پاکستان

دہشت گرد معاف ہو سکتے ہیں، امن عالم کی بات کرنیوالا علی وزیر نہیں!

سبحان عبدالمالک

گزشتہ 20 سال سے نام نہاد دہشتگردی مخالف جنگ میں امریکی سامراج کے اتحادی کے طور پر شریک پاکستانی ریاست کے پالیسی ساز ادارے آج انتہائی بے شرمی سے افغانستان میں امریکہ کی شکست کو اپنی فتح قرار دے ہیں۔ میڈیا کے ذریعے ان درندوں کو مہذب ہیرو بنا کر پیش کیا جا رہا ہے، جو انسانی تہذیب کی ہر مثبت قدر کو مٹا دینا چاہتے ہیں، جنہوں نے افغانستان کو کھنڈر بنا دیا ہے۔ مذہب کا لبادہ اوڑھے جنگی سرداروں نے افغانستان کے محنت کشوں، طلبہ، خواتین، مذہبی اور نسلی اقلیتوں کو بندوق کے زور یرغمال بنایا ہوا ہے۔ بات محض افغانستان میں محنت کشوں اور نوجوانوں کے خلاف انسان دشمن قوتوں کی حمایت تک محدود نہیں ہے بلکہ پاکستان کا پسماندہ اور رجعتی حکمران طبقہ پاکستان میں بھی ایسی ہی وحشت کو محنت کشوں اور نوجوانوں پر مسلط کرنا چاہتا ہے۔ جس کی واضح مثال تحریک لبیک پر سے پابندی کا خاتمہ اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان کیساتھ مذاکرات ہیں۔

ایسی وحشی قوتوں سے مذاکرات کیے جا رہے ہیں جن کے ہاتھ ہزاروں نہتے مظلوموں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ آرمی پبلک سکول کے 150 معصوم بچوں و اساتذہ کے قتل سمیت سیکڑوں بم دھماکوں کی ذمہ داری قبول کرنے والا احسان اللہ احسان سب سے طاقتور ادارے کی حراست میں سے فرار ہو جاتا ہے کسی کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ پاکستانی طالبان سے مذاکرات تو کیے جا سکتے ہیں جنہوں نے فوج اور پولیس کے سپاہیوں کے سروں سے فٹ بال کھیلا ہے، جنہوں نے خود کش بموں کے ذریعے ہزاروں بے گناہ انسانوں کی جان لی ہے۔ تاہم عوامی ووٹ سے منتخب ممبر قومی اسمبلی علی وزیر کو رہا نہیں کیا جا سکتا کیوں کہ وہ ان قاتلوں اور ان کے سرپرستوں سے اس خون کی ہولی کو روکنے کا کہہ رہا ہے۔ وہ امن کی بات کرتا ہے اس لیے سامراج کی گماشتہ ریاست کے حکمرانوں کے لیے خطرناک انسان ہے، کیونکہ ہتھیار، منشیات، جنگ اور دہشتگردی ان کا کاروبار ہے۔ یہ حکمران طبقہ دہشتگردوں کو تو معاف کر سکتا ہے لیکن اس فرد کو ہرگز نہیں معاف کر سکتا جو محکوم طبقے کی نمائندگی کرتا ہو، جو ان کے دکھ درد اور ان کے مسائل کو بیان کرتا ہو۔

حکمران طبقے کو ایسی تحریکوں اور نظریات سے کوئی خطرہ نہیں ہے جو نظام کی حدود تک محدود ہوں۔ لبرل ازم اور مذہبی بنیاد پرستی میں بظاہر بہت بڑا تضاد نظر آتا ہے لیکن حقیقت میں دونوں ہی اس نظام کی حدود تک محدود ہیں، دونوں ہی نجی ملکیت اور اس نظام کو تحفظ فراہم کرتی ہیں۔ فرق صرف یہ ہے لبرل ازم حکمران طبقے کا معمول کے حالات کا نظریہ ہے اور فاشزم غیر معمولی بحرانی صورتحال میں حکمرانوں کا ہتھیار ہے جس کے ذریعے محنت کشوں کی تحریکوں کو کچلا جاتا ہے اور سماج کو پیچھے کی طرف دھکیلنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ پاکستانی ریاست کا معاشی اور سیاسی بحران جس قدر بڑھ چکا ہے، اب پرانے طریقے سے حکمرانی کرنا ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔ آئی ایم ایف کی ایما پر محنت کشوں پر مسلسل معاشی حملے کئے جا رہے ہیں۔ ان حملوں کے خلاف ردعمل سے خوفزدہ حکمران طبقہ رجعت کو سماج پر مسلط کر کے محنت کشوں کے شعور کو مسخ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ہر اس آواز کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے جو ان کی عوام دشمن پالیسوں کے خلاف اٹھتی ہے۔

ممبر قومی اسمبلی علی وزیر اور دیگر ترقی پسند سیاسی کارکنوں کو اس لیے پاپند سلاسل رکھا گیا ہے کیوں کہ انہوں نے حکمران طبقے کی عوام دشمن پالیسوں اور اس خونی کھیل کے خلاف آواز بلند کی ہے، جو کھیل پاکستانی حکمران طبقے نے امریکی سامراج اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ مل کر گزشتہ چار دہائیوں سے اس خطے میں شروع کر رکھا ہے۔ افغان ثور انقلاب کی خلاف امریکہ سے ڈالر لے کر معصوم نوجوانوں کو انتہا پسندی اور دہشتگردی کی تربیت دینا اور پھر امریکہ ہی کہ کہنے پر انہی دہشتگردوں کے خلاف فوجی کاروائی میں لاکھوں پشتونوں کو بے گھر، اپاہج، ہلاک اور لاپتہ کرنا اور آج پھر چین کے افغانسان میں مفادات کی خاطر ان دہشتگردوں کو معصوم قرار دینا یہ پاکستانی حکمران طبقے کا وہ منافقانہ اور ظالمانہ کردار ہے جس پر وہ کوئی بات نہیں سننا چاہتا ہے۔

علی وزیر کو گرفتار ہوئے ایک سال سے ہونے کو ہے جوطبقاتی نظام میں قانون اور عدل و انصاف کی غیر جانب داری کا دعویٰ کرنے والے اندھوں کے منہ پر زور دار طمانچہ ہے۔ سرمایہ دارنہ ریاست اور اس کے قوانین کا مقصد کروڑوں محنت کشوں اور مظلوموں پر مٹھی بھر سرمایہ داروں کی حاکمیت کو قائم رکھنا ہوتا ہے۔ ریاست حکمران طبقے کے ہاتھ میں محنت کشوں اور مظلوموں کی بغاوت کو کچلنے کے لیے جبر کے آلہ ہے۔

سرمایہ دارانہ جمہوریت سرمائے کی آمریت ہے جس میں محنت کشوں کے پاس محض حکمران طبقے کے کسی ایک دھڑے کو ووٹ دینے کا حق ہوتا ہے۔ انتخابات لڑنے کے لیے واحد اہلیت جو درکار ہے، وہ دولت ہے یا کسی دولت مند فرد یا طاقت ور ادارے کی سرپرستی ہے۔ انتخابات جیتنے کے لیے حکمران طبقے کے مقرر کردہ اس معیار پر محنت کش طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد کا پورا اترنا تقریباً نا ممکن ہے۔ اگر محکوم طبقے کی تحریک کے نتیجے میں عوامی حمایت کی بنیاد پر محنت کشوں کے نمائندے پارلیمنٹ میں جاتے ہیں تو حکمران طبقہ ان انقلابی نمائندوں کو برداشت نہیں کر سکتا ہے۔ محنت کشوں کے رہنماؤں کی آواز کو دبانے کے لیے طرح طرح کے حربے استعمال کیے جاتے ہیں۔ ان کو خریدنے کی کوشش کی جاتی ہے، ان کو ڈرانے کی کوشش کی جاتی ہے،اگر وہ ڈرنے، جھکنے اور بکنے سے انکار کریں تو ان کو قتل کر دیا جاتا ہے یا جیلوں میں بند کر دیا جاتا ہے۔ محنت کش طبقہ سرمایہ دارانہ ریاست کے ان اداروں کے ذریعے اپنی حاکمیت قائم نہیں کرتا بلکہ ان کو انقلاب کے ذریعے توڑ کر آگے بڑھتا ہے۔ حکمران طبقہ محنت کشوں کی آواز کو دبانے کی لیے جو کچھ بھی کر لے، محکوموں اور مظلوموں کی جدوجہد نہیں رکتی ہے۔ وہ کمزور پڑھ سکتی ہے، کبھی آہستہ ہو سکتی ہے مگر حکمران طبقے کے خلاف محنت کشوں کے دلوں میں نفرت کی چنگاری ہمیشہ سلگتی رہتی ہے۔ محنت کشوں کا اتحاد اس چنگاری کو اس آگ میں بدل دیتا ہے، جو اس استحصالی نظام کو جلا کر راکھ کر دیتی ہے، جس کے ذریعے مٹھی بھر جاگیر داروں، سرمایہ داروں، ججوں اور جرنیلوں کا رعب، دبدبا اور حاکمیت قائم ہے۔ یہ حکمران علی وزیر کو تو گرفتار کر سکتے ہیں لیکن انقلابی سوشلزم کے ان نظریات کو نہیں گرفتار کر سکتے جنہوں نے علی وزیر کو اتنا مضبوط اور طاقت ور بنایا ہے، جس سے خوفزدہ حکمرانوں کو اس کی آواز کو دبانے کے لیے اسے سلاخوں کے پیچھے رکھنا پڑھ رہا ہے۔ حکمرانوں کویہ معلوم نہیں کہ علی وزیر نے انقلاب کی جو شمع روشن کی ہے وہ بجھنے والی نہیں ہے جب تک سرخ سویرا نہیں ہوتا۔

دبا سکو تو صدا دبا دو
بجھا سکو تو دیا بجھا دو
صدا دبے گی تو حشر ہو گا
دیا بجھے گا تو سحر ہو گی