خبریں/تبصرے

باجوڑ میں قاری الیاس کے قتل کے خلاف ہونے والا دو روزہ دھرنا ختم

لاہور (جدوجہد رپورٹ) پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع باجوڑ میں 2 روز سے جاری احتجاجی دھرنا حکومت کی 10 روز میں قاتلوں کو گرفتار کرنے کی یقین دہانی کے بعد ختم کر دیا گیا ہے۔ حکومت نے دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرنے اور سوگوار خاندان کیلئے پیکیج کا اعلان بھی کیا ہے۔

22 نومبر کو باجوڑ کے علاقے خار میں جمعیت علما اسلام فضل الرحمان گروپ (جے یو آئی ف) کے مقامی رہنما قاری الیاس کو نامعلوم افراد نے گولی مار کر قتل کر دیا تھا۔ جے یو آئی ف کے کارکنوں اور شہریوں نے قاری الیاس کی لاش سڑک پر رکھ کر احتجاج کا سلسلہ شروع کر دیا تھا۔

خار میں سول کالونی اور سرکاری دفاتر بند تھے تاجروں نے شٹر ڈاؤن ہڑتال کر لی تھی اور باجوڑ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن نے بھی عدالتی بائیکاٹ کر دیا تھا۔ گزشتہ روز کوئی وکیل عدالت پیش نہیں ہوا۔ دو روز تک جاری رہنے والے دھرنے میں ہزاروں مرد و خواتین نے سیاہ پرچم اٹھا کر شرکت کی۔ سوشل میڈیا پر بھی قاری الیاس کے قتل کے خلاف احتجاج کیا گیا اور قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا گیا۔

یاد رہے کہ قاری الیاس کے بڑے بھائی مفتی سلطان محمد کو بھی دو سال قبل قتل کر دیا گیا تھا۔ مفتی سلطان محمدخیبرپختونخوا اسمبلی کے رکن بھی رہ چکے تھے۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ دو سال گزرنے کے باوجود پولیس قاتلوں کو گرفتار نہیں کر سکی۔

پولیس نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے چند مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔