خبریں/تبصرے

نجی تعلیمی اداروں میں فسطائیت کے تسلط کی ریاستی پالیسی

حارث قدیر

پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر میں جماعت اسلامی نے ریڈ فاؤنڈیشن نامی این جی او کے نام پر نجی تعلیمی اداروں کا جال بچھا رکھا ہے، اس کے علاوہ بھی جماعت کے کارکنوں و ذمہ داران کی ایک بڑی تعداد بھی نجی تعلیمی اداروں کے مالکان میں شامل ہے۔

ان نجی تعلیمی اداروں میں انقلابی نظریات کی بنیاد پر حقیقی آزادی اور انقلاب کی بات کرنے والی تنظیموں کی سیاسی سرگرمیوں پر مکمل پابندی عائد ہے۔ اگر کچھ طلبہ انتظامیہ سے چھپ کر کسی طلبہ تنظیم میں شمولیت اختیار کر لیں یا کسی تنظیم کی کسی نجی تعلیمی ادارہ میں بنیاد رکھ لیں تو انہیں سختی سے روکا جاتا ہے۔ انکے والدین کو ادارہ میں طلب کر کے اپنے بچوں کو سیاسی سرگرمیوں سے روکنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

ہجیرہ کے کچھ تعلیمی اداروں میں گزشتہ چند ماہ کے دوران یہ روایت کافی مرتبہ دہرائی گئی ہے، یہاں تک کہ تعلیمی اداروں کے مالکان نے والدین کو ادارہ میں طلب کر کے یہ پروپیگنڈہ کیا گیا کہ آپ کے بچے دہریت پھیلانے والوں کے ہتھے چڑھ گئے ہیں، انہیں اس عمل سے روکیں ورنہ تعلیمی ادارے سے لے جائیں۔

سرکاری تعلیمی اداروں بالخصوص کالجوں اور جامعات میں بھی جماعت کے لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو اسی طرح سے انجیکٹ کیا گیا ہے تاکہ سرکاری اداروں میں بھی انقلابی سیاست کا راستہ روکا جائے۔ اسی وجہ سے سرکاری کالجوں کو بھی ہر طرح کی سیاسی سرگرمیوں سے پاک کر دیا گیا ہے۔ والدین کو سمجھایا جاتا ہے کہ سیاست ایک گندہ کام ہے جس سے طلبہ کی پڑھائی خراب ہوتی ہے۔

تاہم والدین کو نہ تو یہ بتایا جاتا ہے کہ جمعیت میں جانے سے مستقبل برباد ہونے سمیت سیاسی و سماجی طور پر بانجھ اور ایک فسطائی کردار تعمیر ہوتا ہے، اور نہ ہی والدین نے کبھی پوچھنا گوارہ کیا کہ اگر سیاست اتنا غلط کام ہے تو جمعیت کے پروگرامات و جلسوں میں تمام نجی تعلیمی اداروں کے مالکان اور اساتذہ کی ایما پر زبردستی ان کی اولادوں کو چھٹی دیکر کیوں لایا جاتا ہے۔

سیاست سے طلبہ کو دور کرنے کا مطلب انہیں اپنے حقوق و فرائض ایکسرسائز کرنے کے بنیادی انسانی حق سے روکنا ہے، اگر طلبہ سیاست بری چیز ہوتی تو عالمی طور پر مسلمہ بنیادی انسانی حقوق میں شامل نہ کی جاتی۔

طلبہ سیاست پر پابندی عائد کر کے تعلیمی اداروں میں جمعیت کی فسطائیت کو مسلط کرنے کا یہ سلسلہ ضیا الحق نے شروع کیا تھا، جسے آج بھی ریاستی پالیسی کے طور پر اپنایا جا رہا ہے۔ تاہم جبر کے ذریعے طلبہ کو باندھ کر صرف جلسوں میں ہی لایا جا سکتا ہے، انہیں صفوں میں سمویا نہیں جا سکتا، اسی لئے تعلیمی اداروں میں ہر طرح کی بدمعاشی کے باوجود جمعیت کبھی بھی طاقتور نہیں بن سکی، نہ ہی واضح فرق ڈالنے والی افرادی قوت حاصل کر پائی ہے۔

طلبہ کو اپنے بنیادی حق کے حصول اور اپنے تعلیمی، سیاسی و سماجی فیصلے کرنے کا اختیار حاصل کرنے کیلئے خود ہی میدان عمل میں آنا ہو گا۔

حارث قدیر کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے راولا کوٹ سے ہے۔  وہ لمبے عرصے سے صحافت سے وابستہ ہیں اور مسئلہ کشمیر سے جڑے حالات و واقعات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔