تاریخ

امید و نشاط کا شاعر…ساحر لدھیانوی

پروفیسر علی احمد فاطمی

معروف محقق اور نقاد پروفیسر علی احمد فاطمی کا یہ تنقیدی جائزہ ساحر لدھیانوی کے سو سالہ جشن پیدائش کے سلسلے میں شائع کیا جا رہا ہے جس کے لئے ہم ان کے انتہائی مشکور ہیں۔

ترقی پسند شاعری اور ساحر لدھیانوی دونوں اکثر غلط فہمیوں کا شکار رہے ہیں۔ ترقی پسند شاعری کے بارے میں عام طور پر اور مخالف ذہن نے خاص طور پر بار بار کہا کہ ترقی پسند شاعری، نعرہ بازی کی شاعری ہے۔ اس میں خطابت، خارجیت اور مقصدیت کا غلبہ ہے۔ اسی نوع کے اعتراضات اور الزامات اور بھی ہیں، جن کا کچھ تو وقت نے جواب دے دیا ہے اور کچھ آنے والا وقت دے گا۔ سچ تو یہ ہے کہ ترقی پسند شاعری کامرکز و محور محبت ہے اس لیے کہ زندگی کا مرکز و محور محبت ہی ہے۔ احمد ندیم قاسمی نے ساحر پر ہی مضمون لکھتے وقت بہت اچھی بات کہی ہے:

”دنیا کی ہر زبان کے ادبِ عالیہ کا موضوع عموماً محبت رہاہے۔ اگر غور سے دیکھا جائے تو صرف ادب ہی نہیں بلکہ ہماری زندگی کا نظام کسی نہ کسی محبت کا مرہون منت ہے…ابتدائے محبت کی مدہوش کن رنگینیاں ہر سچے شاعر کے کلام میں موجود ہوتی ہیں۔“

اب یہ الگ بات ہے کہ محبت کے انیک روپ ہوتے ہیں اور عقیدت کے بھی__میر کی مثنوی ’شعلہئ عشق‘ سے لے کر اقبالؔ کی نظم ’ذوق و شوق‘ کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ ولی دکنی نے اس سے بھی پہلے کہا تھا:

شغل بہتر ہے عشق بازی کا
وہ حقیقی ہو یا مجازی کا

ترقی پسند شاعروں نے اسی محبت کو اپنے زمانے کے تقاضوں اور ضرورتوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے اپنے بزرگوں سے قدرے الگ ایک نیا تصور اور راستہ بنانے کی کوشش کی۔ انہوں نے کبھی یہ نہیں کہا کہ یہ راستہ محض ان کااپنا ہے، وہ ایسا کہہ بھی نہیں سکتے تھے اس لیے کہ اگر ایک طرف ان پر سماجی اور تاریخی دباؤ تھا تو دوسری طرف کلاسکیت کار چاؤ اور مغربی ادب سے لگاؤ بھی تھا۔ انہوں نے اگر ایک طرف حاظؔ، سعدیؔ، کبیرؔ، نظیرؔ، غالبؔ اور اقبالؔ وغیرہ کا مطالعہ کیا تھا تو دوسری طرف انگریزی کی رومانی شاعری اور دیگر انقلابات پر بھی ان کی گہری نظر تھی۔ انہیں رومان اور انقلاب کے باطنی رشتوں کا علم تھا کہ انگریزی کی رومانی شاعری انقلابِ فرانس کی مرہونِ منت ہے کہ فرانس کے انقلاب کے خون خرابے اور انسان کی توہین و تذلیل نے ہی رومانی شعرا میں نئے انسان اور انسانی معاشرہ کو دیکھنے کا خیال اور خواب پیدا کیا جس میں فطرت کے ساتھ تصورِ فتح اور آزادی بھی شامل ہے بلکہ فطرت بھی انسان کی آزادی اور خوشحالی کی علامت بن کر آئی ہے۔ اقبالؔ نے فلسفہ اسلامی، ہندی اور مغربی کو شیر و شکر کر کے جس طرح دنیا کو عشق و عمل کے حوالے سے حریت و انسانیت کا پیغام دیا وہ صرف مسلمانوں تک محدود نہ تھا بلکہ اس کا تعلق عالم انسانیت سے تھا۔ اختر شیرانی، حسرت موہانی، جوش وغیرہ نے محبت اور عورت کا جیتا جاگتا تصور پیش کیا۔ وہ بھی ترقی پسند شاعروں کے سامنے تھا۔ یہ پورا پس منظر خواہ مقامی ہو یا عالمی، ان سب کو محبت سے الگ کر کے دیکھا نہیں جا سکتا۔ یہ الگ بات ہے کہ محبت کا دائرہ محبوب سے نکل کرانسانیت، سماج اور وطن کو اپنی پناہ میں لے لیتاہے اور پھر ایک وقت ایسا بھی آیا جب ترقی پسند شاعری کو یہ تک کہنا پڑا:

دنیا نے تیری یاد سے بیگانہ کر دیا
تجھ سے بھی دلفریب ہیں غم روزگار کے
(فیضؔ)

ترے ماتھے پہ یہ آنچل بہت ہی خوب ہے لیکن
تو اس آنچل سے ایک پرچم بنا لیتی تو اچھا تھا
(مجازؔ)

تبسم نہیں صرف تلوار بھی ہے
وہ نغمہ نہیں صرف جھنکار بھی ہے
(سردارؔجعفری)

ابھی نہ چھیڑ محبت کے گیت اے مطرب
ابھی حیات کا ماحول خوشگوار نہیں
(ساحرؔ)

ملاحظہ کیجئے موضوعات تقریباً ایک سے ہیں لیکن سب کاانداز اور اسلوب جداگانہ ہے۔ اسی موقع پر سردار جعفری کے یہ جملے بھی پیش کروں تو غلط نہ ہو گا:

”ترقی پسند شاعروں کا محور ارمان اور احتجاج ہے۔ فیض کے یہاں محبوبہ کا وہ تصور نہیں ہے جو ساحرؔ کے یہاں ہے۔ مخدوم و مجاز کی شاعری کا محور بھی رومان اور احتجاج رہا ہے مگر ان چاروں ہم عصر شعرا کے مزاج الگ الگ ہیں۔ مجاز کے یہاں سر فروشانہ سرشاری ہے۔ فیض کے یہاں معشوق نواز حسن پرستی اور ساحر کے یہاں عاشقانہ انانیت“۔

اسی انانیت کی جھلک غالبؔ کے یہاں ملتی ہے
وفا کیسی کہاں کا عشق جب سر پھوڑنا ٹھہرا
تو پھر اے سنگدل تیرا ہی سنگ آستاں کیوں ہو

دیکھئے بات پھر غالب تک پہنچ گئی۔ بات خواہ زنجیر و سلاسل کی ہو، حکایاتِ خوں چکاں کی یا ہاتھ قلم ہونے کی، پہلی بار ترقی پسندوں نے نہیں کی، یہ روایت بہت قدیم ہے۔ امیرؔ مینائی نے بہت پہلے کہا تھا:

خنجر کہیں چلے پہ تڑپتے ہیں ہم امیرؔ
سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے

اردو شاعری میں انسان دوستی کی روایت بہت قدیم ہے۔ تصوف کے حوالے سے زیادہ۔ ترقی پسند شاعروں نے صوفی ازم سے مارکس ازم کا سفر طے کیا اور اپنے نئے جلال و جمال اور کیف والم کے ساتھ منصوبہ بند طریقے سے ایک محاذ کی شکل میں پیش کیا۔ اب اعتراض تو اس بات پر بھی ہوسکتا ہے کہ ادب میں منصوبہ بندی اورمحاذ آرائی کا کوئی دخل نہیں ___ہو سکتا ہے یہ سچ ہو، لیکن زندگی کا کوئی کام نظم و ضبط کے بغیر نہیں ہوتا اور جہاں ہوتا ہے وہاں انتشار ہوتاہے، اتحاد نہیں۔

ساحرؔ کے سامنے ایک مشکل یہ تھی کہ وہ بیشتر ترقی پسند شاعروں جن کی شہرت و مقبولیت کا سورج چمک رہا تھا ان سے چھوٹے اور جونیئر تھے۔ جب محاذؔ کی ’آہنگ‘ شائع ہوئی تو وہ انٹرمیڈیٹ کے طالب علم تھے۔ اقبالؔ اور جوشؔ مشرقی افق پر چھائے ہوئے تھے جن سے ہر ترقی پسند شاعر متاثر ہی نہیں مرعوب بھی ہورہا تھا۔ غزل میں حسرتؔ، فراقؔ، فانیؔ، اصغرؔ، جگرؔ کا جادو چل رہاتھا۔ ایسے میں کسی نوجوان اورجونیئر شاعر کا اپنی راہ تلاش کرنا اور اپنی منفردپہچان بنانا کس قدر مشکل کام تھا۔ ساحرؔ بچپن کا جوماحول اورزندگی گزار کر آئے تھے اس نے ان کو روکھا پھیکا اور چڑچڑا بنادیا تھا اور مستقبل کے جو راستے تھے وہ اس قدر بنجر اور خاردار تھے کہ ان سے نغمگی اور دلکشی کا دور دور تک تعلق نہ تھا۔ شاعری اور فنکاری کے معاملات بڑے عجیب و غریب ہواکرتے ہیں۔ وہ اکثر ناہموار ماحول میں نمو پاتی ہے۔ یہ ایک نفسیاتی مسئلہ ہے۔ فرائڈ نے کہا تھا کہ انسانیت کی مایوسیاں اور محرومیاں یا خود کشی کی طرف لے جاتی ہیں یا پھر ایک نئے جہان کا خواب دیکھتی ہیں اور تخلیق و تعمیر کی ایسی دنیا آباد کرتی ہیں جو اس کے لیے مثالی ہو۔ اس لیے زندگی میں اور شاعری میں بھی خواب دیکھنا ضروری ہے۔ ساحرؔ نے بھی خواب دیکھا۔ ملاحظہ کیجئے ان کے ایک شعری مجموعہ کانام ”آؤکہ کوئی خواب بنیں“___

وہ خواب بننے کی راہ پر چل پڑے۔ ٹھوکریں کھائیں، لہو لہان ہوئے، بے روزگار رہے، بھوکے بھی رہے لیکن یہی سب تکلیفیں اور اذیتیں شاعری کے لیے نعمتیں ثابت ہوئیں۔ انہوں نے کہا:

دنیا نے تجربات و حوادث کی شکل میں
جوکچھ مجھے دیاہے وہ لوٹا رہا ہوں میں

ساحرؔ نے تکلیفوں بھرا سفرطے کیا۔ کہیں سمجھوتا نہیں کیا، چنانچہ طالب علم کے زمانے کی مزاحمتی شاعری، نوجوانی کے زمانے کی رومانی شاعری، پختہ عمر کی فکری شاعری اور فلمی گیتوں کے ذریعے دنیائے ادب اور فلم میں بے پناہ مقبول ہوئے۔ مشاعروں کا تو یہ عالم تھا بقول فراقؔ ”آج بھی مشاعرے کے ٹکٹ ساحرؔ کے نام پر بکتے ہیں۔“ ان کے شعری مجموعہ ”تلخیاں“ کے جتنے اڈیشن شائع ہوئے اس کا اپنا ایک ریکارڈ ہے۔ ایسی غیر معمولی شہرت و مقبولیت تو اپنے آپ بہت سے سوال کھڑے کردیتی ہے۔ کچھ الزامات بھی، مثلاً ”ساحر محض نوجوانوں کے شاعرہیں“، ”ساحرؔ فلموں کا شاعر ہے“، ساحرؔ عوامی شاعر ہے۔“ وغیرہ۔

ایسے الزامات اکثر مخالف سمت سے زیادہ آئے جو عوامی اور رومانی شاعری کادھندلا سا بھی تصور نہ رکھتے تھے۔ ”روشنائی“ میں سجاد ظہیر نے لکھا ہے کہ کلکتہ میں وامقؔ کے ایک گیت ”بھوکا ہے بنگال“ کے ذریعہ لاکھوں روپے آئے، یہی حال ساحرؔ کے نغموں کا تھا۔ ان کی نظم ’چکلے‘، ’تاج محل‘، ’تخلیاں‘ وغیرہ کو غیرمعمولی مقبولیت ملی، لیکن زندگی اور عوام سے دور کتابی نوعیت کے نقاد و دانشور اس مقبولیت کو عارضی اورمعمولی گردانتے ہیں اوراسے ادب و تنقید کی نگاہ سے کمتر دیکھتے ہیں۔ اردو کی معیار پرست تہذیب و تنقید کے مسائل عجیب و غریب ہیں۔ یہاں کوئی لمبی اور غیر ضروری بحث چھیڑنا مقصد نہیں لیکن اتنا ضرور عرض کروں گا کہ ہندوستان میں شاعری کی روایت کتابوں تک محدود نہیں ہے۔ نظیر، کبیر، مگسی وغیرہ کتابوں میں کہ عوام کے دلوں میں زیادہ دھڑکتے ہیں۔ غالب صرف اس لیے کلاسک نہیں ہوئے کہ وہ مشکل شاعرہیں بلکہ اس لیے بھی کہ ان کے مصرعے آج بھی زبان زدِ خاص و عام ہیں۔ خسروؔ سے لے کر ساحرؔ وغیرہ تک اردو کے لاکھوں کروڑوں شائقین اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ کلاسیکی اورتاریخی حیثیت اسے ہی نصیب ہوتی ہے جو خواص اور عوام میں یکساں مقبول ہو۔

ساحرؔ کی مقبولیت کی وجہ نہ نوجوانی کا رومان تھا اور نہ فلم کی عوامی شہرت بلکہ وہ بامقصد شاعری ہے جو شروع تو ہوتی ہے رومان سے لیکن ختم ہوتی ہے انسان پر۔ انسان کے احساس و اضطراب پر۔ مزاحمت اور احتجاج پر۔ سردار جعفری نے ایک اور دلچسپ بات لکھی ہے:

عشق میں بھی وہ محبوب زیادہ رہاہے اور عاشق کم۔ اس کی اپنی ذات اوراپنی شاعری اس کا سب سے محبوب موضوع سخن تھا۔ یہ چیز اس کی فطرتِ ثانیہ بن چکی تھی جس کو فلمی کامیابی نے اور چمکایا۔ یہیں سے ساحرؔکی شاعری میں واسوخت کے اندازِ سخن کا سراغ ملتا ہے جس کو اس نے ایک ترقی پسندانہ زاویہ عطا کردیا۔ ساحرؔ نے اس میں ایک طبقاتی پہلو شامل کردیا اورش اعر کی امیر معشوقہ کو غریب شاعر کے طنز کا شکار بننا پڑا۔ اس کی شاہکار نظم ’تاج محل‘ ہے۔ اس نظم کا سارا نچوڑ آخری شعر میں ہے:

اک شہنشاہ نے دولت کا سہارا لے کر
ہم غریبوں کی محبت کاا ڑایا ہے مذاق

ساحرؔ نے ترقی پسندوں کو اشتراکیت سے زیادہ رومانیت کے قریب کیا۔ اسے نئے مفاہیم دئیے اورنئے اسالیب بھی جو ساحرؔ کی اپنی غیرمعمولی خلاقیت اور انفرادیت کی پہچان بنتے ہیں جن پر فیضؔ، مجاز وغیرہ کے اثرات دیکھے جاسکتے ہیں جس کے جواز میں ساحرؔ خود کہتے ہیں ___”سرقہ اوراثرات میں فر ق ہے۔ سوفیصدی اور اوریجنل کوئی نہیں ہوتا___“ لیکن بعض معنوں میں ساحر اوریجنل تھے۔ اس کا اپنا لہجہ اوراس کا اپنا درد، اس کی پیاس، اسکی محرومی جو نشاط میں بدل گئی اور عشق کا روپ لے کر کلیوں کے تبسم میں رچ بس گئی، جس کی خوشبو، نزاکت، لطافت اور جہت کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔

اب میں ان کی نظموں کے بجائے چند اشعار پیش کرناچاہتا ہوں ہلکے پھلکے، سادہ سے، لیکن اس کی معنویت ملاحظہ کیجئے جو ایک سنجیدہ بالیدہ ساحرؔ کا تعارف کراتے ہیں:

زیست احساس بھی ہے، شوق بھی ہے، درد بھی ہے
صرف انفاس کی ترتیب کا افسانہ نہیں
سرمگیں آنکھوں میں یوں حسرتیں لو دیتی ہیں
جیسے ویران مزاروں پہ دیے جلتے ہیں
احساس بڑھ رہا ہے حقوقِ حیات کا
پیدائش حقوقِ ستم پروری کی خیر
اک راستہ ہے زندگی جو تھم گئے توکچھ نہیں
یہ قدم کسی مقام پہ جو جسم گئے تو کچھ نہیں
اب اے دلِ تباہ ترا کیا خیال ہے
ہم تو چلے تھے کاکلِ گیتی سنوارنے

ان اشعار میں عشق کی معصومیت، زندگی کی حرارت اور اس حرارت میں پوشیدہ زندگی کی پیچیدہ حقیقت زیادہ نظر آتی ہے۔ یہی تھی نئی رومانیت جسکا تعلق زمین سے تھا، انسان سے تھا___اس نئی رومانیت میں ایک مخفی حقیقت بھی تھی جو بڑے سلیقہ سے رومانی حقیقت بن کر پوری ترقی پسند شاعری میں سما گئی تھی۔ ساحرؔ نے چند ایسے نئے اور چونکا دینے والے مصرعے کہے تھے جو ساحرؔ کے اپنے تھے جو زندگی کی بھٹی سے تپ کر نکلے تھے:

”چلو اک بارپھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں“
”محبت ترک کی میں نے، گریباں سی لیا میں نے“

صرف جذبات ہیں جذبات میں کیارکھا ہے
ایسے نادان خیالات میں کیا رکھا ہے

ایسے مصرعوں میں روایتی عشقیہ شاعری کا جو ہجر و وصال کا پامال تصور ہے، بالکل نہیں ملے گا اس لیے کہ یہ اشعار محض روا ئتی رومان کے بطن سے نہیں نکلے ہیں بلکہ اُس عہد کی نئی رومانیت (Neo Romanticism) جس میں حقیقت، مزاحمت اور انقلابیت بھی تھی۔ اس نے پوری ترقی پسند شاعری کو ایک نئی رومانیت اورجمالیات سے آشنا کیا اور جب تک اس نئی جمالیات کی زمینی حقیقت کو نہ سمجھا جائے گا، ساحرؔ کیا پوری ترقی پسندشاعری کی مکمل تفہیم ممکن نہیں۔ اس میں فیضؔ کے مصرعہ ”مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ“ یا ”تجھ سے بھی دلفریب ہیں غم روزگار کے“ والی کیفیت تو ہے لیکن ساحرؔ کے یہاں صرف روزگار نہیں بلکہ حالات کی ستم ظریفی بھی ہے، اس میں ایک تلملاہٹ اور چھٹ پٹاہٹ بھی ہے جو مجازؔ کے اس مصرعہ سے جوڑتی ہے۔ ”اے غم دل کیا کروں، اے وحشت دل کیاکروں“ ساحرؔ اور آگے بڑھ کر یہ کہتے ہیں:

بھوک اورپیاس سے پژمردہ سیہ نام زمیں
تیرہ و تار مکاں مفلس و بیمار مکیں
نوعِ انساں میں یہ سرمایہ و محنت کا تضاد
امن و تہذیب کے پرچم تلے قوموں کا فساد
ہر طرف آتش و آہن کا یہ سیلاب عظیم
نت نئے طرز پہ ہوتی ہوئی دنیا تقسیم
لہلہاتے ہوئے کھیتوں پہ جوانی کا سماں
اور دہقان کے چھپر میں نہ بتی نہ دھواں
یہ سبھی کیوں ہے یہ کیا ہے؟ مجھے کچھ سوچنے دو
کون انساں کا خدا ہے؟ مجھے کچھ سوچنے دو
(مجھے سوچنے دو)

دیکھئے سوال یہاں بھی ہے اور مجازؔ کے کیا کروں کے آگے کا سوال بھی ہے، جمال وجلال بھی____جس میں سبک ارمان کا دور دور تک تعلق نہیں ___کیا یہ اشعار محض نوجوانوں کے لیے ہیں یا دکھی زخم خوردہ انسانوں کے لیے ہیں۔ ساحرؔ کی نظمیں چکلے جیسی بھی ہیں اورتاج محل جیسی بھی جس میں مزاحمتی رنگ ہے۔ کچھ عشقیہ ہیں ظاہر ہے کہ اس میں نرمی ہے سرگوشی ہے لیکن اب میں ان کے چند اشعار اورپیش کرتا ہوں جس میں کئی رنگ شیروشکر ہوگئے ہیں اورجہاں جہاں یہ بامعنی تخلیقی وجدان کا حصہ بن گئے ہیں اس میں ایک سنجیدگی، بالیدگی اور کہیں کہیں فلسفہ طرازی بھی آگئی ہے۔ اس رنگ کے چند اشعار دیکھئے:

انساں الٹ رہاہے رُخِ زیست سے نقاب
مذہب کے اہتمام فسوں پروری کی خیر
ہر ایک ہاتھ میں لے کر ہزار آئینے
حیات بند دریچوں سے بھی گذر آئی
ہر شے قریب آکے کشش اپنی کھوگئی
وہ بھی علاجِ شوقِ گریزاں نہ کر سکے

آپ غور کیجئے جس شخص و شاعر نے بچپن سے ہی اپنے خاندان، عیش و عشرت، زمیندارانہ تزک و احتشام ترک کر کے طالب علمی کے زمانے سے ہی احساس و اضطراب سے دوچار ہوا ہو اور اسی عالم نوجوانی میں محبوبہ کے بجائے عام انسانوں سے کہہ رہا ہو ”میرے گیت تمہارے ہیں“ اور آگے بڑھ کر ’چکلے‘ اور ’تاج محل‘ جیسے طنزیہ نظمیں اور ’پرچھائیاں‘ جیسی غیر معمولی طویل نظم خلق کررہا ہو اور قدم قدم پر الم و آزار کے باوجود کہہ رہا ہو:

زمیں حسین ہے خوابوں کی سر زمیں کی طرح
تصورات کی پرچھائیاں ابھرتی ہیں

جس نے پوری زندگی جدوجہد کے ساتھ گذاری ہو۔ عام انسانوں کے درد و کرب سے جوڑا ہو، اسے کس طرح محض نوجوانوں کا شاعر کہا جا سکتا ہے۔ دراصل یہ نئی رومانیت کا مسئلہ تھا جہاں ’تلخیاں‘ اور ’پرچھائیاں‘ باہم مدغم ہو گئیں اور پریشانیاں نشاط کی کلیاں بن گئیں۔ ترقی پسند شاعریوں بھی امید و نشاط کا شاعر ہوتاہے اور ساحرؔ بھی ہیں، اس لیے ان تہہ دارویں اور رومانیت کے ان نئے زاویوں کو سمجھے بغیر ایک ساحرؔ کیا پوری ترقی پسند شاعری کو سمجھنا مشکل ہو گا۔ کیفی اعظمی کے ان جملوں پر گفتگو تمام کرتا ہوں:

”ساحرؔ کی فکر اورفن کا مخصوص انداز ہے۔ وہ چھوٹے چھوٹے تجربات کو اس ڈھنگ سے ترتیب دیتے ہیں کہ زندگی کے مختلف روپ، مختلف تقاضے اور مختلف محرکات واضح ہو جاتے ہیں۔ محبت ان کے پاس ایک معیار ہے جس پر وہ موجود سماج، اس کے اخلاق و آداب، اس کے دستور و قوانین کو پرکھتے ہیں اور ان کو کھوکھلا پن ثابت کرتے ہیں۔“

اور آگے لکھتے ہیں:

ساحرؔ نے اپنی شخصیت کا سارا گداز شاعری میں بھر دیا ہے اور شاعری کی ساری جادوئیت اپنے خط و خال میں جذب کر لی ہے۔ آئینہ سے آئینہ گر کا ابھرنا لطیفہ سہی لیکن ’تلخیاں‘ کا مطالعہ کیجئے تو اس کے مصنف کی روح بولتی دکھائی دے گی۔ مصنف سے باتیں کیجئے تو معلوم ہوگا کہ آپ اس کی نظمیں پڑھ رہے ہیں۔

علی احمد فاطمی اردو ادب میں صف اؤل کے تنقید نگار اور محقق ہیں۔ ترقی پسند مصنف کی حیثیت سے انہوں نے اردو ادیبوں اور شعرا پر تحقیق کے نئے باب رقم کئے ہیں۔ علمی و ادبی مضامین، تنقید اور سفر ناموں پر درجنوں تصنیفات کے خالق ہیں۔ اس کے علاوہ کئی اردو جریدوں کی ادارت کی جن میں جوش ملیح آبادی کے فن پر ”جوش بانی“ جیسے معیاری رسالے کی ادارت بھی شامل ہے۔ الٰہ باد یونیورسٹی میں شعبہ اردو کے صدر اور پروفیسر رہے اور ریٹائرمنٹ کے بعد بھی تصنیفات کا سلسلہ جاری ہے۔