خبریں/تبصرے

’نیا طالبان‘ اسکول آف جرنلزم

حارث قدیر

کابل سمیت افغانستان کے مختلف علاقوں میں جاری احتجاج کی کوریج کرنے والے صحافیوں کو طالبان کی جانب سے گرفتار کرنے اور تشدد کا نشانہ بنائے جانے کے واقعات سامنے آئے ہیں۔

سامنے آنے والی ویڈیوز میں تشدد زدہ صحافیوں کو دیکھا جا سکتا ہے، یہ وہ صحافی تھے جو ملک کے مختلف شہروں میں جاری احتجاجی مظاہروں کی کوریج کر رہے تھے۔

افغان صحافی زکی دریابی نے ٹویٹ میں بتایا کہ بدھ کے روز خبررساں ادارے اطلاعات روز کے 5 صحافیوں کو طالبان کی جانب سے حراست میں لیا یا اور ان میں سے 2 کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے اپنے ٹویٹر اکاؤٹ پر ان دو صحافیوں کی تصاویر اور ویڈیوز بھی شیئر کیں جنہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

بعد ازاں متعدد صحافیوں اورسماجی کارکنوں نے ان تصاویر کو شیئر کرتے ہوئے تشدد کی شدید مذمت کی ہے اور طالبان کی طرف سے میڈیا کی آزادی کے دعوؤں پر سوالات اٹھائے ہیں۔

یورو نیوز سے منسلک ایک افغان صحافی کو بھی بدھ کے روز احتجاج کی کوریج کی اجازت لینے کی کوشش میں 3 گھنٹے حراست میں رکھا گیا اور انکا موبائل فون اور بٹوا ضبط کرنے کے علاوہ انہیں تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا۔

بی بی سی سے گفتگو میں ایک صحافی نے بتایا کہ بہت سے مظاہرین اور صحافیوں کو حراست میں لیا گیا۔ میں نے انہیں بتایا کہ میں صحافیوں ہوں لیکن انہوں نے میری بات نہیں سنی اور تشدد کا نشانہ بنایا، تمام ویڈیوز ڈیلیٹ کر دیں۔

انکا کہنا تھا کہ انکے فون کے ڈسپلے پر ایک مرد اور عورت کی تصویر تھی جسے دیکھ کر طالبان کمانڈر کو بہت زیادہ غصہ آیا اور فون میرے منہ پردے مارا۔

ہیومن رائٹس واچ نے صحافیوں پر تشدد کے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ طالبان میڈیا کی آزادی کا احترام کریں۔

حارث قدیر کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے راولا کوٹ سے ہے۔  وہ لمبے عرصے سے صحافت سے وابستہ ہیں اور مسئلہ کشمیر سے جڑے حالات و واقعات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔