تاریخ

مارکس کے آخری سال: تازہ سوانح عمری میں دلچسپ انکشافات

بیری ہیلی

ترجمہ: فاروق سلہریا

نام کتاب: The Last Years of Karl Marx: An Intellectual Biography

مصنف: مارسیلو مستو (Marcello Musto)

ناشر: سٹینفورڈ یونیورسٹی پریس

کارل مارکس نے 1883ء میں وفات پائی۔ مارکس پر لکھی گئی بیس سے زائد سوانح عمریوں میں یہی دعویٰ دہرایا گیا ہے کہ زندگی کے آخری چند سال مارکس نے موت کے انتظار میں خاموشی سے، بغیر کسی بڑی سرگرمی کے گزار دئیے۔

اس میں شک نہیں کہ مارکس زندگی کے آخری سالوں میں بیماریوں کا شکار رہا۔ صحت بھی بگڑ چکی تھی۔ گھریلو پریشانیاں الگ سے تھیں۔ ایسے میں یہ تصور کرنا کہ مارکس نے یہ چند سال خاموشی اور تنہائی میں گزارے تو ایسا بے جا نہیں۔

1933ء میں شائع ہونے والی، انتہائی مستند سوانح عمری ’کارل مارکس: مین اینڈ فائٹر‘ میں بورس نکولائیوسکی اور اوٹو مینچن ہیلفن نے دعویٰ کیا تھا کہ 1873ء میں بیماری کا شکار ہونے کے بعد ”مارکس کبھی اس تندہی کے ساتھ کام نہ کر سکا جیسا وہ ماضی میں کرتا تھا“۔

ان کے بقول مارکس ”ہمیشہ کی طرح ان آخری سالوں میں بھی بے شمار کتابیں پڑھتا رہا، جو کتابیں پڑھتا ان سے نوٹس تیار کرتا، مواد جمع کرتا رہا مگر اس میں اب یہ صلاحیت نہیں رہ گئی تھی کہ ا س مواد کو منظم بھی کرتا“۔

حال ہی میں شائع ہونے والی بعض سوانح عمریاں مثلاً میری گبرئیل کی تحریر کردہ ’کارل مارکس: اے نائنٹینتھ سنچری لائف‘ مارکس کے آخری سالوں پر زیادہ روشنی نہیں ڈالتی البتہ وہ ان سالوں بارے دعویٰ یہی کرتی ہے کہ مارکس زیادہ متحرک نہیں رہا۔ گو کیون اینڈرسن کی تصنیف ’مارکس ایٹ دی مارجنز‘ اس بابت تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے کہ مارکس کے آخری چند سالوں میں اس کی سوچ اور فکر میں کس طرح کا ارتقا ہوا مگر مارکس کی ذاتی زندگی پر زیادہ روشنی نہیں ڈالی گئی۔

مارسیلو مستو کی لکھی مختصر سی سوانح حیات، جو چار ابواب پر مشتمل ہے، اس کمی کو پورا کرتی ہے۔ اور کیا خوب طریقے سے کرتی ہے!

مارسیلو نے اس کتاب میں مارکس کے آخری چند سالوں میں مارکس کی سیاسی سرگرمیوں، خط و کتابت، ذاتی زندگی، بیماری، رنج و الم، سفر…گویا ہر پہلو کا احاطہ کیا ہے۔ یہ سچ ہے کہ مارکس نے آخری چند سالوں میں ایسی کوئی تحریر شائع نہیں کی جسے نتیجہ خیز کہا جا سکتا ہے مگر وہ سماجی حالات اور دیگر موضوعات پر تحقیق کرتا رہا۔ مارکس کی وفات کے بعد فریڈرک اینگلز اور ایلینور مارکس (بیٹی: مترجم) کے سامنے ہاتھ سے لکھے نوٹس کا ایک انبار تھا جس کی دونوں نے جانچ پڑتال کرنا تھی۔

انہی نوٹس کی مدد سے اینگلز نے ’سرمایہ‘ کی دوسری اور تیسری جلدیں ترتیب دیں۔ اسی طرح ’خاندان، ذاتی ملکیت اور ریاست‘ میں شامل مشہور و معروف حصہ ’فطرت کی جدلیات‘ بھی انہی نوٹس کا مرہون منت ہے۔ یہ سب نوٹس اب میگا ٹو پراجیکٹ (Marx-Engels Collected Works Project) کی شکل میں تمام قارئین کے لئے دستیاب ہیں۔

ان چند سالوں میں مارکس نے متنوع موضوعات کا مطالعہ کیا اور نوٹس بنائے۔ ان موضوعات میں زراعت، فزیالوجی، طبیعات اور کیمیا بھی شامل ہیں۔ بیماری نے جب ذہن کو دھندلا دیا تو مارکس نے ریاضی میں دلچسپی لینا شروع کر دی۔اسی دلچسپی کے نتیجے میں مارکس کا ’Mathematical Manuscript‘ سامنے آیا۔

مارکس نے علم بشریات کا بھی مطالعہ کیا۔ ’Ethnological Notebook‘اسی مطالعے کا نتیجہ ہے (اینگلز نے بھی یہ تحریریں مستعار لیں)۔ جدید و قدیم تاریخ پر بھی تحقیق کی، بینکنگ نظام کا مطالعہ کیا۔ ان عرق ریزیوں کا نتیجہ ’Chronological Extracts‘ کی شکل میں شائع ہوا۔ اس تصنیف میں، بقول مستو، مارکس نے ”سال بہ سال ہونے والے عالمی واقعات کی فہرست تیار کی۔ اس فہرست کا آغاز پہلی صدی عیسوی سے ہوتا ہے۔ ان واقعات کے اسباب اور اہم خصوصیات پر حاشئے لکھے ہیں“۔

دریں اثنا، مارکس دنیا بھر میں مزدور تنظیموں اور رہنماؤں سے خط و کتابت میں بھی مصروف رہا۔ پیری کی جانب مائل ایک اٹل انقلابی اس سے زیادہ اور کیا کرتا؟

’سرمایہ‘ کا جرمن ایڈیشن 1881ء تک بک چکا تھا۔ ناشر اس کا نیا اصلاح شدہ ایڈیشن شائع کرنا چاہتا تھا مگر مارکس اس پر کام نہ کر سکا۔ مستو کے بقول اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ مارکس کی اہلیہ جینی بیماری کا شکار تھی۔ 1880ء کی دہائی میں اٹھنے والی برطانوی مزدور تحریک پر بھی مارکس نظر رکھے ہوئے تھا۔ امریکی سرمایہ داری کے ارتقا میں بھی دلچسپی لے رہا تھا۔ ان سب مشاہدات سے نتائج اخذ کرتے ہوئے مارکس کی فکر بھی ارتقا پذیر تھی۔

نئے حقائق کی روشنی میں مارکس اپنے نظریات کی از سر نو تشکیل پر ہمہ وقت تیار رہتا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کٹر قسم کا انقلابی نہیں تھا۔ مستو کے خیال میں مارکس کے بعد آنے والے مارکس وادیوں میں یہ خاصیت دیکھنے کو نہیں ملی۔ سوچ میں لچک کی غالباً بہترین مثال وہ جوابی خط ہے جو مارکس نے روسی انقلابی ویرازاسولچ کو لکھا۔ ویرا نے 1881ء میں مارکس کو خط لکھا اور اس خط میں ویرا نے روسی کسان طبقے کے دیہی کمیون (ایک طرح کی پنچائت: مترجم) بارے مارکس کی رائے مانگی۔ ویرا جاننا چاہتی تھی کہ کیا روسی انقلابی کسانوں کو منظم کرنے کی کوشش کریں یا مزدور طبقے میں ہی کام کریں جو حجم میں اس وقت بہت چھوٹا تھا۔

مارکس نے اس سوال کو بہت سنجیدگی سے لیا۔ جواب میں مارکس نے کئی مسودے لکھے۔ روسی زبان سیکھنے کی کوشش کی تاکہ روسی اعداد و شمار پڑھ سکے۔ روسی ناول پڑھے تا کہ روسی ثقافت کو سمجھ سکے۔ ویرا کو جواب دیتے ہوئے مارکس نے لکھا کہ سرمایہ داری بارے جو جائزہ اس نے پیش کیا ہے لازمی نہیں اس کا اطلاق روس پر بھی ہو۔ روسی کسانوں کی مشترکہ ملکیت بارے مارکس نے لکھا ”میں نے جو خصوصی مطالعہ کیا ہے اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ کمیون روسی سماج میں وہ نقطہ ہے جہاں سے اس کی تخلیق نو ہوتی ہے“۔

روسی پاپولسٹ نکولائی میخالوسکی کے نام بھی مارکس نے ایک خط لکھا جس میں مارکس نے کہا کہ ”مختلف تاریخی پس منظر میں رونما ہونے والے واقعات میں بظاہر حیران کن مماثلت پائی جا سکتی ہے“ مگر ”عموماً ”ان کے نتائج انتہائی مختلف نکلتے ہیں“۔ مارکس کا یہ تجزیہ ایک طرح سے ’ناہموار اور مشترکہ ترقی‘ (Combined and Uneven Development) والی تھیوری کا ابتدائی خاکہ تھا۔ ’ناہموار اور مشترکہ ترقی‘ کی تھیوری کے مطابق عالمی واقعات مثلاً جنگ یا معاشی بحران انتہائی دور رس تبدیلیوں کا موجب بن سکتے ہیں۔

1882ء میں مارکس نے الجزائر کا دورہ کیا۔ مستو نے اس سفر کی تفصیل بیان کی ہے۔ سفر کا مقصد تو تھا کہ مارکس کی صحت تھوڑی بحال ہو جائے۔ ایک مقصد یہ بھی تھا کہ مارکس عربوں میں زمینی ملکیت کے سوال کا مشاہدہ کرنا چاہتا تھا۔ الجزائر میں قیام کے دوران البتہ مارکس مسلسل بیماری کے ہاتھوں نقاہت کا شکار رہا۔ اس نے کچھ سماجی رواجوں پر تحقیق کی۔ کلونیل پولیس کے نسل پرستانہ رویے کا مشاہدہ کیا۔ کچھ پر مزاح خطوط گھر ارسال کئے۔ ان خطوط میں اس نے بتایا کہ کہ گرمی کی وجہ سے اس نے داڑھی اور سر کے بال چھوٹے کروا لئے ہیں۔ پھر دھیرے سے مارکس نے برطانیہ واپسی کا رخ کیا۔ واپس پہنچا تو یہ المناک حادثہ انتظار کر رہا تھا کہ بیٹی کینسر سے فوت ہو گئی۔ اس سانحے کے کچھ عرصہ بعد ایک دن مارکس بھی خاموشی سے اس دنیا سے رخصت ہو گیا۔

مستو نے جس طرح مارکس کی ذاتی زندگی اور دانشورانہ کاوشوں کو یکجا کر دیا ہے اس کے نتیجے میں یہ کتاب پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ مستو کی دلیل یہ ہے کہ مارکس کے نظریات کو کسی لگے بندھے کلئے تک محدود نہیں کیا جا سکتا بلکہ اس کے خیالات متنوع اور متحرک ہیں۔ کتاب میں اگر کوئی کمی ہے تو یہ ہے کہ زالوجسٹ ایڈون رے لینکسٹر، جو ایک سوشلسٹ تھا، کے ساتھ مارکس کے دانشوارانہ مکالموں کی زیادہ تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔ اس کا ذکر ضرور موجود ہے۔ ہاں البتہ جان بیلمی فوسٹر کی کتاب ’دی ریٹرن آف نیچر‘ میں اس موضوع پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے۔ فوسٹر کا کہنا ہے دونوں کے مابین مکالمہ اور خیالات کاباہمی تبادلہ مارکس کی تحریروں میں ماحولیات کی اہمیت کو سمجھنے کے لئے انتہائی ضروری ہے۔ درحقیقت مارکس کا فلسفہ سماجی انقلاب ہی نہیں ماحولیاتی انقلاب کا بھی فلسفہ ہے۔

اس کمی کو چھوڑ کر، یہ کتاب قابل تحسین ہے۔ پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ اس کتاب سے یہ سبق بھی ملتا ہے کہ مارکسزم کو کسی کٹرمعاشی فارمولے تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے برعکس، بقول مستو، مارکس نے ”مخصوص تاریخی حالات کا جائزہ لیا، ان متنوع امکانات کو ذہن میں رکھا جو وقت کے ساتھ ساتھ پیدا ہوتے ہیں اور وہ اس بات کا قائل رہا کہ حقیقت کو انسانی جدوجہد سے بدل کر تبدیلی لائی جا سکتی ہے“۔

بشکریہ: گرین لیفٹ (آسٹریلیا سے شائع ہونے والا مارکسی جریدہ)