مارکسی تعلیم

دنیا پر کمیونزم کا بهوت منڈلا رہا ہے

التمش تصدق

کمیونسٹ مینی فسٹو کے آغاز میں لکھا ہے” یورپ کے اوپر ایک بھوت منڈلا رہا ہے، کمیونزم کا بھوت۔ اس سے چھٹکارا پانے کے لیے پرانے یورپ کی تمام طاقتوں نے مقدس اتحاد قائم کر لیا ہے”۔ مارکس اور اینگلز کے دور میں جو بھوت یورپ پر منڈلا رہا تھا آج وہ بھوت ساری دنیا پر منڈلا رہا ہے۔ ساری دنیا کا حکمران طبقہ کمیونزم کو اپنے اقتدار کے لیے مشترکہ خطرہ سمجھتا ہے۔ جس سے مقابلہ کرنے کے لیےانسان دشمن نسل پرستانہ اور مذہبی انتہا پسندی پر مبنی رجعتی نظریات کا سہارا لیا جا رہا ہے۔ آج بھی کمیونزم کے بارے ميں بھوت جیسی ہزاروں طفلانہ کہانیاں پھیلائی جا رہی ہیں۔ جن کا جواب کمیونسٹ مینی فسٹو میں تفصیل سے دیا گیا ہے ۔

سرمایہ دارانہ نظام کے بحران میں جس تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے حکمران طبقے کو کمیونزم کا خوف اتنی ہی شدت سے ستا رہا ہے۔ نظام زر میں بڑھتے ہوئے معاشی، سیاسی،ثقافتی اور ماحولیاتی بحران نے ایک مرتبہ پھر متبادل نظام کے سوال کو بڑے پیمانے پر سامنے لا کحڑا کیا ہے۔ جس کا جواب مارکسزم کے سوا کسی کے پاس نہیں ہے۔

آج ساری دنیا میں نوجوانوں اور محنت کشوں میں انقلابی نطریات کو سیکھنے کی پیاس بڑے پیمانے پر پائی جاتی ہے۔ مارکسزم کے انقلابی نظریات سے مقابلہ کرنے کی صلاحیت سے عاری بورژوا دانشوروں کے پاس کمیونزم کی ناکامی کا راگ الاپنے کے سوا کسی بات کا کوئی سنجیدہ جواب نہیں ہے۔ کروڑوں مرتبہ حکمران اشرافیہ کمیونزم کو دفن کرنے کا دعویٰ کر چکی ہےپھر بھی کمیونسٹ نظریات کا خوف انہیں سونے نہیں دیتا ہے۔

بورژوا دانشوروں کی فوج کو جب مارکسی نظریات کی سچائی کو جهٹلانے کی کوئی ٹھوس وجہ نہیں ملتی تو وہ مارکسی نظریات کو مسخ کر کے پیش کرتی ہے۔ ان باتوں کو مارکسزم سے منسوب کیا جاتا ہے جن کا مارکسی نظریات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ مارکسزم غلط ہو گیا کا راگ الاپنے والوں کی اکثریت ایسی ہے جنہوں نے مارکس کے نظریات کا مطالعہ نہیں کیا اور اگر کیا ہے تو انہوں نے سمجھا نہیں ہے یا پھر سمجھنا نہیں چاہتے۔

سوویت یونین کے ٹوٹنے کو کمیونزم کی ناکامی قرار دینے والا کارپوریٹ میڈیا اور بورژوا نصاب آج سائنس و ٹیکنالوجی کی ترقی کو بنیاد بنا کر یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی نے مارکسزم کو غلط ثابت کر دیا ہے۔ مارکس جس صنعتی مزدور طبقے کی بات کرتا تھا وہ طبقہ اب وجود نہیں رکھتا۔ دیکهیے مارکس جس مزدور طبقےکو ہر قسم کی پیداوار اور دولت کا خالق کہتا تھا وہ پیداوار اب مشینوں سے کی جاتی ہے۔ اب سرمایہ دار مزدور کی محنت کے استحصال سے نہیں جدید ٹیکنالوجی سے دولت کماتے ہیں۔ درمیانی طبقہ سکٹرنے کے بجائے بڑھ رہا ہے وغیرہ وغیرہ۔ بائیں بازو کے کچھ رحجانات بھی اس پروپیگنڈے کا شکار ہیں جو کہتے ہیں کہ مارکسزم پرانا ہو گیا ہے ہمیں کچھ نیا کرنا چاہیے۔

یہ اعترازات بظاہر  بڑے منطقی معلوم ہوتے ہیں لیکن حکمران طبقہ جس ترقی کو بنیاد بنا کر مارکسزم کو غلط ثابت کرنے کا اعلان کرتا ہے مارکسزم ہی وہ واحد نظریہ ہے جو سرمایہ دارانہ نظام میں ترقی کے متضاد کردار کی وضاحت کرتا ہے۔ کمیونسٹ مینی فسٹو کو آج بھی پڑھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے موجودہ حالات کی منظر کشی کی گئی ہو۔ مارکس سرمایہ دارانہ نظام میں سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی کا نہ صرف اعتراف کرتا ہے بلکہ اسے ایک ترقی پسند عمل سمجھتا ہے۔ اسی ترقی کی بنیاد پر مارکس انسان کے کمیونسٹ مستقبل کی بات کرتا ہے-انسان تاریخ میں پہلی مرتبہ اس قابل ہوا ہے کہ وہ طبقاتِ سے پاک ایسے سماج کا قیام عمل میں لا سکتا ہے جہاں محرومی، قلتِ اور مانگ کا خاتمہ ممکن ہے۔ اس کے ساتھ مارکس اس بات کی وضاحت بھی کرتا ہے کہ سرمایہ داری میں ذرائع پیداوار کی ترقی سے محنت کشوں کی زندگی سہل ہونے کے بجائے انکی بیروزگاری، غربت،ذلت اور مشقت میں اضافہ ہوتا ہے۔ سرمایہ داری میں مشین کا استعمال مزدوروں کی تخلیقی صلاحیتوں اور جذبات کو قتل کر کے اسے مشین کا پرزہ بنا دیتی ہے۔ جدید مزدور صنعت کے فروغ کے ساتھ اوپر اٹھنے کے بجائے اپنے طبقے کے موجودہ معیار زندگی سے بھی نیچے گرتا جاتا ہے۔ وہ نادار ہوتا جاتا ہے۔ اس طبقے کی ناداری آبادی اور دولت کی نسبت زیادہ تیزی سے بڑھتی ہے۔ جس سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ سرمایہ دار طبقہ اب اس قابل نہیں رہا کہ وہ سماج پر حکمرانی کر سکے۔ سرمایہ دار طبقہ غلاموں کو اپنی غلامی میں بھی زندگی کی ضمانت نہیں دے سکتا ہے۔ جس کی واضح مثال ساری دنیا میں بڑھتا ہوا بیروزگاری کا طوفان ہے۔ اس وقت دنیا میں تقریباً ڈیڑھ ارب سے زیادہ انسان بیروزگار ہیں جس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ مزدور طبقے کے پاس زندہ رہنے کے لیے اپنی محنت بیچنے کی علاوہ کوئی راستہ نہیں ہوتا ہے۔ جب محنت بھی نہ بکے تو زندگی کے سب دروازے بند ہو جاتے ہیں۔ سرمائے کی بیڑیاں توڑ کر انفرادی طور پر کوئی شحص بھاگ بھی نہیں سکتا ہے۔ امارت اور غربت کی جس خلیج کی مارکس نے بات کی تھی آج وہ تارخ کی بلند ترین سطح پر ہے۔ سات افراد دنیا کی نصف آبادی سے زیادہ دولت کے مالک ہیں دوسری طرف تین ارب سے زیادہ انسان یومیہ ڈھائی ڈالر پر زندگی بسر کرتے ہیں۔ ایک ارب تیس کروڑ اس سے بھی آدھے پر زندہ ہیں۔ کرونا وبا کے بعد اس تفریق میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ دوسری طرف اسی عرصے میں دنیا کے امیر ترین افراد کی دولت میں ہر دن اربوں ڈالر کا اضافہ ہوا ہے۔

مارکس وادی سرمایہ دارانہ نظام میں ٹیکنالوجی کی ترقی سے منکر نہیں ہیں بلکہ اسی ترقی کو سرمایہ داری کا بنیادی تضاد سمجھتے ہیں۔ جس کو ختم کیے بغیر انسانی سماج مزید ترقی نہیں کر سکتا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی سرمایہ دارانہ نظام میں شرح منافع میں گراوٹ اور زائد پیداواری صلاحیت کے بحرانوں کو جنم دیتی ہے۔ منڈی میں اجناس کے مقابلے کے لیے مشینوں میں تجدید اور اصلاح کاری کا نہ ختم ہونے والے سلسلے کے باعث ان میں مسلسل تکنیکی تبدیلیاں رونما ہوتی رہتی ہیں جس کا نتیجہ سرمایہ دارانہ نظام میں شرح منافع کی گراوٹ کے عالمی بحرانوں کی صورت میں سامنے آتا ہے۔

کارل مارکس اور اینگلز کمیونسٹ مینی فسٹو میں سرمایہ دارانہ نظام میں ذرائع پیداور کی ترقی کے نتیجے میں جنم لینے والے بحران کے حوالے سے لکهتے ہیں”جدید سرمایہ دارانہ سماج نے گویا جادو کے زور سے پیداوار اور تبادلے کے عظیم الشان وسیلے کھڑے کر لیے ہیں۔ مگر پیداواری تبادلے اور ملکیت کے اپنے رشتوں سمیت اس سماج کی حالت اس شعبدہ گر کی سی ہےجس نے اپنے جادو سے شیطانی طاقتوں کو جگا تو لیا ہے مگر اب قابو میں نہیں رکھ سکتا۔ اس سلسلے میں ان تجارتی بحرانوں کا نام لینا ہی کافی ہے۔ ان بحرانوں میں گویا ایک وبا سی پھیل جاتی ہے، زائد پیداوار کی وبا، جو پہلے کے زمانوں میں ایک انہونی سی بات معلوم ہوتی تھی۔ صنعت و تجارت برباد ہوتی نظر آتی ہے اور ایسا کیوں؟ اس لیے کہ تمدن کی برکتوں کی افراط ہے، زندگی کے وسائل کی افراط ہے، صنعت کی افراط ہے، تجارت کی افراط ہے”-

اس بات میں کسی قسم کے شک و شعبے کی گنجائش نہیں ہے کہ سائنس و ٹیکنالوجی کی جدت نے مزدور کی جسمانی اور ذہنی محنت کی ضرورت کو کم کیا ہے۔ لیکن اس ترقی نے سرمایہ داری کے تضادات کو مزید بڑھا دیا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام میں ٹیکنالوجی کی جدت سے شرح منافع میں مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے۔ اس کی وجہ مستقل سرمائے میں اضافہ ہے جو مشینری اور خام مال میں سرمایہ کاری کی صورت میں کیا جاتا ہے اور تغیر پذیر سرمائے میں کمی ہے جو مزدور کی محنت پر صرف کیا جاتا ہے۔ قدر زائد یا منافع محنت کشوں کی محنت کا وہ حصہ ہوتا ہے جو سرمایہ دار چوری کرتا ہے۔ مشین انسان کی ماضی کی محنت ہے جو لاکھوں سالوں سے مجتمع محنت اور جدوجہد کے نتیجے میں وجود میں آئی ہے۔ سرمایہ دار طبقہ صرف مزدوروں کی موجودہ محنت پر قابض نہیں ہے بلکہ ماضی کی محنت پر بھی اسی کا قبضہ ہے۔ مشین مزدور کی پیدواری صلاحیت کو بڑھاتی ہے وہ نئی قدر پیدا نہیں کرتی بلکہ خود میں موجود قدر کو اس وقت منتقل کرتی ہے جب مزدور کی زندہ محنت اس میں شامل ہوتی ہے۔ مشین میں جدت زندہ محنت میں مسلسل کمی لاتی اور اس سے بڑی اجارہ داریوں کے انفرادی منافعوں میں تو اضافہ ہوتا ہے جن کا جدید ٹیکنالوجی پر قبضہ ہے لیکن بحثیت مجموعی سرمایہ دار طبقے کی شرح منافع میں کمی آتی ہے-سرمایہ داری کے آغاز سے اس وقت تک سرمایہ دارنہ نظام میں مسلسل شرح منافع میں کمی واقع ہو رہی ہے۔ سرمایہ دار طبقہ شرح منافع کو برقرار رکھنے کے لیے سستی محنت کی تلاش میں ترقی پذیر ممالک کا رخ کرتا ہے۔ اس کی واضح مثال گزشتہ چار دہائیوں سے صنعت کی اپنے روائتی گڑھ یورپ اور امریکہ سے چین میں منتقلی ہے۔

سرمایہ دار طبقے کو اپنا وجود برقرار رکھنے کے لیے لازم ہے کہ وہ سرمایہ برابر وجود میں لاتا رہے اور سرمائے کے وجود کے لیے اجرتی محنت کا استحصال لازمی شرط ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کی وجہ سے اجرتی محنت کی مقدار میں کمی واقع ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ لمبے عرصے سے سرمایہ دار پیداواری شعبے میں سرمایہ کاری کے بجائے غیر پیداواری شعبے میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ پیدواری شعبے میں اب وہ منافع نہیں ہے جو ماضی میں ہوا کرتا تھا۔ آج سرمائے کا بڑا حصہ سٹاک ایکسچینج,پراپرٹی اور جوئے میں لگا کر مال کمایا جاتا ہے۔ کمپنیوں کو دیوالیہ پن سے بچانے کیلئے ریاستیں جو قرضہ فراہم کرتی ہیں اس کو بھی پیداواری شعبے میں استعمال نہیں کیا جاتا۔ کیوںکہ سرمایہ دارانہ نظام پہلے ہی زائد پیدوار کے بحران کا شکار ہے۔ زائد پیدوار کے بحران سے مراد ہرگز یہ نہیں ہے کہ تمام انسانوں کی ضروریات پوری ہو گئی ہیں اور فاضل پیدوار ہے۔ بلکہ جتنی قوت خرید موجود ہے اس سے زائد پیدوار ہے۔ قوت خرید نہ ہونے کے سبب آبادی کا بہت بڑا حصہ بنیادی انسانی ضروریات سے محروم ہے۔ کیوںکہ سرمایہ داری میں پیداوار کا مقصد انسانی ضروریات کی تکمیل نہیں منافع خوری ہے اس لیے منڈی میں قوت خرید کے حساب سے زائد پیداوار ہے۔ غیر پیداواری شعبے میں سرمایہ کاری سے دولت میں کسی قسم کا کوئی ْاضافہ نہیں ہوتا ہے۔ پیسے سے پیسہ بنانے سے تقسیم دولت میں تو فرق پیدا ہو سکتا ہے مجموعی دولت اتنی ہی رہتی ہے جتنی پہلے تھی۔ آج تاریخی طور پر سرمایہ دار طبقے کا وجود انسانوں کی اکثریت کے لیے بیکار بوجھ ہے۔ جسے اتار پھینکے بغیر زندگی کا یہ سفر زیادہ لمبے عرصے تک جاری نہیں رکھا جا سکتا ہے۔ آج یہ طبقہ اپنے وجود کے تقاضے پورے کرنے کے قابل نہیں ہے۔ کھربوں ڈالر کا سرمایہ بینکوں میں بیکار پڑا ہے جسے اس نظام میں انسانی ترقی کیلئے استعمال نہیں کیا جا سکتا ہے۔ آج یہ طبقہ ذرائع پیدوار کی مزید ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔

وہ لوگ جو محنت کش طبقے کے خاتمے کا دعویٰ کرتے ہیں وہ یہ بات بھول جاتے ہیں کہ سرمایہ دار طبقے کا اپنا وجود بھی محنت کشوں کی وجہ سے قائم ہے۔ جب محنت کش طبقہ نہیں رہے گا سرمایہ دار طبقہ بھی نہیں قائم رہ سکتا ہے۔ عددی طور پر دیکھا جائے تو آج تاریخ میں پہلی مرتبہ دنیا کی آبادی کی اکثریت محنت کش طبقے پر مشتمل ہے اور درمیانی طبقہ مسلسل سکڑ رہا ہے۔ کرونا وبا نے اس عمل کو مزید تیز کیا ہے۔ اس عرصے میں ہزاروں چھوٹی کمپنیاں دیوالیہ ہوئی ہیں اور بڑی اجارہ داریوں کے منافع مزید بڑھے ہیں۔ اس وقت دنیا میں تین ارب اجرتی محنت کش ہیں۔ اگر فرض کریں سرمایہ دارانہ نظام میں روبوٹیک ٹیکنالوجی کے ذریعے خودکار طریقے سے پیداوار, ترسیل اور تقسیم کو مکمل طور پر رائج کیا جاتا ہے تو اس پیداوار کو خریدے گا کون؟ اور اگر خریدار نہ ہوں گے تو پیداوار کیوں کر کی جائے گی۔ محنت کش طبقہ محض پیداوار نہیں کرتا بلکہ اس کا خریدار بھی ہے۔

اس لیے مارکس کہتا ہے کہ جب تک پیداوار کے مقصد کو نہیں بدلہ جاتا ذرائع پیداوار کی ترقی انسانی زندگی میں خوشحالی کے بجائے بربادی کا باعث بنتی ہے۔ محنت کش طبقے کے وجود کا خاتمہ اس وقت تک ممکن ہے جب وہ انقلاب كے ذریعے سرمایہ دار طبقے کا خاتمہ کر کے ذرائع پیداوار کا مالک نہیں بن جاتا اور طبقات کا خاتمہ نہیں کر لیتا۔ ایک منصوبہ بند سماج میں ہی سائنس کو انسانی زندگی کو سہل بنانے کا لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ماحولیاتی بربادی سے زندگی کو بچایا جا سکتا ہے۔ جہالت، بھوک، بیماری اور بیروزگاری جیسی لعنتوں کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔ روبوٹیک ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، آٹومیشن اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو انسانی ضروریات کے لیے استعمال سے وہ سب ممکن ہے جس کا آج سے پہلے تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔

مصنف ’عزم‘ میگزین کے مدیر ہیں۔