خبریں/تبصرے

گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے سے متعلق قرارداد کی صورت اسمبلی گھیراؤ کی دھمکی

راولاکوٹ (نامہ نگار) جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین سردار محمد صغیر خان ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کو پاکستان کا عبوری صوبہ بنانے کی قرارداد اگر پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں پیش کی گئی تو سخت مزاحمت کریں گے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ مہنگائی کا فوری خاتمہ کرنے کیلئے عوام کو سبسڈی فراہم کی جائے اور وزرا، ممبران اسمبلی، بیوروکریٹوں اور ججوں کی مراعات اور بھاری تنخواہوں پر کٹوتی لگاتے ہوئے عام عوام کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے، گندم پر سبسڈی بحال کی جائے اور بجلی کے بلات کے ذریعے حاصل کئے جانے والے غنڈہ ٹیکسوں کا فوری خاتمہ کرتے ہوئے اس خطے سے پیدا ہونے والی بجلی عوام کو انتہائی معمولی نرخوں پر فراہم کرنے کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کئے جائیں۔

وہ یہاں راولاکوٹ میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے، اس موقع پر ان کے ہمراہ جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیف آرگنائزر سردار محمد پرویز خان، زونل صدر سردار انصار احمد خان، سابق ضلعی صدر خالد محمود، نذر کلیم، شاہ ذیب خان، انوش بٹ کے علاوہ جے کے ایل ایف اور جے کے ایس ایل ایف کے کارکنان کی کثیر تعداد بھی موجود تھی۔

سردار محمد صغیر خان ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ عوام ان نام نہاد حکمرانوں کے خلاف صف آرا ہوں اوران کا گھیرا تنگ کرنے کی تیاری کریں۔ اگر جموں کشمیر کی تقسیم کو مستقل کرنے کی کوئی بھی کوشش کی گئی تو کشمیری عوام بھرپور مزاحمت کریں گے۔ ہماری اطلاعات ہیں کہ جموں کشمیر کو تقسیم کرنے کا عمل مرحلہ وائز جاری ہے۔ اگر اسمبلی کے موجودہ ممبران نے کسی ایسی قرار داد کو پاس کرنے کی کوشش کی جس سے تقسیم جموں کشمیر کو تقویت ملتی ہوتو ہم عوام کے ہمراہ نہ صرف اسمبلی کی طرف مارچ کریں گے بلکہ اسمبلی کا گھیراؤ کرنے سے بھی گریز نہیں کریں گے اور جموں کشمیر کے تشخص کیلئے جس حد تک بھی جانا پڑا جائیں گے، ہم اس قرار داد کے خلاف آخری دیوار ثابت ہوں گے۔ جموں کشمیر لبریشن فرنٹ اور مقبول بٹ کو ماننے والے اپنے آپ کو منظم کریں۔ اسمبلی سے ایسی کوئی بھی قرار داد پاس ہوئی تو نہ صرف اسمبلی ممبران بلکہ ان کی نسلیں بھی نتائج بھگتیں گی۔

انکا مزید کہنا تھا کہ ملک میں اس وقت ہوشربا مہنگائی عروج پر ہے، دیہاڑی دار طبقے کو دو وقت کی روٹی مہیا کرنا مشکل ہوگیا ہے۔ عوام اس استحصالی، ظالمانہ، جابرانہ، سرمایہ دارنہ نظام کے خلاف نکلیں۔ جب تک اس نظام کو تبدیل نہیں کیا جاتا اس عفریت سے جان چھڑوا نا مشکل ہے۔ عوام کو وقتی ریلیف مل جاتا ہے لیکن یہ دیرپا نہیں ہوتا۔ لوگ اس نظام کے خلاف نکلیں۔ نوکر شاہی کو دی جانے والی مراعات عام آدمی کے برابر کی جائیں، جموں کشمیر میں بسنے والے تمام لوگو ں کو یکساں سہولیات د ی جائیں۔

انکا کہنا تھا کہ پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کے مالیاتی اختیارات چیف سیکرٹری کو دینے کے بعد وزیر اعظم، وزرا، سیکرٹریوں اور ججوں کی کیا ضرورت رہ جاتی ہے۔ ان کٹھ پتلیوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے، جو لوگ اس نظام سے مستفید ہو رہے ہیں وہ اس نظام کے خلاف کبھی بھی نہیں نکلیں گے اور نہ ہی اس نظام کے خلاف جائیں گے۔ سکیل نمبر 17 سے سکیل نمبر 22 تک دی جانے والی تمام مراعات ختم کی جائیں اور ان کی مراعات ایک عام آدمی کے برابر کی جائیں۔

انکا کہنا تھا کہ سب سے زیادہ ٹیکس بالواسطہ طریقے سے حاصل کئے جا رہے ہیں۔ جس فرد کا کوئی ذریعہ معاش نہیں وہ بھی برابرٹیکس دیتا ہے۔ اس ٹیکس سے غریب عوام کو کوئی ریلیف نہیں دیا جاتا، سرمایہ داروں اور حکمرانوں سے انکی آمدن پر ٹیکس جمع کرنے کی بجائے کھانے پینے کی اشیا سے لیکر ضرورت کی ہر چھوٹی سے بڑی چیز پر بالواسطہ ٹیکس لگا کر لوگوں کو لوٹا جاتا ہے اور اس لوٹی ہوئی دولت پر حکمران اور نوکر شاہی عیاشیوں میں مصروف ہے، دوسری طرف غریب آدمی کے پاس دو وقت کی روٹی تک میسر نہیں ہے۔

انکا کہنا تھا کہ مہنگائی کے خلاف ایک منظم مہم شروع کرنے کی ضرورت ہے، ہمہ گیر تحریک کی ضرورت ہے، لوگ اپنے آپ کو اس جدوجہد کیلئے تیار کریں۔ گلگت بلتستان میں گندم فی کلو پر پچاس فیصد سبسڈی دی جاتی ہے لیکن یہاں کوئی سبسڈی نہیں دی جاتی، لوگوں کو اشیائے ضروریہ سبسڈائز ڈریٹ پر دی جائیں جو تمام لوگ یکساں استعمال کریں اور تمام لوگوں کیلئے دستیاب ہوں۔

سردار محمد صغیر خان نے مزید کہاکہ پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں تقریباً 4500 میگا واٹ بجلی پیدا ہوتی ہے، ضرورت محض 350 میگا واٹ ہے لیکن وہ بھی انہیں فراہم نہیں کی جاتی اور ستم ظریفی یہ کہ ڈیم بناتے وقت کہا گیا تھا کہ کشمیری عوام کو مفت بجلی فراہم کی جائے گی، مفت بجلی تو کیا فراہم کی جانی تھی، کشمیری عوام کو پاکستان سے بھی مہنگی بجلی فروخت کی جاتی ہے۔ بجلی کے بلو ں میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس، کرایہ میٹر، بینک چارجز، نیلم جہلم ٹیکس، فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ سمیت دیگر ٹیکسز بل سے زیادہ وصول کیے جاتے ہیں۔ حکمران طبقات عوام کو ذلیل کر کے اپنے مفادات حاصل کر رہے ہیں۔ عوام اس ظلم و جبر کے خلاف باہر نکلیں، اگر وہ اسی طرح ظلم سہتے رہے تو وہ کبھی بھی ان مظالم سے چھٹکار ہ حاصل نہیں کر سکیں گے۔ جموں کشمیر لبریشن فرنٹ ان مظالم کے خلاف عوام کے ساتھ سڑکوں پر نکلے گی اور ان نام نہاد حکمرانوں کا بھرپور محاسبہ کریں گے۔

ایک سوال کے جواب میں انکا کہنا تھا کہ مروجہ سیاسی جماعتیں مسلم لیگ اور پیپلزپارٹی و دیگر مہنگائی کے خلاف احتجاج کے نام پر ڈھونگ کر رہی ہیں، ان سے قبل بھی ایک کہتا تھا کہ جب مہنگائی ہوتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اوپر بیٹھا ہوا چور ہے، نظام میں کوئی مسئلہ نہیں ہے، اب وہ اوپر بیٹھا ہے اور مہنگائی 70 سالہ ریکارڈ توڑ چکی ہے۔ آئی ایم ایف کی شرائط مزید سخت ہیں، جس کا مطلب مزید مہنگائی میں اضافہ ہوا گا۔ یہ تمام پارٹیاں حکمران طبقات کی نمائندہ، نظام سرمایہ کی نمائندہ ہیں اور یہ صرف اور صرف اس نظام کو بچانے کی کوشش کر رہی ہیں، حقیقت میں یہی نظام وہ بنیادی جڑ ہے جس کی وجہ سے مہنگائی اور ذلتیں عوام کا مقدر بن چکی ہیں۔ ان پارٹیوں پر تکیہ کرنے کا وقت اب گزر چکا ہے، اب عوام اور محنت کشوں کو طاقت اپنے ہاتھ میں لینا ہوگی اور اس نظام کو بدلنے کا راستہ اپنانا ہو گا۔