اداریہ

بیس سال پہلے: آج کے دن

اداریہ جدوجہد

آج سے 20 سال قبل 11 ستمبر 2001ء کو امریکہ کے ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر دو مسافر طیاروں کے ٹکرانے سے پھیلنے والی آگ اور ٹاورز کے زمین بوس ہونے کے نتیجے میں 2600 سے زائد افراد کی ہلاکتیں ہوئی تھیں۔ اس حملے میں دہشت گردوں نے 4 طیارے اغوا کئے جن میں سے 2 بوئنگ طیارے ورلڈ ٹریڈ سنٹر کے دونوں ٹاوروں سے ٹکرائے گئے جبکہ ایک طیارہ پینٹاگون کی عمارت سے جا ٹکرایا جبکہ چوتھا طیارہ امریکی ریاست پنسلوانیا میں گر گیا۔

طیاروں کے ٹکرانے سے ہونے والے دھماکوں اور تقریباً 37 ہزار لیٹرتیل کے ٹاوروں کی بنیادوں تک پھیل جانے کی وجہ سے پھیلنے والی خوفناک آگ نے چند ہی لمحوں میں دونوں فلک بوس ٹاوروں کو زمین بوس کر دیا تھا۔ آگ کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ حملے کے اگلے 100 روز تک ٹاوروں کے ملبے میں آگ جلتی رہی۔

امریکی حکام نے فوری طور پر اس حملے کی ذمہ داری القاعدہ پر عائد کرتے ہوئے 19 افراد کے حملوں میں شامل ہونے کی اطلاع دی۔ اس حملے کا ماسٹر مائنڈ عالمی دہشت گرد تنظیم القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کو ٹھہرایا گیا اور افغانستان میں امریکہ اور اتحادیوں کی مدد و معاونت سے اقتدار پر براجمان ہونے والے طالبان کی حکومت سے اسامہ بن لادن سمیت دیگر القاعدہ رہنماؤں کو امریکہ کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ مطالبہ تسلیم نہ ہونے کی صورت اکتوبر 2001ء میں امریکہ اور اسکے اتحادیوں نے افغانستان میں فضائی حملوں کا آغازکیا اور نومبر میں کابل کو فتح کرتے ہوئے طالبان کو اقتدار سے بے دخل کر دیا گیا۔

گزشتہ بیس سالوں کے دوران دہشت گردی کے خلاف اس جنگ کے نام پر افغانستان اور پاکستان میں کم از کم ساڑھے تین لاکھ افراد کی ہلاکتیں ہوئیں جن میں بڑی تعداد عام افراد، خواتین اور بچوں کی بھی شامل تھی۔ اتحادی افواج کے 3500 افراد کی ہلاکتیں ہوئیں جبکہ افغان فورسز، سامراج کی طرف سے قائم کردہ حکومت کے اہلکاروں اور پاکستانی فورسز اور حکام کی ایک بڑی تعداد بھی اس دہشت گردی کی جنگ میں لقمہ اجل بنی ہے۔ بیس سالہ جنگ کے دوران سامراجی فوجوں نے جنگی جرائم کی بھی اندوہناک مثالیں قائم کیں۔

گزشتہ بیس سالوں کے دوران ہزاروں ارب ڈالر خرچ کرنے اور قتل و غارت گری مسلط کرنے کے باوجود امریکہ اور اس کے دیگر اتحادی ممالک آج شکست سے دوچار ہو کر افغان شہریوں کو اسی کیفیت میں چھوڑ کر بھاگنے پرمجبور ہوئے ہیں جس کیفیت سے نکالنے کیلئے وہ افغانستان میں آئے تھے۔ افغانستان میں امریکہ اور اتحادیوں کی آمد کا بظاہر اور اعلانیہ مقصد القاعدہ کا صفایا کرنا، افغان شہریوں کو جمہوریت اور پرامن زندگی دینا، انفراسٹرکچر بہتر کرنا اور خواتین کو حقوق فراہم کرنا تھا (گو ناقدین اس وقت بھی درست طور پر کہہ رہے تھے کہ یہ سب مقاصد ایک پراپیگنڈہ ہیں) لیکن آج جب امریکہ اور اس کے اتحادی افغانستان سے فرار ہوئے ہیں تو ان مقاصد میں سے صرف ایک مقصد اسامہ بن لادن کی ہلاکت کی صورت میں ہی حاصل کرنے میں کامیاب ہو پائے ہیں۔

افغانستان کے عوام ایک مرتبہ پھر 2001ء کے جبر اور وحشت سے دوچار ہو چکے ہیں۔ خواتین گھروں میں مقید ہوچکی ہیں، انکے کھیل اور کام کرنے پر پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں، میڈیا کا گلا گھونٹا بلکہ کاٹا جا ر ہا ہے، جمہوری آزادیاں سلب کی جا چکی ہیں، احتجاج اور آواز اٹھانے پر جبر و تشدد کا شکار بنایا جا رہا ہے اور بندوق بردار گروہ افغان شہریوں کی زندگی اور موت کا فیصلہ کرنے میں با اختیار ہو چکے ہیں۔

اس سب کے علاوہ ایک اور خوف جو اس خطے پر مسلط ہو رہا ہے وہ بھوک و احتیاج کی وحشت کا خوف ہے۔ متعدد مسلح گروہ بھی بدستور اس خطے میں موجود ہیں، مختلف علاقائی طاقتوں کے پراکسی گروہ بھی موجود ہیں اور سامراجی ممالک گدھوں کی طرح قدرتی وسائل سے مالا مال اس خطے کی طرف للچائی نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔

دوسری طرف گزشتہ 20 سالوں کے دوران جو کسی حد تک پڑھی لکھی نوجوان نسل پروان چڑھی اور جن خواتین نے عام زندگی میں حصہ لینا شروع کیا تھا وہ افغانستان سے مسلسل بھاگنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ لاکھوں افغان شہری اس وقت تک ملک سے فرار ہو چکے ہیں، ہزاروں مزید افغانستان سے فرار ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔

20 سال قبل جس دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ شروع کی گئی تھی، اس دہشت گردی کی بنیاد بھی انہی سامراجی طاقتوں نے افغانستان کے ثور انقلاب کو کچلنے اور سوویت یونین کے خلاف جنگ کا ایندھن بنانے کیلئے رکھی تھی۔ پھر اسی عفریت کو کچلنے کیلئے افغانستان پر سامراجی یلغار کی گئی اور آج اسی عفریت کو پہلے سے کئی گنا زیادہ طاقتور حالت تک پہنچا کر اس جنگ میں بری طرح سے شکست کا شکار ہونے والی سامراجی طاقتیں انسانیت کی تذلیل کا تماشا دیکھ رہی ہیں۔

ماضی میں بھی سامراجی بنیادوں پر کوئی بھی مسئلہ نہ تو حل کیا گیا ہے اور نہ ہی آئندہ حل کیا جانا ہے، ہر خطے میں ہونے والی سامراجی مداخلت مخصوص سامراجی مقاصد کے حصول کیلئے ہی ہوتی ہے، عوامی فلاح و بہبود، محنت کش طبقے کی زندگیوں میں بہتری لانے، جمہوری اقدار سمیت دیگر دعوے محض میڈیا پر دکھانے کیلئے کئے جاتے ہیں۔ محنت کش طبقے کی نجات کا اوزار محنت کش طبقہ خود ہی ہے اور جب تک محنت کش طبقے کی طاقت کی بنیاد پرسرمایہ دارانہ نظام اور اس کی نیولبرل پالیسیوں کو اکھاڑ پھینکا نہیں جاتا، نہ تو سامراجی جنگوں کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس خطے پر مسلط دہشت اور وحشت کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔

افغانستان میں سامراجی انخلا کے بعد مسلط ہونے والی وحشت سے محنت کشوں اور خواتین کو ایک زبردست دھچکا لگا ہے اور وہ ایک صدمے کی کیفیت میں موجود ہیں۔ تاہم اس گہرے سکوت میں خواتین اور نوجوانوں کے احتجاجی مظاہروں نے کچھ ارتعاش پیدا کی ہے، آنے والے دنوں میں ان واقعات اور احتجاج کی شدت میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔ ماضی کی طرح اب صرف طاقت اور بندوق کے زور پر افغان محنت کشوں اور خواتین کو لمبے عرصے تک مطیع رکھنا ممکن نہیں رہنے والا ہے۔ یہ چھوٹے چھوٹے احتجاج اجتماعی طاقت کے احساس کو بھی پیدا کر رہے ہیں، طالبان کے اقتدار اور معاشی، سیاسی و سماجی مسائل کے حل میں ناکامی سمیت امن و امان کے قیام میں ناکامی ان احتجاجوں کو مزید توانائی فراہم کرنے کا باعث بن سکتی ہے۔ اس خطے سے ابھرنے والی طاقتور بغاوت نہ صرف افغانستان بلکہ پاکستان اور خطے کے دیگر ملکوں پر بھی گہرے اثرات مرتب کرے گی۔ کسی ایک علاقے میں سرمایہ داری پر لگنے والی کاری ضرب نسل انسان کے مقدر بدلنے کی بنیادیں رکھنے کا باعث بن سکتی ہے۔