نقطہ نظر

کمیونسٹ زبردست ہی ہوتے ہیں: فیض کا گورے افسر کو تاریخی جواب

(بی بی سی کے لئے یہ انٹرویو 1984ء میں لندن میں لیا گیا)

افتخار عارف: فیض صاحب، اگر ہم آپ سے کچھ باتیں کرنا چاہئیں، آپ کا انٹرویو لینا چاہئیں تو ہمیں بتائیں کہ کون کون سی باتیں ہوں گی جنہیں آپ چاہئیں گے کہ آپ سے نہ پوچھی جائیں۔

فیض: ایسی بہت سی باتیں ہیں، مثال کے طور پر ہمارے نامہ اعمال میں کچھ پردہ نشینوں کے نام بھی آتے ہیں، وہ تو ہم نہیں بتائیں گے۔ اس کے علاوہ ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ کون کون سی باتیں ہیں جو آپ سے چھپانے کی ہیں۔ ہماری زندگی تو ایک کھلی کتاب سی ہے۔

عارف: عام طور سے آپ کے بارے میں ایک تاثر یہ ہے کہ آپ نے انتہائی بھرپور زندگی گزاری ہے اور بڑی کامیاب زندگی گزاری ہے۔ کبھی کوئی پچھتاوا بھی آپ کو ہوا ہو گا۔

فیض: ایک پچھتاوا تو ہے کہ جب ہم اسکول میں پڑھتے تھے تو ہماری ’AMBITION‘ یہ تھی کہ ہم ایک بڑے کرکٹر بنیں، ابھی تک کبھی کبھی ہم خواب میں دیکھتے ہیں کہ ہم بہت بڑے ٹیسٹ کرکٹر ہیں اور کرکٹ میچ کھیل رہے ہیں۔ ایک تو وہ ہم نہیں بن سکے۔ یہ بہت بڑا پچھتاوا ہے۔

احمد فراز: فیض صاحب یہاں آپ سے تھوڑی سی عرض کرنا چاہوں گا کہ اگر آپ کرکٹر بن بھی جاتے تو پانچ سات سال تک آپ کو جو خواب تھا وہ حقیقت کا روپ اختیار کر لیتا۔ بعد میں کرکٹ سے ریٹائرڈ ہو کر تو ادھر ہی آنا تھا آپ کو۔

فیض: یہ تو دوسری بات ہے نا۔

فراز: میں سوچ رہا تھا لندن کے حوالے سے اور انگلستان کے حوالے سے کہ…

فیض: انگلستان کے حوالے سے یہ ہے کہ جب جنگ عظیم شروع ہوئی تو اس سے چھ مہینے پہلے ہم نے کیمرج میں داخلہ لیا تھا۔ جانے کی تمام تیاریاں مکمل تھیں۔ بحری جہاز میں ہماری سیٹ بُک تھی۔ ہم نے کچھ کپڑے بھی سلوا لیے تھے۔ یہ اُن دنوں کی بات ہے جب ہم امرتسر کے کالج میں پڑھاتے تھے۔ کالج کرکٹ ٹیم کے صدر تھے۔ ایک سردار صاحب تھے جو ہماری کرکٹ ٹیم کو سامان مہیا کرتے تھے۔ ہم نے سوچ رکھا تھا کہ وہاں کام کاج کر کے کام چلالیں گے۔ سردار صاحب سے بات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ یوں کریں کہ آپ ہمارے ایجنٹ بن جائیں، ہم آپ کو مال کی فروخت پر معقول کمیشن دیں گے۔ مگر ایک شرط ہے کہ میں جیوتشی سے پوچھے بغیر کوئی کام نہیں کرتا۔ آپ کو اس سے ملنا ہو گا۔ ہم اُس جیوتشی کے ہاں پہنچے، وہ کوئی پیشہ ور جیوتشی نہیں تھے، ریلوے میں ملازم تھے۔ جیوتشی صاحب نے ہمارا نام اور تاریخ پیدائش معلوم کی، کچھ یہ کچھ وہ پوچھا، ہاتھ دیکھا اور بولے ”آپ تو جاہی نہیں رہے ہیں“ ہم نے پوچھا ”کیا مطلب؟“ تو بولے راستہ ہی بند ہو گیا ہے۔ ہم نے کہا ”راستہ بند سے کیا مطلب ہے۔ ہماری جیب میں ٹکٹ ہے، کیمبرج میں داخلہ مل چکا ہے۔ تمام تیاریاں مکمل ہیں“۔ وہ بولے، آپ مانیں یا نہ مانیں، آپ نہیں جا رہے۔ اور واقعی ہوا یہ کہ چند ہی ماہ بعد جنگ عظیم شروع ہو گئی۔ ہمارا اطالوی جہاز جو ہمیں لندن لے جانے والا تھا بمبئی ہی نہیں آ سکا۔ اس طرح واقعی ہمارا راستہ بند ہو گیا۔ جب سے آج تک کبھی سوچتا ہوں کہ واقعی کچھ ہو گا اس علم میں بھی۔

فراز: فیض صاحب آپ سے پوچھنا چاہوں گا کہ اپنے لٹریچر میں، اپنی گفتگو میں جو مقصد زندگی کا آپ نے بنایا ہے، جو کاز رکھا اُس میں جیوتشی یا ستاروں کی طاقت کی کوئی جگہ ہے۔ اس چھوٹے سے واقعہ نے آپ کو کس حد تک متاثر کیا؟

فیض: متاثر صرف اس حد تک کیا کہ اُس کی بات سچ ہو گئی۔ کبھی کبھی تکا بھی لگ جاتا ہے۔

عارف: آپ کا گھر سیالکوٹ میں تھا، وہیں آپ نے ابتدائی تعلیم حاصل کی، اُس زمانے کے حوالے سے بچپن کی کچھ یادوں میں ہمیں بھی شریک کر لیں۔

فیض: بچپن کی یادیں کہ جب ہم نے ہوش سنبھالا ہے، یعنی پانچ چھ سات سال کے ہوئے تو ابتدا ہم نے قرآن شریف حفظ کرنے سے کی۔ ایک حافظ صاحب مقرر کیے گئے کہ ہم کو حفظ کرائیں تو ہم نے تین سپارے حفظ کیے۔ اس کے بعد ہماری آنکھیں دکھنے آگئیں تو ایک پچھتاوا یہ بھی ہے۔ جو آپ ابھی پوچھ رہے تھے کہ اس کے بعد ہم آگے حفظ نہ کر سکے۔ ابتدا میں ماسٹر عطا محمد سے گھر پر اردو اور فارسی کی تعلیم حاصل کی۔ پھر ہم مدرسہ میں داخل ہوئے۔ ہمارے ابا جوتھے وہ انجمن اسلامیہ کے صدر تھے۔ اس لیے پہلے ہمیں وہیں داخل کیا گیا۔ ہم جب پہلی مرتبہ مدرسہ بھیجے گئے تو بڑے اہتمام کئے گئے۔ ہمیں مخملی کپڑے پہنائے گئے، آنکھوں میں کاجل لگایا گیا، یہ اور وہ نہ جانے کیا کیا اہتمام ہوئے۔ دو گھوڑوں والی گاڑی میں بٹھا کر مدرسہ بھیجا گیا۔ وہاں پہنچنے تو دیکھا کہ ٹاٹ بچھا ہوا ہے اور میلے کچیلے کپڑوں میں بے چارے بچے بیٹھے ہوئے ہیں۔ وہ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھنے لگے کہ یہ کون سا جانور آگیا ہے۔

فراز: (قطع کلام کرتے ہوئے) فیض صاحب کی زندگی پر اس واقعہ کا بہت اثر ہے۔

فیض: بچوں نے ایسے ٹھٹے لگائے ہم پر کہ بہت ندامت ہوئی اور فیصلہ کیا کہ آج کے بعد ہم یہ نہیں کریں گے کہ ہم اور یہ الگ الگ ہیں۔ خیر تھوڑے دن تک رہے ہم اُس اسکول میں مگر بچوں نے ہماری زندگی عذاب کر دی۔ ایک تو ہمارے ابا چونکہ اسکول کے صدر تھے۔ اس لئے ہر ماسڑ ہم کو سلام کرتا تھا۔ امتحان وغیرہ تو ہوتے ہی نہیں۔ ویسے بھی ہم اردو، فارسی گھر اس اسے زیادہ پڑھ چکے تھے جو وہاں کے اُستادوں کو آتی تھی۔ آخر ایک دن ہم نے اپنے ابا سے کہا کہ ہم اس اسکول میں نہیں پڑھیں گے، وہاں سے ہم مشن اسکول چلے گئے۔

یہ بھی اُس زمانہ کی یاد ہے کہ کانگریس اور خلافت کی تحریک چلی تھی۔ امرتسر میں مارشل لا لگا تھا۔ سارے شہر میں ایک طرح کا ہنگامہ تھا۔ سیاسی گہماگہمی تھی۔ باہر لیڈر آتے تھے اور ان کے لیے شہر بھر پھولوں کے دروازے لگائے جاتے تھے۔ پھولوں سے سجی گاڑیاں تیار کی جاتی تھیں۔ جب اُن کا جلوس نکلتا تو ہندو، مسلمان، سکھ سب ساتھ ہوتے تھے۔ نعرے لگتے تھے۔ جو بولے سو نہال۔ ست سری اکال پھر نعرہ تکبیر، اللہ اکبر کی صدا بلند ہوتی۔ قومی نعرہ ”بندے ماترم“ کی آواز لگتی تھی اور اس کے بعد علامہ اقبال کا ترانہ ”سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا“ گایا جاتا تھا۔

یہ ہنگامے ہوتے ہی رہتے تھے۔ ہمارے ابا چونکہ شہر کے بہت بڑے رئیس تھے تو لوگ آتے تھے کہ آپ بھی تحریک میں حصہ لیجئے۔ وہ کہتے تھے جی تو بہت چاہتا ہے کہ میں بھی اُس میدان میں کود پڑوں مگر مجھے اپنے بچوں کا خیال آتا ہے۔ یہ ابھی بہت چھوٹے ہیں اور چونکہ وہ اس میدان میں نہیں کودے تو انگریز سے انہیں خان بہادر کا خطاب مل گیا۔

عارف: علامہ اقبال سے آپ کی ملاقاتیں کیسی تھیں؟

فیض: علامہ صاحب کو صرف ایک ہی بار دیکھا ہے، ذہن میں بہت دھندلا سا تصور ہے یہ پوچھئے کہ پہلی بار ہم پبلک میں کب آئے۔ انجمن اسلامیہ کا ہر سال ایک جلسہ ہوتا تھا جس میں مسلمانوں کے بڑے بڑے لیڈر آتے تھے۔ ہمارے ابا انجمن کے صدر تھے۔ ہماری عمر چار پانچ سال کی ہو گی۔ جب ہم نے قرآن شریف حفظ کرنا شروع کیا تھا۔ جلسہ میں ہمیں قرأت کرنے کے لئے کھڑا کر دیا گیا۔ ہم نے پلیٹ فارم پر پہنچ کر قرأت شروع کی تھی کہ انجمن کے سیکریٹری شیخ ظہور الٰہی مراد نے ہمیں اٹھا کر منبر پر کھڑا کر دیا وہاں ہم نے تھوڑی سی تلاوت کی۔ یہ تھی ہماری پہلی پبلک اپیرنیس۔

ہمارے ابا چونکہ شہر کے رئیس تھے۔ ڈسٹرکٹ بورڈ کے وائس چیئرمین تھے اور نہ جانے کیا کیا تھے۔ ڈپٹی کمشنر، کمشنر، کمانڈر انچیف باہر سے آتے تو ہمارے ابا ہمارے بڑے بھائی طفیل اور چھوٹے بھائی عنایت کو چھوڑ کر ہمیں اپنے ساتھ رکھتے تھے کیونکہ ہم اچھی انگریزی بول لیتے تھے۔ ہمیں یہ اچھا نہیں لگتا تھا مگر اس طرح پبلک لائف سے بچپن میں ہی روشناس ہو گئے۔ جب ہم ساتویں آٹھویں جماعت میں پہنچے تو بڑے بھائی کے ہم جماعت نذیر احمد محمود جو بعد میں جسٹس بنے کہنے لگے کہ تم شاعری کی کتابیں پڑھتے رہتے ہو کبھی شاعری بھی کی۔ ہم نے کہا شاعری تو کبھی نہیں کی۔ کہنے لگے۔ ہماری کلاس میں ایک لڑکا ہے۔ چھجو رام۔ اس کی ہجو لکھو۔ جو سمجھ میں آیا، ہم نے الٹی سیدھی ہجو لکھ دی کہ چھجو رام کا سر اس طرح کا ہے، پیٹ اس طرح کا ہے، ٹانگیں اس طرح کی ہیں۔ انہوں نے ہجو پڑھی تو کہنے لگے۔ تم تو شاعر ہو…اگلے دن سارے اسکول میں ہجو مشہور کر دی۔ ہمیں بہت ندامت ہوئی کہ چھجو رام کو رنج ہوا ہو گا۔ ہم اسے جانتے بھی نہیں تھے کہ کون ہے ڈھونڈ ڈھونڈ کر اس تک پہنچے، معافی مانگی تو کہنے لگا۔ معافی کیسی، میں تو شکر گزار ہوں کہ آپ نے مجھے سارے اسکول میں مشہور کر دیا۔“

تو یہ تھی شاعری میں ہماری پہلی کوشش۔ پھر ہم جب دسویں جماعت میں پہنچے تو ہمارے ماسٹر بہاری لال نے ایک مصرع دے کر سب کو غزل کہنے کی دعوت دی۔ شمس العلما سر سید میر حسن جج تھے۔ ہماری غزل کو پہلا انعام ملا۔ حالانکہ میں سمجھتا ہوں کہ غزل کے آدھے مصرے وزن سے خارج تھے۔ شمس العلما نے خوش ہو کر ہمیں ایک روپیہ انعام میں دیا، یہ پہلا انعام تھا جو ہمیں ملا تھا۔ آج تک یہ انعام یاد ہے۔

عارف: کچھ فوج کے بارے میں بتائیں کہ آپ کیسے گئے تھے؟

فیض: جب ۹۳۹۱ء میں لڑائی شروع ہوئی اس وقت ہمارے جو سیاسی دوست تھے انہوں نے کہا یہ سامراجی جنگ ہے، ہمارا اس سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔

کانگریس نے ہندوستان چھوڑ و تحریک چلارکھی تھی اور جتنے بائیں بازو کے لوگ تھے خاص طور پر کمیونسٹ اور سوشلسٹ ان سب کو انگریزوں نے دیوالی کیمپ میں نظر بند کر دیا تھا۔ ہمارے ایک بزرگ دوست مجید ملک فوج میں پبلک ریلیشنز آفسر بن کر گئے تو انہوں نے بہت چاہا کہ ہم فوج میں چلے جائیں مگر ہم نے انکار کر دیا کہ یہ امپریلزم کی جنگ ہے ہم اس میں شریک نہیں ہوں گے۔

اس دوران میں بی بی سی نے اس سلسلہ کے کچھ پروگرام شروع کیے۔ افضل مرحوم، چچا سدید (مرحوم) اعجاز بٹالوی، بی بی سی سے وابستہ ہو گئے۔ زیڈ بی بخاری انچارج تھے۔ اُن کا تار آیا کہ بی بی سی میں آ جاؤ۔ ہمیں ان دنوں امرتسر میں لیکچرار کے طور پر ایک سو بیس روپے تنخواہ ملتی تھی۔ تھوڑا سا دل للچایا کہ اس بہانے سے لندن دیکھ لیں۔ ہم نے انگلستان دیکھا نہیں تھا حالانکہ انگریز بیوی سے تو شادی کر چکے تھے۔ انگریز خاتون سے شادی کرنے کے لیے انگلستان جانے کی زحمت نہیں اٹھانا پڑی تھی، وہ خود ہی آ گئی تھی۔ دل کہتا تھا کہ ملازمت کے ساتھ ساتھ ممکن ہوا تو کیمبرج میں داخلہ لے لیں گے‘ یا بیرسٹر بن جائیں گے لیکن بہت سوچ بچار کے بعد ہم نے تار بھیج دیا کہ ہم اس جنگ میں امپریلزم کا ساتھ نہیں دیں گے۔

پھر جرمنوں نے روس پر حملہ کر دیا، دوسری طرف جاپانی، ہندوستا ن کی سرحدوں تک آ گئے۔ ہمارے دوستوں نے کہا حضور یہ ملک کے تحفظ کا مسئلہ ہے، یہ عالمی جنگ ہے۔ یہ فاشزم کے خلاف جنگ تو لڑنا ہی چاہیے۔ فوج میں ہم اس طرح گئے کہ شام کو ہم ریڈیو پر تقریر کرنے کے لئے گئے تھے کہ وہاں دہلی سے مجید ملک کا فون آیا کہ کل دلی آجاؤ تم سے بات کرنا ہے۔ میں سمجھ گیا۔ دوستوں سے مشورہ کیا تو سب نے اجازت دے دی۔

دہلی میں انگریز برگیڈیئر کے سامنے پیش کیا گیا تو اُس نے کہا ”تمہاری سی آئی ڈی فائل میرے سامنے میز پر رکھی ہے اُس پر لکھا ہے:

You are Advanced Communist (تم ایک زبردست کمیونسٹ ہو) میں نے کہا: What is Retarded Communist (کمزور کمیونسٹ کیا ہوتا ہے؟)۔ کہنے لگے: خیر مجھے اس رپورٹ کی پرواہ نہیں، تم کام کرو گے؟ میں نے کہا ہاں کروں گا۔ تب ہم اس طرح فوج میں آ گئے۔

عارف: آپ نے مہاتما گاندھی کی آواز پر بھی تو کچھ ملکی نغمے لکھے تھے۔

فیض: جی ہاں: اُن دنوں ہم لیڈر تھے۔ بہت سے نغمے ہم نے لکھے جیسے ”تجھ کو منظور…“