خبریں/تبصرے

حکمران تو عاصمہ جہانگیر کے نام پر کانفرنس سے بھی خوف کھانے لگے (آخری قسط)

فاروق طارق

عاصمہ جہانگیر میموریل کانفرنس 21 کی تعریفوں اور تنقیدوں کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ جاری ہے۔ شائد ہی ایک اِن ڈور کانفرنس پر اس قدر تبصرے، ٹی وی پروگرام، اخباری کالم، ٹویٹر پیغامات، حکومتی الزامات اور فیس بک سمیت سوشل میڈیا پر اسکی تصاویر اور مختصر ویڈیوز شیئر ہوئی ہوں۔ دو روزہ عاصمہ جہانگیر کانفرنس نے پاکستان سمیت پاکستانی سیاست میں دلچسپی رکھنے والوں میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔

جو ساتھی تنقید کر رہے ہیں وہ یہ کہہ رہے کہ اس میں بعض ایریاز کی حقیقی نمائندگی نہیں ہوئی۔ خاص طور پر سندھ کے بعض سماجی و سیاسی کارکنان کا خیال ہے کہ کانفرنس نے سندھ کو اہمیت نہ دی۔ کچھ یہ تنقید کر رہے ہیں کہ پنجاب کا غلبہ اس کانفرنس پر نظر آ رہا تھا۔ کچھ کہہ رہے ہیں کہ ایسی کانفرنسیں انقلاب کا پیش خیمہ نہیں ہوتیں جبکہ اس کانفرنس میں علی احمد کرد کی تقریر اس قدر وائرل ہوئی کہ اس کو شیئر کرنے والوں کی تعداد لاکھوں میں جا پہنچی۔

حکومتی وزرا اس کو فارن فنڈڈ قرار دے رہے ہیں اور شیریں مزاری جو پہلی عاصمہ جہانگیر کانفرنس 2018ء میں شریک بھی تھیں اس کا نفرنس پر شیدید تنقید کر رہی ہیں۔ ویسے انہوں نے پہلی عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں ٹھیک ہی کہا تھا کہ ”عاصمہ جہانگیر قبر میں بیٹھی ہنس رہی ہوں گی کہ یہ شیریں مزاری اس کانفرنس میں کیا کر رہی ہے“۔

اس غیر معمولی کانفرنس نے پاکستان بھر میں سماجی و سیاسی کارکنوں کو ایک نئی جلا بھی بخشی ہے۔ کئی کہہ رہے ہیں کہ ایک علی احمد کرد نے حکومتی و جوڈیشری کے بیانئے کو بے نقاب کر کے رکھ دیا ہے۔

اس کانفرنس کے سپیکرز میں زیادہ تر وہ شامل تھے جو کسی نہ کسی وقت ریاستی یا غیر ریاستی جبر کا شکار ہوئے تھے۔ کانفرنس نے ان کو موقع فراہم کر دیا کہ وہ مین سٹریم میڈیا کے سامنے اپنے کیس رکھ سکیں۔ یہ کانفرنس ’Including the Excluded‘ کانفرنس تھی۔

گلگت بلتستان، کشمیر، خیبرپختون خواہ، سرائیکی وسیب، بلوچستان، سندھ اور سنٹرل پنجاب سے وہ افراد شریک ہوئے جو ریاستی تشدد یا انتقامی کارروائیوں کا شکار رہے یا وہ شریک ہوئے جو کھل کر جمہوریت اور آئین کی بالادستی، آزادی تحریر و تقریر اور انسانی حقوق کی بات کرتے ہیں۔ اس دفعہ کی ایک خاص بات پاکستانی دگرگوں معیشت پر دو سیشن بھی تھے جن سے ڈاکٹر قیصر بنگالی اور ڈاکٹر شاہد حفیظ کاردار نے خطاب کیا جبکہ ڈاکٹر حفیظ پاشا نے اسے ماڈریٹ کیا۔ ایسے سیشن بھی تھے جنہیں ڈاکٹر پرویز ہود بھائی نے ماڈریٹ کیا۔

ماڈیریشن اس کانفرنس میں تقریر سے زیادہ اہمیت اختیار کر گئی تھی۔ نسیم زہرہ، اعظم نذیر تارڑ، ضرار کھوڑو، احمد رشید، طارق نقاش، اسامہ خلجی، سلیمہ جہانگیر، ثمینہ احمد، فریدہ شہید، ڈاکٹر حفیظ پاشا، ملیحہ ضیا، راشد رحمان، پرویز ہود بھائی، محمد تحسین، سروپ اعجاز، زاہد حسین، بیرسٹر وقاص میر، سلمان اکرم راجہ، خرم حسین اور ڈاکٹر عمار علی جان بھی مختلف سیشنوں کو ماڈریٹ کرنے والوں میں شامل تھے۔ دو روزہ کانفرنس میں کل 21 سیشن ہوئے۔

یہ سب صرف ایک وجہ سے اکٹھے ہوئے :وہ وجہ تھی عاصمہ جہانگیر کی ساکھ، جسے انہوں نے برسوں کی محنت کے بعد پاکستان کی ہیومن رائٹس چیمپئن کے طورپر مضبوط کیا تھا۔ اکٹھے عاصمہ جہانگیر کی وجہ سے ہوئے مگر جو کچھ کہا وہ عاصمہ کی زندگی بھر جدوجہد کو خراج تحسین تھا۔

جس بات کا ڈر تھا آرگنائزرز کو کہ اگر میاں نواز شریف اور منظور پشتین کے نام بھی مقررین کے طور پر پرنٹڈ ایجنڈا میں شائع کر دئیے تو حکومت کانفرنس کے انعقاد کی شائد اجازت ہی نہ دے۔ مگر یہ ڈر درست ثابت ہوا اور دونوں کے خطاب کو حکومت نے بہت زیادہ سنجیدگی سے لیا اور اب ابتدائی پراپیگنڈا کے بعد انتقامی کارروائیوں کا سلسلہ بھی شروع ہو سکتا ہے، آرگنائزرز کے خلاف، لیکن عاصمہ جہانگیر کی بیٹیوں منیزے جہانگیر اور سلیمہ جہانگیر نے دلیری سے کام لیا اور ان کو آنے کی دعوت دی جن کو میڈیا اور عوام کے سامنے آنے سے سرکاری طور پر روکا جاتا ہے۔ ان کا خیال تھا انہیں غیر سرکاری طور پر بولنے کا پورا موقع ملنا چاہیے۔

کانفرنس کے 21 سیشنوں سے خطاب کرنے والوں میں احسن بھون، خوش دل خان، حامد میر، بھارتی صحافی برکھا دت، ورندا گروور اور جیوتی ملہوترہ، کرسٹائن چنگ (اقوام متحدہ انسانی حقوق کمیشن)، نادر نادرے (افغانستان)، عبداللہ خنجیانی (افغانستان)، افراسیاب خٹک، محسن داوڑ، ثمینہ احمد (انٹرنیشنل کرائسس گروپ)، فوزیہ کوفی (افغانستان)، لطف اللہ نجف زادہ (افغانستان)، افتخار گیلانی (مقبوضہ کشمیر)، محمد رفیق ڈار (جے کے ایل ایف)، نائلہ الطاف کیانی (کشمیر ٹائمز)، ڈاکٹر اطہر ضیا (پروفیسر یونیورسٹی آف نادرن کولوراڈو امریکہ)، نگہت ڈار (ڈیجٹیل رائٹس فاؤنڈیشن)، رخسانہ ناز (پشاور)، خاتون سپنارا (جج برطانیہ فیملی کورٹ)، مہناز اکبر عزیز، ممتاز گوہر، سیما ثمر (افغانستان)، محبوبہ سراج (افغانستان)، شیرزاد اکبر (افغانستان)، روبینہ خالد، پشتانہ درانی (افغانستان)، فرزانہ علی (پشاور)، شگفتہ ملک (اے این پی)، ڈاکٹر فبلہ ایاز، پیٹر جیکب، کلپنا دیوی، آریہ اندرایس، ڈاکٹرنسرین رحمان، ریم اسلاسم (سپیشل رپورٹر اقوام متحدہ)، ندا علی، ماریہ محمود، ولیری خان، فوزیہ وقار، شاہد خاقان عباسی، سید علی ظفر، قمر الزمان کائرہ، صلاح الدین احمد، جلیلہ حیدر، حارث خلیق، لال چند ملی، قمر سلیمان، کلیان سنگھ کلیان، ڈاکٹر صبا خٹک، آکار پیٹل (بھارت ایمنسٹی انٹرنیشنل)، فرحت اللہ بابر، شبیر حسین گیگیانی، امینہ جنجوعہ، سمبل خان، ریما عمر، ندا عثمان، اختر حسین، ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ، تاج حیدر، زاہد خان، بابا جان، ایاز لطیف پلیجو، ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا، علی حسین، ندیم الحق، مزمل کاکڑ، سعدیہ بلوچ، ضیغم عباس، علی عبداللہ، سندھو نواز، بمیحہ آفریدی، مقدس جرال، میاں نواز شریف، عابد ساقی، سلیم ہاشمی، ناصر زیدی اور فاروق طارق شامل تھے۔

کانفرنس کا اختتامی سیشن کافی ہنگامہ خیز رہا۔ نواز شریف جیسے ہی سکرین پر آئے تو غائب ہو گئے۔ ہم دوڑ کر اس جگہ پہنچے جہاں سے کنکشن ہو رہا تھا۔ معلوم ہوا کہ تاریں ہی کاٹ دی گئی ہیں پھر چند منٹوں کے وقفے کے بعد بذریعہ سیٹلائٹ خطاب ہوا۔

کانفرنس میں 1500 سے زیادہ سیاسی و سماجی کارکنوں نے شرکت کی۔ تیسری کانفرنس کے انعقاد میں لاہور کے 200 سے زیادہ طالب علموں نے رضا کارانہ کام کیا اور اس کانفرنس کو لاجواب بنا دیا۔