خبریں/تبصرے

طالبان نے ایسے ٹیلی ڈراموں پر پابندی لگا دی جن میں خواتین ہوں گی

کابل (یاسمین افغان) طالبان حکومت کی وزارت برائے ’امر بالمعروف و نہی عن المنکر‘ (نیکیوں کو پھیلانے اور برائی کی روک تھام) نے افغانستان میں میڈیا کیلئے نئی گائیڈ لائن جاری کی ہے اور مقامی میڈیا سے کہا گیا ہے کہ وہ نئی پالیسیوں پر عمل کریں۔

ٹی وی چینلوں پر ایسی فلمیں نشر کرنے پر پابندی ہے جو شریعت اور افغان اقدار کے خلاف ہوں، یا افغان معاشرے میں غیر ملکی ثقافت کو فروغ دیں۔ طالبان کے مطابق ایسی فلمیں معاشرے میں بے حیائی کا باعث بنیں گی۔

طالبان نے ایک اور حکم نامے میں ایسے ڈراموں اور پروگراموں پر بھی پابندی لگا دی ہے جن میں خواتین اداکارائیں شامل ہوں۔ تفریحی صنعت کئی دہائیوں کے بعد افغانستان کے روایتی معاشرے میں قدم جما رہی تھی۔ ہر سال نئی خواتین گلوکاروں کو متعارف کرایا جا رہا تھا، ماڈلنگ ایجنسیاں بنائی گئیں اور مقامی ٹیلی ویژن چینل ڈرامہ پروڈکشن میں سرمایہ کاری کر رہے تھے۔ اگرچہ زیادہ تر ٹیلی ویژن چینل ترکی اور بھارت کے ڈرامے نشر کر رہے تھے لیکن مقامی تفریحی صنعت مقابلے کے باوجود اپنے قدم جمانے کی کوشش کر رہی تھی۔

کابل کے رہائشی ’ہوسئی‘(فرضی نام) نے مایوسی اور غصے کی حالت میں مجھے بتایا کہ ”طالبان کی ساری لڑائی اور حکمت عملی افغان خواتین کے خلاف ہے۔“

ان کی دوست نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ ”افغان خواتین سب سے مضبوط ہیں اور جب سے طالبان دوبارہ اقتدار میں آئے ہیں، خواتین سب سے آگے ہیں اور ان کے خلاف احتجاج کر رہی ہیں۔“

ہوسئی نے مزید کہاکہ ”طالبان افغان خواتین سے خوفزدہ ہیں اور اسی لیے ان کی پوری حکمت عملی ہمیں کمزور کرنا ہے لیکن ہمیں اپنے حقوق کے لیے لڑنے سے کوئی چیز نہیں روک سکتی۔“

ایک اور خاتون نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ”وہ میڈیا میں خواتین پر پابندی لگانا چاہتے ہیں اور اس طرح خواتین معاشرے میں نظر نہیں آئیں گی کیونکہ وہ پہلے ہی دیگر شعبوں میں خواتین پر پابندی لگا چکے ہیں۔ طالبان مردوں کے زیر تسلط معاشرہ یا پدرانہ نظام قائم کرنا چاہتے ہیں، جہاں فیصلہ کرنے والے صرف مرد ہوں۔“

کابل کے ایک رہائشی وقاص نے مجھے بتایاکہ ”افغانستان ایک روایتی معاشرہ ہے۔ طالبان کے اقتدار میں آنے سے بہت پہلے ہم مسلمان تھے اور ہم نے کبھی بھی مقامی ٹیلی ویژن پر کوئی ایسی چیز نہیں دیکھی جسے بے ہودہ کہا جا سکے۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ اس کا کیا مطلب ہے کہ ایسے پروگرام نشر نہ کئے جائیں جو شریعت کے اصولوں کے خلاف ہوں۔“

کابل میں احمد شاہ بابا مینا کے رہائشی ابراہیم (فرضی نام) نے بتایاکہ ”وہ پہلے ہی مقامی ٹی وی اور ریڈیو چینلوں پر موسیقی پر پابندی لگا چکے ہیں۔ اب وہ ہر طرح کی انٹرٹینمنٹ پر پابندی لگانا چاہتے ہیں۔ کیا افغان واقعی اکیسویں صدی میں رہ رہے ہیں؟“

کابل کے ایک رہائشی نے، جن کی عمر پچاس سا سے تھوڑی اوپر ہے، اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر مجھے بتایاکہ ”اپنے پہلے دورِ حکومت میں طالبان کسی کو بھی فلمیں دیکھنے یا موسیقی سننے پر مارا پیٹا کرتے تھے اور ان کی تذلیل کرتے تھے لیکن لوگوں نے ان کے خلاف کھڑے ہونے کا ایک راستہ تلاش کر لیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ افغانستان میں فلموں پر پابندی کے باوجود ٹائی ٹینک فلم اتنی دیکھی گئی کہ کابل کی ایک مارکیٹ کا نام ٹائی ٹینک مارکیٹ رکھ دیا گیا۔ بازار میں ہر چیز ٹائی ٹینک کے نام سے بکتی تھی، حتیٰ کہ سبزیاں بھی ٹائی ٹینک آلو، پیاز، بند گوبھی وغیرہ کے نام سے فروخت ہوتی تھیں۔“

یہ خواتین کے خلاف پہلا حکم نہیں ہے، طالبان کی اقتدار میں واپسی کے ابتدائی دنوں میں قندھار صوبے میں موسیقی اور خواتین کی آوازوں کی نشریات پر پابندی لگا دی گئی تھی۔

کابل کی ایک رہائشی فاطمہ نے مجھے بتایاکہ ”طالبان اپنے سخت قوانین دوبارہ نافذ کر رہے ہیں۔ طالبان آہستہ آہستہ اور حکمت عملی کے ساتھ کابل میں خواتین کو نشانہ بنا رہے ہیں لیکن ملک کے دیگر حصوں میں خواتین پہلے ہی گھروں تک محدود ہیں اور خواتین کی آوازوں کو ٹی وی یا ریڈیو چینلوں پر نشر کرنے پر بھی پابندی ہے۔“

ماکروریان کے علاقے سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون ٹیچر نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایاکہ ”اہل خانہ شام کو ڈرامے دیکھنے کے لیے جمع ہوتے تھے لیکن اب طالبان نے یہ سہولت ہم سے چھین لی۔“

اتوار کو جاری ہونے والی نئی گائیڈ لائن میں آٹھ نکاتی ضوابط متعارف کرائے گئے ہیں۔ گائیڈ لائن کے مطابق خواتین صحافی کام کر سکتی ہیں لیکن انہیں اسلامی حجاب کی پابندی کرنی چاہیے، کامیڈی اور انٹرٹینمنٹ کو کسی کی تذلیل یا توہین کے لیے نہیں بنایا جانا چاہیے، مردوں کے پرائیویٹ پارٹس کو ظاہر کرنے والی ویڈیوز کو نشر نہیں کیا جانا چاہیے۔

15 اگست 2021ء کو طالبان کے قبضے کے بعد سے سنسر شپ کے بڑھتے ہوئے خدشات کے ساتھ افغانستان میں میڈیا کا منظرنامہ یکسر تبدیل ہو گیا ہے، 150 سے زیادہ میڈیا آؤٹ لیٹس بند ہیں، خواتین صحافیوں کی موجودگی ہر گزرتے دن کے ساتھ کم ہوتی جا رہی ہے اور صحافیوں کو تشددکا نشانہ بنایا اور گرفتار کیا جا رہا ہے۔