراج الدین حقانی

عبوری وزیر داخلہ سراج الدین واحد شخصیت ہیں جو امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کی انتہائی مطلوب افراد کی فہرست میں شامل ہیں اور ان کے سر کی قیمت 10 ملین ڈالر مقرر ہے۔ وہ اپنے والد جلال الدین حقانی کی وفات کے بعد حقانی نیٹ ورک کے نئے رہنما بنے اور انہیں امریکی نواز افغان فورسز اور مغربی اتحادیوں کے خلاف سخت گیر حملوں کا سہرا دیا گیا ہے۔

حقانی نیٹ ورک کو امریکہ نے دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے اور اسے خطے کا سب سے طاقتور عسکری گروپ قرار دیا جاتا ہے، کچھ ماہرین اسے داعش سے بھی زیادہ بااثر قرار دیتے ہیں۔ یہ گروپ پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر طالبان کے مالی اور عسکری اثاثوں کی نگرانی کرتا ہے۔

ملا عبدالغنی برادر

عبوری نائب وزیر اعظم عبدالغنی برادر طالبان کے شریک بانی ہیں۔ انہیں فروری 2010ء میں کراچی میں امریکہ اور پاکستان کے مشترکہ آپریشن میں گرفتار کیا گیا تھا۔ 8 سال تک پاکستانی جیل میں رہے اور انہیں جنوری 2019ء میں امریکی کوششوں سے ہی رہائی ملی اور قطر میں طالبان کے سیاسی دفتر کے سربراہ بنائے گئے۔

وہ پہلے طالبان رہنما ہیں جنہوں نے کسی بھی امریکی صدر سے براہ راست ٹیلی فونک بات چیت کی۔ 2020ء میں انکی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فون پر بات چیت ہوئی تھی۔

ملا محمد یعقوب

عبوری وزیر دفاع ملا محمد یعقوب طالبان کے بانی ملا عمر کے صاحبزادے ہیں۔ طالبان کی عسکری کارروائیوں کے سربراہ ہیں۔ سابق طالبان رہنما ملا اختر منصور کی ہلاکت کے بعد کچھ طالبان انہیں نیا سپریم کمانڈر مقرر کرنا چاہتے تھے لیکن دیگر نے اتفاق نہیں کیا تھا۔

ملا عبدالحق واثق

عبوری حکومت میں انٹیلی جنس چیف عبدالحق واثق کا تعلق صوبہ غزنی سے ہے انہوں نے کوئٹہ میں ایک دینی مدرسے سے تعلیم حاصل کی، ماضی کی حکومت میں بھی ڈپٹی انٹیلی جنس چیف رہے۔ انہیں نومبر 2001ء میں غزنی سے امریکی فورسز نے گرفتار کیا تھا۔

خیر اللہ خیرخواہ

وزیر اطلاعات و ثقافت مقرر ہونے والے خیر اللہ سید ولی خیرخواہ پہلے بھی طالبان کے ترجمان کے طور پر کام کر چکے ہیں۔ خیرخواہ پاکستان میں پناہ گزین کی حیثیت سے بھی رہے۔ امریکی محکمہ دفاع کی دستاویزات کے مطابق انہیں فروری 2002ء میں پاکستان کے صوبہ بلوچستان سے گرفتار کیا گیا تھا۔ بعد ازاں انہیں کوئٹہ میں امریکی فورسز کے حوالے کیا گیا جو انہیں گوانتاناموبے جیل لے گئیں۔

54 سالہ خیرخواہ قندھار کے پشتون پوپلزئی قبیلے سے تعلق رکھنے والے طالبان کے اولین ارکان میں شمار ہوتے ہیں۔

امریکی وزارت دفاع کے جوائنٹ ٹاسک فورس کی دستاویزات کے مطابق ترجمان کی حیثیت سے خیرخواہ ہرات سے پاکستانی سرحدی شہر چمن تک باقاعدگی سے آتے تھے تاکہ اپنے بیانات میڈیا میں شائع اور نشر کرا سکے۔

ملا خیر خواہ حامد کرزئی کے قریبی دوست سمجھے جاتے ہیں۔ کرزئی سے ان کے تعلقات پر طالبان سربراہ ملا محمد عمر نے اعتراض بھی کیا تھا۔ 2011ء میں افغان صدر حامد کرزئی نے خیر اللہ خیر خواہ کی رہائی کی درخواست کی تھی تاہم امریکی حکام نے تب یہ درخواست رد کر دی تھی۔

ملا فاضل مظلوم

افغانستان کے جنوبی صوبے اورزگان سے تعلق رکھنے والے ملا فاضل مظلوم طالبان کے پہلے دور حکومت میں نائب وزیر دفاع اور فوجی سربراہ تھے۔

نئی عبوری حکومت میں انہیں دوبارہ نائب وزیر دفاع کا عہدہ دیا گیا ہے۔ وکی لیکس کی جانب سے جاری کی گئیں گوانتاناموبے سے متعلق امریکی دستاویزات میں ان پر اقلیتی گروہ کے افراد کی بڑے پیمانے پر قتل و غارت گری کا الزام لگایا گیا۔ ملا فاضل سوویت افواج کے قبضے کے دوران پاکستان میں پناہ گزین رہے۔ انہوں نے دینی تعلیم کوئٹہ کے ایک مدرسے سے حاصل کی ہے۔ 1995ء میں قندھار میں بطور سپاہی طالبان میں بھرتی ہوئے۔ نومبر 2001ء میں ازبک جنرل عبدالرشید دوستم کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے تھے، دوستم نے انہیں ہزاروں دیگر طالبان قیدیوں کے ہمراہ امریکہ کے حوالے کر دیا تھا۔

ملا نور اللہ نوری

عبوری حکومت میں وزیر سرحدی و قبائلی امور ملا نور اللہ نوری کا تعلق جنوبی افغان صوبہ زابل کے علاقے شاہ جوئی سے ہے۔ انہوں نے 1999ء میں جلال آباد میں گورنر مولوی کبیر کے محافظ کے طور پر طالبان میں شمولیت اختیار کی اور پھر ترقی کرتے کرتے بلخ اور لغمان صوبوں کے لیے طالبان کے گورنر جیسے عہدے پر پہنچے۔ انہوں نے بھی جنرل عبدالرشید دوستم کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے تھے جنہوں نے بعد ازاں انہیں امریکہ کے حوالے کر دیاتھا۔

امیر خان متقی

عبوری حکومت میں وزیر خارجہ امیر خان متقی بھی طالبان کے سینئر رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں اورمغربی اتحادیوں کے انخلا سے متعلق امریکہ سے مذاکرات میں وہ بھی شریک رہے ہیں۔

حارث قدیر کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے راولا کوٹ سے ہے۔  وہ لمبے عرصے سے صحافت سے وابستہ ہیں اور مسئلہ کشمیر سے جڑے حالات و واقعات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔