خبریں/تبصرے

افغانستان میں خواتین کی طالبان نواز ریلیوں اور اجلاسوں کا جبری طور پر انعقاد

کابل (یاسمین افغان) گزشتہ 2 دنوں میں کابل اور مزار شہر میں کچھ طالبان نواز خواتین کے مظاہرے ہوئے ہیں۔ یہ طالبان نواز خواتین شرعی قانون پر عملدرآمد چاہتی تھیں اور افغانستان میں طالبان حکومت کی حمایت میں نعرے لگاتے ہوئے نظر آرہی تھیں۔ یہ خبر بھی سامنے آئی کہ کابل کی ایجوکیشن یونیورسٹی کی طالباب نے طالبان کے حق میں اجلاس منعقد کیا ہے۔

خبر ہے کہ یونیورسٹی کی طالبات کو کالے برقعے پہن کر لیکچر ہال میں بیٹھنے پر مجبور کیا گیا اور انہیں دھمکی دی گئی کہ اگر وہ اس کی تعمیل نہیں کریں گی تو انہیں یونیورسٹی سے نکال دیا جائے گا اور ہمیشہ کیلئے پابندی لگا دی جائیگی۔

سامنے آنے والی تصاویر میں کالے برقعے پہننے اور کالے دستانے پہنے خواتین نظر آتی ہیں۔ کچھ نے نیلے رنگ کا برقعہ پہنا ہوا تھا، یہاں تک کہ بہت کم عمر لڑکیاں بھی موجود تھیں جو واضح طور پر یونیورسٹی کی طالبات نہیں تھیں۔

افغانستان کے کچھ سوشل میڈیا صارفین نے اس شک کا اظہار بھی کیا ہے کہ ان کالے برقعوں کے پیچھے طالبان جنگجو تھے کیونکہ یہ پہلی بار نہیں ہے کہ طالبان جنگجوؤں نے برقعہ اور خواتین کے کپڑے استعمال کئے ہوں۔

افغانستان پر طالبان کے قبضے کے بعد سے ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والی افغان خواتین نے افغانستان کے بڑے شہروں کی سڑکوں پر کمر بستہ ہو کر طالبان کے خلاف احتجاج کیا اور حقوق اور اظہار رائے کی آزادی کامطالبہ کیا۔ تاہم اب ان مظاہروں پر پابندی لگا دی گئی ہے۔

ان طالبان نواز ریلیوں کے ذریعے طالبان یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ افغان خواتین ایک شریعت پر مبنی حکومت کی حمایت کرتی ہیں اور یہ بھی کہ طالبان جلسوں کے خلاف نہیں ہیں۔ حقیقت میں افغان عوام اور خاص طور پر خواتین کے حقوق کی کارکنوں نے ان جلسوں سے لاتعلقی اختیار کی ہے۔ افغان خواتین کارکنوں کا خیال ہے کہ طالبان اس بیانیے کو نافذ کرنا چاہتے ہیں کہ افغان خواتین کی اکثریت ان کی جابرانہ حکومت کے تحت خوش ہے۔ تاہم جلد یا بدیر افغان خواتین سڑکوں پر واپس آئیں گی اور اپنے حقوق کا دوبارہ مطالبہ کریں گی۔

طالبان کے حق میں ریلیوں کا انعقاد دراصل طالبان کی قیادت نے کروایا تھا اور یہ اس کے برعکس ہے جو کچھ طالبان کے سپاہیوں کو تربیت دینے اور برین واش کرنے کے دوران بتایا گیا ہے۔ طالبان سپاہی خواتین کی ریلیوں کو اقدار کے خلاف سمجھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ خواتین کو گھروں کی چاردیواری کے اندر رہنا چاہیے اور کسی قسمکی سیاسی نقل و حرکت نہیں کرنی چاہیے۔ ان طالبان نواز ریلیوں کے جاریرہنے سے جلد ہی طالبان سپاہیوں پر اثرات پڑیں گے اوروہ اپنی قیادت کے خلاف مزاحمت کا مظاہرہ کرینگے۔