خبریں/تبصرے

جاوید لطیف بمقابلہ شہباز شریف بمقابلہ مریم نواز

لاہور (جدوجہد رپورٹ) معروف صحافی اسد علی طور نے اپنے ایک ویڈیو لاگ میں کہا ہے کہ شہباز شریف نے پارٹی اجلاسوں کا بائیکاٹ کر کے نوازشریف کو مجبور کیا ہے کہ وہ میاں جاوید لطیف کے خلاف کارروائی کریں۔ میاں نوازشریف نے جاوید لطیف کو شوکاز نوٹس جاری کر دیا ہے۔

ممبر قومی اسمبلی میاں جاوید لطیف نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے ن لیگ کے مفاہمت گروپ کو نوازشریف کے بیانیے کو نقصان پہنچانے کیلئے اسائنمنٹ دی گئی ہے۔

شہباز شریف پہلے ہی شاہد خاقان عباسی کے بیانات پر ناراض تھے، پارٹی کی جانب سے ’قومی حکومت‘ سے متعلق شہباز شریف کے بیان سے لاتعلقی اختیار کرنا بھی ناراضگی کا باعث بنا، جس کے بعد شہباز شریف نے ملک احمد خان کو اپنا الگ سے ترجمان مقرر کیا۔

جاوید لطیف کا بیان شہباز شریف پر تیسرا وارثابت ہوا۔ شہباز شریف نے میاں نوازشریف سے شکایت کی کہ وہ میاں جاوید لطیف اور شاہد خاقان عباسی کے خلاف ایکشن لیں، تاہم مریم نواز ڈٹ گئیں اور انہوں نے ایسا نہیں ہونے دیا۔

میاں نوازشریف نے جب کوئی ایکشن نہ لیا تو شہباز شریف نے پارٹی اجلاسوں کا بائیکاٹ کرنا شروع کر دیا۔ آئندہ الیکشن کے سلسلہ میں کارکنوں کو متحرک کرنے کیلئے ڈویژن کی سطح پر اجلاس منعقد کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔ ابتدائی دونوں اجلاسوں میں شہباز شریف اور حمزہ شہباز نے شرکت نہیں کی۔

شہباز شریف کے اس رد عمل کے بعد شہباز شریف کو منانے کیلئے میاں جاوید لطیف کو شوکاز نوٹس جاری کیا گیا ہے۔

اسد طور کا مزید کہنا تھا کہ شوکاز نوٹس جاری ہونے کے بعد شہباز شریف کیمپ کے لوگ بہت خوش ہیں اور کہتے ہیں کہ اب یا تو جاوید لطیف کو معافی مانگنا ہوگی یا پھر بطور ممبر قومی اسمبلی استعفیٰ دینا پڑے گا۔

میاں جاوید لطیف کا موقف ہے کہ میاں نوازشریف کو مجبور کر کے نوٹس جاری کروایا گیا، شاہد خاقان عباسی کو بھی نوٹس جاری کروانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ سب نوازشریف کے بیانیے کو کمزور کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے، جو کوئی بھی میاں نوازشریف کے بیانے کے ساتھ جو نہیں وہ گھر بیٹھ جائے۔

اسد طور کا کہنا تھا کہ ن لیگ کے کارکنوں کو بھی اس نوٹس سے مایوسی ہوئی ہے اور مریم نوازکیمپ بھی خوش نہیں ہے۔